Saturday, 8 October 2011

زرداری تجھے سلام۔

0 comments
جب میں نے پہلی مرتبہ بھائی كی زبانی زرداری صاحب كو صدارت كی دعوت سنی تو مجھے شك ہوا كہ شائد بھائی كی طبعیت تھوڑی ناساز ہے۔۔۔ یا پھر انھیں اپنی "خوراك" شائد اس دن ہضم نہیں ہوئی۔۔۔ كیوں كہ اس نالائق كا خیا ل تھا "كیا كوئی ڈاكو بھی ملك كا صدر ہو سكتا ہے؟؟؟" مگر یہ نالا ئق نالائق ہی ثابت ہوا۔۔۔ اور یہ صدر بننے كا (زرداری صاحب كا) خواب پورا ہو ہی گیا۔۔۔۔ معلوم ہوا كہ پاكستان میں سب كچھ ہو سكتا ہے۔۔۔۔
خیر ۔۔۔۔ ذرداری صاحب نے اپنی حوالا ت میں حاصل كی ہوئی صلاحیتوں كا بھر پور مظاہرہ كیا۔۔۔ اور ہرسیاسی میدان میں اپنا لوہا منوایا۔۔۔۔ فوج سے لے كر عوام تك ۔۔۔ آج ہر طبقے كو اپنی اپنی پڑی ہے۔۔۔ اور زرداری صاحب چین كی بنسری بجا رہے ہیں۔۔۔۔واہ صاحب واہ۔۔۔ مان گئے ۔۔۔
ان كا سب سے پہلا نشانہ فہیم بھائی بنے۔۔۔ جن كو وزارت عظمی كی لالی پاپ بڑے عرصے تك دكھائی گئی تھی۔۔۔ یہ لالی پاپ دیكھ دیكھ كر وہ اسے اپنا ہی سمجھنے لگے تھے۔۔۔ جب وہ چھنی تو یہ تاب نہ لا سكے اور ننھے منے بچوں كی طرح شور مچا تے رہے۔۔۔۔۔۔كچھ عرصے تو انھیں شور مچانے دیا گیا۔۔۔ پھر جب انھیں اندازہ ہو گیا كے لالی پاپ تو چلی ہی گئے تو لالی پاپ كی جگہ چسنی لے كر چپ ہو گئے۔۔۔ اور آج بھی چپ ہیں۔۔۔۔اور امید ہے كہ اس چسنی كی وجہ سے ہمیشہ چپ رہینگے۔۔۔
اگلا نشانہ تھے بھولے میاں۔۔۔ جو صبر سے اپنی باری كا انتظار كرنے كو تیار تھے۔۔۔ اور اپوزیشن كا كام عدلیہ سے لینا چاہتے تھے۔۔۔۔ ان كا خیال تھا كہ ہاتھ ہولا ركھ كر انتظار كرینگے۔۔۔ اور وزارت عظمی كی كرسی كسی پكے ہوئے پھل كی طرح ان كی گود میں جا گرے گی۔۔۔ مگر آہ ۔۔۔۔ یہ خواہش خواہش ہی رہی۔۔۔۔ آج تحریك انصاف سے لے كر ایم كیو ایم تك ہر جماعت پنجاب میں ان كے ووت كاتنے كو تیار كھڑی ہے۔۔۔۔ اور زرداری صاحب ۔۔۔۔ جن كی حكومت نے عوام كی صحیح معنوں میں "لے لی" ہے۔۔۔۔ مزے سے چین كی بنسری بجا رہے ہیں۔۔۔ امكان یہ ہے كی اگلی مرتبہ كے الیكشن میں بھی بھولے میاں انتظار ہی كرتے رہ جائنگے ۔۔۔ اور پیپلز پارٹی پھر سے سادہ اكثریت كے ساتھ دو جمع دو كے تحت حكومت بنا لے گی۔۔۔ اس ملك میں كچھ بھی ہو سكتا ہے۔۔۔ واہ صاحب واہ۔۔۔ مان گئے ۔۔۔
كچھ بھولے بسرے لوگ بھی زرداری صا حب كا نشانہ بنے۔۔۔ ناہید خان ۔۔۔ صفدر عباسی۔۔ اعتزاز احسن۔۔۔ ڈاكٹر اسرار شاہ۔۔۔۔ شیری رحمان۔۔ اور آخر میں شاہ محمود قریشی۔۔۔اب اپنی اپنی استطاعت كے مطابق پھڑپھڑا كر اور شور مچا كر خاموش ہو گئے۔۔۔ اور رہ گیا كون؟؟؟ شرمیلا فاروقی، فیصل رضا عابدی اور بہت سے ایسے جو ہر غلط كو صحیح ثابت كرنے میں كمال ركھتے ہیں۔۔۔۔
اس موقعے پر اگر ایم كیو ایم كی سیاسی حماقتوں كا زكر نہ كیا جائے تو زیادتی ہوگی۔۔۔ آج زرداری صاحب نے ایم كیو ایم كے اپنے تعاون سے اس كے منہ پر اتنی كالك مل دی ہے كہ كہاوتوں كی كہانیوں میں "قدر كھو دیتا ہے روز كا آنا جانا" كے لئے ہمیں نئی كہانی مل گئی ہے۔۔۔۔
ذكر ایم كیو ایم كا ہو اور سلام بھائی كے انداز میں نہ ہو تو كیا مزا؟؟؟ بحر حال۔۔۔۔
زرداری صاحب نے جتنا بیوقوف ایم كیو ایم كو بنایا اتنا شائد ہی كسی اور كو بنایا ہو۔۔۔۔۔ایم كیو ایم حكومت میں شا مل تو غیر مشروط طور پر ھوئی تھی مگر وفاق كے لئے اس كی حیثیت پھر بھی كلیدی تھی۔۔۔۔ اتنی سیٹوں كے با وجود اس كو جو حصہ وزارتوں میں ملا وہ كسی بھی طرح اس كے جثے سے مطابقط نہیں ركھتا تھا۔۔۔ سند ھ میں بلدیاتی نظام كی مدت پوری ہونے كے بعد حكومت نئے انتخابات ملتوی كرتی رہی۔۔۔ اور كراچی كی سڑكیں پھر سے كھنڈررات میں تبدیل ہوتی رہیں۔۔۔۔ اور اب آخر كار حكومت نے ایم كیو ایم سے پیچھا چھڑانے كے بعد كمشنری نظام بحال كر دیا۔۔۔ واہ واہ۔۔۔۔شاباش۔۔۔ كراچی میں ایم كیو ایم كو حكومت نے اے این پی سے بھڑائے ركھا۔۔۔ اور دونوں كو لڑوا كر اپنی ذیلی تنظیم پیپلز امن كمیٹی كو پھلنے پھولنے كا بھرپور موقعہ فراہم كیا جو اب ایك عفریت كی طرح پورے شہر میں پھیل چكی ہے اور ہر طرح كے جرائم میں اپنے جثے سے بڑہ كر حصہ وصول كر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سیلاب كی آڑ میں اندرون سند ھ سے لوگ لا كر شہر كی مضافاتی زمینوں پر قبضے كرائے گئے۔۔۔ اور آج یہ كچی بستیاں مستقل كی جا رہی ہیں۔۔۔ جن كی زمینیں تھیں وہ بیچارے ادھر ادھر سر تكراتے پھر رہے ہیں۔۔ ۔۔ ایم كیو ایم نے جب بھی حكومت چھوڑی رحمان بابا اس كو بہلا پھسلا كر واپس لے آئے اور نہ جانے ایسا كیا جادو چلایا كہ شیر كی طرح دھاڑتی ایم كیو ایم كی قیادت بكری كی طرح منمناتی ہوئی واپس آ گئی۔۔۔ اس طرح آنے جانے اس ایم كیو ایم كی ساكھ كو جتنا نقصان پہنچا اس كا اندازہ شائد انھیں نہیں ہے دیكھا جائے تو اس تین سال كے ملاپ سے ایم كیو ایم كو "وقت" كے علاوہ كچھ نہیں ملا ۔۔ صوبائی سطح پر زولفقار مرزا ایك بھوت كی طرح ایم كیو ایم سے چمٹے رہے۔۔ اور۔۔۔ قومی سطح پر بھی بھولے میاں كی توپوں كا رخ مسلسل ایم كیو ایم كی طرف رہا۔۔۔ اور اس غیر ضروری لڑائی كا فائدہ حكومت كو ہوتا رہا۔۔ اس نرے احمقانہ طرز عمل كی وجہ سے ایم كیو ایم كے لیڈر میڈیا پر۔۔ اور ہم جیسے لوگ سیاست پی كے پر منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔۔۔۔۔ آج جب كل كے دشمن مل بیٹھنے كی باتیں كر رہے ہیں تو ماضی كی یادیں كسی آسیب كی طرح ان كے پیچھے لگی ہیں۔۔۔ اور عوام ان پر ہنس رہے ہیں۔ زرداری صاحب كو سلام ہے۔۔۔
اگر یہاں چسكے كے لئےڈاكٹر شاہد مسعود كا ذكر نہ كیا جائے تو زیادتی ہوگی۔۔۔ حضرت نے اتنے چینل بدل لئے ہیں كہ یہ عاجز تو ترتیب اور گنتی بھی بھول چكا ہے۔۔۔ موصوف روزانہ اپنی دكان سجا كر بیٹھ جاتے تھے اور یوں محسوس ہوتا تھا كہ جیسے حكومت آج گئی۔۔۔ كل گئی ۔۔۔ مگر كمبخت حكومت تو كیا جاتی حضر ت كسی اور چینل چلے جاتے۔۔۔ پھر وہ ی دكان۔۔۔ اور وہی پكوان سجا كر بیٹھ جاتے۔۔۔ آخر كا ر گھومتے گھماتے ایك ایسے چینل تك پہنچ گئے جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔۔۔ ویسے تو شائد اس چینل كو لائیسنس مل بھی جاتا ۔۔۔مگر موصوف كی موجودگی میں كہاں ملنا تھا۔۔۔ اس طرح زرداری صاحب نے لاتھی توڑے بغیر سانپ كو پٹاری میں بند كر دیا۔۔۔ جہاں سے اس كے جلد نكلنے كا كوئی امكا ن نہیں ہے۔۔۔مگر اس سارے كھیل كا ایك نقصان ضرور ہوا۔۔۔ ھم جیسے سادہ لوح عوام جو حكومت جانے كی خبریں سن سن كر بغلیں بجاتے تھے اس نعمت غیر مترقبہ سے محروم ہو گئے ہیں۔۔۔۔ كم از كم حكومت كو ھماری یہ تفریح نہیں چھیننی چاہئے تھی١١١ بحرحال ۔۔ صاحب نے آخر كار ایكسپریس كو سلام كر ہی لیا۔۔۔ دیكھیں یہاں سے موصوف اگلی چھلانگ كہاں لگاتے ہیں۔۔
عدلیہ كے ساتھ زرداری صاحب نے بڑے نپے تلے انداز میں جھگڑا جاری ركھا۔۔۔ اور عدلیہ نے بھی انھیں كافی ٹف ٹایم دیا۔۔۔ مگر زرداری صاحب نے بحرحال ابھی تك اپنی حكومت كو بچا كر ركھا ہوا ہےاب تو انھوں عاصمہ جہانگیر كو بھی عدلیہ پر چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔۔ ساتھ ہی وہ عدلیہ كے سپر فعال ہونے كا تاثر بڑی حد تك زائل كرنے میں كامیاب ہو چكے ہیں اور ۔۔۔۔۔ كیونكہ عام آدمی پر اس سارے تماشے كا كوئی اثر نہیں پڑا۔۔۔ اور وہ خوار كا خوار ہے۔۔۔ دیكھا جائے تو یہاں بھی فاتح زرداری صاحب ہی ہیں۔۔۔سلام۔۔ سلام سلام۔۔۔
فوج ۔۔ جسے سنبھالنا كوئی آسان كام نہیں ۔۔۔ وہ بھی خاموش ہے۔۔۔ جنرل صاحب كے منہ میں ایكسٹینشن كی چسنی دے كر ان كو خاموش كر دیا گیا۔۔۔ اور دوسری طرف امریكہ بہادر سے فوج پر مسلسل دباو جاری ہے۔۔۔ فوج بری طرح شمالی علاقوں میں پھنسی ہوئی ہے۔۔۔ اور اس بار شائد براہ راست مداخلت كے موڈ میں بھی نہیں۔۔۔ بہر حال۔۔۔ اتنے گھٹیا طرز حكمرانی كے بعد بھی زرداری صاحب نے جس طرح اپنی حكومت كو فوج سے بھی بچا كر ركھا ہوا ہے۔۔۔ سلام۔۔۔ سلام سلام
رہ گئے عوام۔۔۔ تو ان كو بھی سلام۔۔۔كیونكہ وہ اپنی گت بننے كے بعد بھی پیپلز پارٹی كو پھر ووٹ دینگے۔۔۔ سلام۔۔۔ سلام سلام۔۔۔۔۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔