Thursday, 15 September 2011

کابل کے سپوت

0 comments
ہلری کلنٹن چینخ اُٹھی ۔۔۔۔ ہم خوف زدہ نہیں ہونگے۔
اوباما پریشان ۔۔۔اور کرزی منظرنامے سے غائب ہوگئے۔


یہ خوف یہ پریشانی اور یہ حواس باختگی فطری ہے،کیونکہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے دو دن میں اتنے بڑے حملے کئے جس نے وائٹ ہاوس اور پینٹاگون کے مکینوں کی نیندیں حرام کردی۔پہلے صوبہ وردگ میں امریکی فوجی مرکز میں امارت اسلامیہ کے ایک شاہین نے امریکی طلسم کو خاک میں ملادیا،اور اسکے بعد امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے کے کابل کے قلب میں نیٹو ہیڈ کواٹر،امریکی سفارت خانے اور انٹیلی جنس کے دفاتر کو 20گھنٹوں تک اپنے حملوں کی زد میں رکھا۔پورا مغرب اور امریکا خوف زدہ ہوا امریکا میں یہ خوف بہت زیادہ محسوس کیا گیا ہے،کابل میں کٹھ پتلی انتظامیہ کے فوجیوں پولیس اور امریکی فوجیوں نے اپنا پورا زور لگایا مگر ان کی ایک نہ چلی، امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی کاروائی کو آگے بڑھایا اور پورے شہر کی سیکورٹی کو مصروف رکھا،کرزئی کی سیکورٹی کا پول پوری دنیا کے سامنے کھل گیا،کابل شہر سے انتہائی مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے پوری رات قابض افواج اور ان کے حلیفوں پر حملے کئے۔یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس علاقے میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے کٹھ پتلی انتظامیہ اور قابض افواج کے مرکز پر حملہ کیا وہ پورے کابل میں سب اہم سیکورٹی زون میں ہے۔ اس علاقے کی حفاظت پر سب سے زیادہ اہلکار مامور تھے ،مگراُن کی تمام تدابیر خاک میں مل گئے،اور ٹی وی کی سکرین پر نمودار ہونے والے ان کے ا ہلکاروں کی آنکھوں چہروں سے خوف عیان تھا۔شہر میں امریکی سیکورٹی پلان دھرا کادھرا رہ گیا،اور نائن الیون کی تقاریب پر راست جواب سامنے آیا۔امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے جہاں نائن الیون پر امریکا کو یہ پیغام دیا کہ دس سال قبل رونما ہونے والے واقعے میں وہ کسی بھی طور پر ملوث نہیں تھے،ساتھ ساتھ انہوں نے پوری دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ افغانستان میں جہا ں چاہیں قابض افواج کی نیندیں حرام کرسکتے ہیں،دوسری جانب ساسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کابل پر ہونے والے حالیہ اس حملے نے مغربی حکام کو یہ بتا دیا کہ طالبان اب کابل میں بہت زیادہ مضبوط ہوگئے ہیں،کابل کے دروازے وردگ میں طالبان کے اثرونفوذ کسی سے مخفی نہیں اور اب دارالحکومت کابل میں حالیہ کاروائیوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ طالبان ہر جگہ موجود ہیں، اور اب اس بات کا اعتراف کٹھ پتلی انتظامیہ کے اہلکار بھی کرتے ہیں،مگر ہم کہتے ہیں کہ طالبان تو کبھی کابل سے گئے ہی نہیں تھے وہ کل جتنے مضبوط تھے آج اس سے کئی گناہ زیادہ مضبوط اور مستحکم ہیں اس طرح کے حملے تو صرف ایک جھلک ہوتی ہے،ورنہ طالبان کابل کے لوگوں کے دل میں رہتے ہیں،اور یہ طوفان جب اُٹھے گا توبہت ساروں کو بہہ کر لے جائے گا،



فی الحال کابل کے سپوتوں کو سلام

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔