Monday, 12 September 2011

ٹوٹ بٹوٹ

0 comments
لڑکا
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
باپ تھا اس کا میر سلوٹ
پیتا تھا وہ سوڈا واٹر
کھاتا تھا بادام اخروٹ
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
ہر اک اس کی چیز ادھوری
کبھی نہ کرتا بات وہ پوری
ہنڈیا کو کہتا تھا ہنڈی
لوٹے کو کہتا تھا لوٹ
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
امی بولی بیٹا آؤ
شہر سے جا کر لڈو لاؤ
سنتے ہی وہ لے کر نکلا
جیب میں ایک روپے کا نوٹ
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
اتنا اس کا جی للچایا
رستے میں ہی کھاتا آیا
کھاتے کھاتے آئی ہچکی
دانت میں اس کے لگ گئی چوٹ
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
بھائی اسے اٹھانے آیا
ابا گلے لگانے آیا
امی اس کی روتی آئی
ہائے میرا ٹوٹ بٹوٹ
ہائے میرا ٹوٹ بٹوٹ
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ

شاعر کا  نام : صوفی غلام مصطفی  تبسم

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔