Saturday, 27 August 2011

لیلۃ القدر

0 comments

ماہ رمضان رحمتوں اور برکتوں کا سر چشمہ ہے، کثرت عبادت،پابندی صلاۃوصیام،اہتمام قعود وقیام،درود شریف اور اذکار میں انہماک،خیرات وصدقات کی ادائیگی ،اوامربجالانا،نواہی سے اجتناب کرنا،غرضکہ اس مبارک ماہ میں مسلمان صفات ملکوتی کی چادر اوڑھ لیتے ، مجسمۂ خیر بن جاتے ہیں اورطاعت وفرمابرداری انکا شعار ہو جاتا ہے۔

          یقینا یہ ماہ رمضان کا فیضان ہے کہ وہ گنہگار،معصیت شعار انسانوں کوتقوی و طہارت اورعبادت وریاضت کا جامہ پہنا کر انہیں ہم دوش ثریا کردیتا ہے۔    
      امت مسلمہ کو ماہ رمضان نے گناہوں کی بخشش کا سامان فراہم کیا،ساتھ ہی ساتھ نیکیوں کی قدر و قیمت بڑھادی گئی اور اسی کی برکت سے شرح ثواب میں اضافہ کردیا گیا ،  اس ماہ مبارک  میں ایک ایسی مقدس رات بندوںکوعطاکی جاتی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل و بہتر ہے، جسکا نام لیلۃ القدر ہے ۔  شب قدر، شرف و برکت والی رات ہے ،یہ نزول قرآن کریم کی وہ مقدس شب ہے جس میں فرشتوں کا ورود ہوتاہے اور اس شب میں عبادت و طاعت میں مصروف رہنے والے بندگان حق کو ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ثواب عطا ہوتا ہے ارشاد باری تعالی ہے:
لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہْرٍ –
ترجمہ:شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے-( سورۃ القدر:3)

شب قدر کی وجہ تسمیہ:
اس رات کو تین وجوہ کی بناء قدر والی رات کہا جاتاہے۔
 پہلی وجہ:قدر کا معنی ہے عظمت و وقار،یہ لفظ عظمت کے معنی میں اس آیت کریمہ میں مستعمل ہے:وماقدرواللہ حق قدرہ-
ترجمہ:انہوں نے اللہ کی قدر دانی اس کی عظمت کے مطابق نہ کی  (الانعام91) صاحب تفسیر خازن علامہ ابوالحسن علی بن محمد خازن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سمیت لیلۃ القدر لعظم قدرھا و شرفھا علی اللیالی۔
ترجمہ:اس شب کو دیگر راتوں پراس کے تقدس وبزرگی او ر عزوشرف کیوجہ لیلۃ القدرسے موسوم کیا گیا ۔ یہ رات عزوشان،اوروقاروعظمت والی رات ہے ،اسی لئے اسکا نام لیلۃ القدر رکھا گیا۔
 دوسری وجہ :لفظ قدر تقسیم کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو انکے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے نعمتیں تقسیم فرماتاہے، چنانچہ اسے لیلۃالقدر یعنی تقسیم رزق ونعمت والی رات سے موسوم کیا گیا۔
     شب قدر کی توقیر کرنا اور عظمت بجالانااہل ایمان پر لازم ہے،ایک تو اسطرح کہ اس رات کا تقدس و عظمت قلب میں بسائے رکھیں،دوسرے اس طور پر کہ عبادات،اذکاروغیرہ اداکرتے رہیں، اور ممنوعات و محظورات سے پر ہیز کریں،شب قدر کا تقدس برقرار رکھنے والے بندے یقینا رب قدیرکی ظاہری وباطنی نعمتوں کے حقدار بنینگے،وسمیت بذلک لان العمل الصالح یکون فیھا ذا قدر عند اللہ لکونہ مقبولا(تفسیر خازن،القدر1)
ترجمہ:اوراس شب بندہ کا نیک عمل بارگاہ الہیٰ میں مقبولیت کے سبب بڑی قدر والا ہوجاتاہے ۔ تیسری وجہ :قدر تنگی کو کہتے ہیں،اس رات فرشتے بڑی تعداد میں زمین پر آتے ہیں ،جسکی وجہ سے زمیں تنگ ہو جا تی ہے ،چنانچہ صاحب تفسیر خازن لکھتے ہیں: سمیت بذلک لان الارض تضیق بالملائکۃ فیھا-ترجمہ:لفظ قدر تنگی کے معنی میں کلام الہی میں مستعمل ہے :ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ (الطلاق 7)
ترجمہ:اورجس پر اس کا رزق تنگ کردیا گیا وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اسے اللہ نے عطاکیاہے۔

 شب قدر کی خصوصیات
     اس رات کی متعدد خاصیتیں ہیں ،مگر قرآن شریف میں پانچ خاصیتیں مذکورہیں(1)اس رات میں نزول قرآن ہوا(2)یہ رات ہزار مہینوںسے افضل ہے(3)اس رات میں فرشتے زمین پر آتے ہیں(4)حضرت جبریل کی آمد ہوتی ہے(6)صبح صادق تک بندوں پر سلامتی کا نزول ہوتا ہے۔ شب قدر کی اہمیت اور فضیلت و برکت اس امر سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکمل ایک سورہ اسکی شان میں نازل فرمایا-

شب قدر کا تعین
اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اولین وآخرین کے تمام علوم عطا فرمائے ہیں، منجملہ ان کے آپ کو شب قدر کی تاریخ  کا بھی علم عطا فرمادیا ،چنانچہ زجاجۃ المصابیح میں امام مالک اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما کے حوالہ سے روایت درج ہے:
عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم انی رایت ہذہ اللیلۃ فی رمضان فتلاحی رجلان فرفعت، رواہ مالک والشافعی و ابو عوانۃ۔
  ترجمہ:ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اس رات کو (یعنی شب قدر کو) رمضان میں دیکھا لیکن جب دو آدمیوں نے آپس میں جھگڑا کیا  تو شب قدر کا تعین اٹھالیا گیا۔

اخیر عشرہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اہتما م
صحیح مسلم شریف میں حدیث مبارک ہے:عن عائشۃ رضی اللہ عنہا  قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَجْتَہِدُ فِی الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مَا لاَ یَجْتَہِدُ فِی غَیْرِہِ.
ترجمہ:ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ  حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم (رمضان کے) آخری عشرے میں عبادت کرنے میں جس قدر جدوجہد فرماتے اتنی جدوجہد دوسرے دنوں میں نہیں فرماتے-(صحیح مسلم شریف،کتاب الاعتکاف ، باب الاجتہاد فی العشر الأواخر من شہر رمضان. حدیث نمبر(2845)
صحیح بخاری و مسلم میں حدیث مبارک ہے:عَنْ عَائِشَۃَ - رضی اللہ عنہا - قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ - صلی اللہ علیہ وسلم - إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَہُ ، وَأَحْیَا لَیْلَہُ ، وَأَیْقَظَ أَہْلَہُ .
ترجمہ:ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ  رمضان المبارک کا جب آخری عشرہ شروع ہوجاتا ہے تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کمربستہ ہوکر ہمیشہ سے زائد عبادت میں مشغول ہوجاتے ہیں اور شب بیدار رہتے (اور نوافل ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن فرماتے رہتے) اور اپنے گھر والوں کو (بھی ان راتوں میں) جگا دیتے (تاکہ وہ بھی شب بیدار رہ کر آخری عشرہ کی برکتیں حاصل کریں)۔(صحیح بخاری،باب الْعَمَلِ فِی الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ . حدیث نمبر 2024-صحیح مسلم، باب الاجتہاد فی العشر الأواخر من شہر رمضان. حدیث نمبر 2844)

 شب قدر کی فضیلت:
سنن ابن ماجہ میں حدیث پاک ہے:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ دَخَلَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -صلی اللہ علیہ وسلم-  إِنَّ ہَذَا الشَّہْرَ قَدْ حَضَرَکُمْ وَفِیہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہْرٍ مَنْ حُرِمَہَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَیْرَ کُلَّہُ وَلاَ یُحْرَمُ خَیْرَہَا إِلاَّ مَحْرُومٌ-
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے  فرمایا  کہ رمضان کا مہینہ شروع ہواتو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس سے محروم رہا وہ ہر چیز سے محروم رہا اور اس کی خیر سے وہی محروم ہوگا جومکمل محروم ہے۔(سنن ابن ماجہ،کتاب الصیام باب ماجاء فی فضل شھر رمضان ،حدیث نمبر(1634)
بیہقی شعب الایمان،مشکوۃ المصابیح اور زجاجۃ المصابیح میں حدیث مبارک ہے:
عن سلمان الفارسی ، قال : خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی آخر یوم من شعبان فقال :  یا أیہا الناس قد أظلکم شہر عظیم ، شہر مبارک ، شہر فیہ لیلۃ خیر من ألف شہر-
ترجمہ:حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر دن وعظ میں ارشاد فرمایا: ائے لوگو! تم پر ایک عظمت والا بابرکت مہینہ سایہ فگن ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے-(بیہقی شعب الایمان،کتاب فضائل شھر رمضان ، حدیث نمب( 3455)

شب قدر میں ملائکہ کا نزول
 بیہقی شعب الایمان،مشکوۃ المصابیح اور زجاجۃ المصابیح میں حدیث مبارک ہے:
عن أنس بن مالک ، قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : إذا کان لیلۃ القدر نزل جبریل علیہ السلام فی کبکبۃ  من الملائکۃ یصلون علی کل عبد قائم أو قاعد یذکر اللہ عز وجل-
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب شب قدر ہوتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کی ایک جماعت کو لے کر (زمین پر) اترتے ہیں اور ہر اس بندہ پر جو کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر اللہ کی یاد (اور عبادت) میں مشغول رہتا ہو دعائے مغفرت کرتے ہیں-(بیہقی شعب الایمان،کتاب فی لیلۃ العیدین ویومہما، حدیث نمبر : (3562)
     حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شب قدر آتی ہے تو اللہ تعالی جبریل امین کو حکم فرماتا ہے ،تو وہ  فرشتوں کی ایک عظیم  جماعت کے ہمراہ زمین پر اترتے ہیں،ان کے ساتھ سبز جھنڈا ہوتا ہے جسے خانہ کعبہ پر نصب کیا جاتا ہے-
اور جبریل امین (علیہ السلام ) کو سو( 100) پر ہیں ،جن میں دو پر  ایسے ہیں جنہیں وہ شب قدر علاوہ کبھی نہیں کھولتے،جب (حضرت )جبریل اس رات  اپنے پروں کوکھولتے ہیں تو مشرق و مغرب ڈھنک جاتے ہیں-پھر (حضرت) جبریل  ،ملائکہ کو  ہر طرف پھیل جانے کو کہتے ہیں، کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر عبادت کرنے والے، نماز پڑھنے والے اور ذکر الہی میں مشغول رہنے والوں کو وہ فرشتے  ،  سلام کرتے ہیں اور ان سے مصافحہ کرتے ہیںان کی دعاؤں پر آمین کہتے رہتے  ہیں یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے-جیسے ہی فجر طلوع ہوتی ہے (حضرت) جبریل  ، ندا دیتے ہیں:ائے فرشتو! واپس چلو! واپس چلو!ملائکہ کہتے ہیں:ائے جبریل !امت محمدیہ علی صاحبھا الصوۃ والسلام  کے مؤمنین کی  ضروریات وحوائج سے متعلق اللہ تعالی نے کیا ،کیا ہے؟(حضرت) جبریل  ، فرماتے ہیں:اس رات اللہ تعالی نے ان  کی جانب نظر رحمت اور توجہ خاص فرمائی، انہیں درگزر فرمادیا،اور ان کے گناہوں کو معاف فرمادیا،سوائے چار افراد کے!حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم !وہ چار افراد کون ہیں؟
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا(1) کثرت سے شراب پینے والا(2)والدین کا نافرمان(3) رشتوں کو توڑنے والا(4) بد عقیدہ-(بیہقی شعب الایمان ،حدیث نمبر(3540)

 شب قدر کے معمولات
اس مقدس رات کی فضیلت وبرکت جاننے کے بعد غفلت میں پڑے رہنا مؤمنین کا شیوہ نہیں،چنانچہ نعمت الہی کاشکر ادا کرنے کی خاطر غسل کرکے عبادات واذکار کا اہتمام کرنا شکر گزار بندوں کا شعار رہا ہے:  قال زر ھی لیلۃ سبع وعشرین فمن ادرکھا فلیغتسل و لیفطر علی لبن و لیکن فطرہ، بالسحر(مصنف عبد الرزاق،باب لیلۃ القدر،حدیث:)ترجمہ:حضرت زربن حبیش رحمہ اللہ نے فرمایا : شب قدر ستائیسویں شب ہے تو جوکوئی اسے پائے چاہئے کہ وہ غسل کرے اور دودھ سے افطار کرے۔

شب قدر میں کی جانے والی دعاء
جامع ترمذی ، مسند امام احمد اور زجاجۃ المصابیح  میں حدیث شریف ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَیُّ لَیْلَۃٍ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِیہَا قَالَ  قُولِی اللَّہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی-
ترجمہ:ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ والہ وسلم : اگر مجھے شب قدر مل جائے تو اس میں، میں کیا دعا پڑھوں؟ توحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: یہ دعا پڑھو:"اللَّہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی"ائے اللہ! تو بہت معاف فرمانے والاہے، اور معافی سے محبت رکھتاہے پس آپ مجھے معاف فرمادے۔(جامع ترمذی،ابواب الدعوات،باب ای الدعاء افضل، حدیث نمبر( 3855)
از ضیاء ملت مولانا مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی قادری دامت برکاتہم العالیہ
 شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔