Tuesday, 23 August 2011

اصولی بات

0 comments


نوجوان کو یوں لگا جیسے اس قتالہ کی جلد ایک شیشہ ہے جس میں تیز گلابی رنگ کی شراب بھر دی گئی ہے۔اس کی غزالی آنکھیں شباب کے نشے میں چور تھیں۔نوجوان پر اس حسین ساحرہ نے ایسا جادو کیا کہ کسی معمول کی طرح اس کے پیچھے چل پڑا فٹ پاتھ پر آگے چلتے ہوئے دونوں باغ جناح کے مقابل پہنچ گئے۔درختوں کے سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے اور گرمی کی شدّت میں کمی آچکی تھی۔
پھولوں سے لدی سدا بہار جھاڑیوں کے ایک کنج کے پاس وہ رکی اور پلٹ کر بڑی بے باکی سے پوچھا :
مال ہے جیب میں یا مفت خورے ہو؟
ایک لمحہ کے لئے نوجوان کا سارا بدن پتھر ہوگیا پھر جیسے ہی سارمعاملہ سمجھ آیا اس کی باچھیں کھل گئیں:
لمبا مال ہے ،تم فکر نہ کرو۔ لیکن چلیں گے کہاں؟ وہ بے تابانہ پوچھنے لگا۔
جواب ملا :جگہ کا بندوبست تمہارا ہوگا۔
ایک جگہ ذہن میں آئی ہے ۔ وہ قدرے توقف کے بعد چٹکی بجاتےہوئے بولا اور سڑک سے گزرتے ہوئے ایک خالی رکشہ کو ہاتھ دے دیا۔
چلو چلیں۔۔۔
پہلے تمہیں ایک وعدہ کرنا ہوگا وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی۔
کیسا وعدہ ؟ نوجوان نے حیرت سے پوچھا۔
افطار تک مجھے ہاتھ نہ لگاؤ گے، میرا رووزہ ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔