Sunday, 9 October 2011

آئیں ایک کام کریں۔۔۔

0 comments
پاکستان کے موجودہ حالات باعث تشویش ہیں، پے در پے ہونے والے واقعات نے بہت سے سوالات اُٹھائے ہیں اور زیادہ تر سوالات پاکستان آرمی کے حوالے سے ہیں۔ اگر ان تمام واقعات کو سازش کہا جائے تو معذرت کیساتھ کہ یہ سازشیں کامیاب بھی رہی ہیں۔ میرے ذہن میں ایک خیال آیا تو سوچا آپ لوگوں سے شیئر کروں۔ میں ایک کام کرنا چاہتا ہوں، ایک خط لکھ کر اپنے تمام تر جذبات پاکستان کے سربراہانِ مملکت کو بھیجنا چاہتا ہوں۔ جن میں صدر، وزیراعظم، آرمی چیف و دیگر سربراہان اور چیف جسٹس آف پاکستان شامل ہیں۔ وہ تمام باتیں، تمام سوالات اور جذبات جو ان واقعات کے باعث میرے ذہن پر نقش ہیں۔ اگر میرے ساتھ اس کام میں آپ آپ کے دوست آپ کے دوستوں کے دوست اور اُن کے دوست بھی شامل ہو جائیں تو یہ ایک زنجیر بن سکتی ہے۔ عموماً کہا جاتا ہے ہم اکیلے کچھ نہیں کرسکتے۔ ہم اکیلے نہیں ہیں، میں اپنے بعض دوستوں کو اس امر پر قائل کرسکتا ہوں اور اُنہیں یہ کہوں کہ وہ اپنے دوستوں کو قائل کریں اس طرح اُن کے دوست اپنے دوستوں کو قائل کریں، تو ایک ہم بھی لشکر بن سکتے ہیں۔ میں بھی اس فورم سے نکل کر اپنی آواز اُٹھانا چاہتا ہوں، گھر میں، آفس میں، فورم میں باتیں کر کے دل کی بھڑاس تو نکل جاتی ہے مگر یہ حل بہرحال نہیں!!
اس کے علاوہ میں ایک ریفرنڈم بھی کروانا چاہتا ہوں جو اپنے خطوط کے ساتھ ہم اعلیٰ حکام کو ارسال کریں۔ ریفرنڈم کے ذریعے ہم دیگر افراد کی رائے اور اُن کی سوچ بھی اُن تک پہنچا سکتے ہیں اور اُنہیں بتا سکتے ہیں کہ اگر وہ کوئی ایکشن لیتے ہیں تو تنہا نہیں، قوم اُن کے ساتھ ہوگی۔ ریفرنڈم کے سوالات ہم یہ رکھ سکتے ہیں کہ ۱﴿امریکہ پاکستان کا دوست ہے یا دشمن؟ ۲﴿امریکہ سے تعلقات برقرار رکھنے چاہئیں یا نہیں؟ ۳﴿وطن کے دفاع کیلئے فوج کو آپ کی ضرورت پڑی تو آپ شانہ بشانہ لڑیں گے؟ تیسرا سوال ہم جذباتی سطح پر نہیں بلکہ اُنہیں فری مائنڈ ہو کر دینے کو کہیں گے، کہ آپ اچھی طرح سوچ سمجھ کر رائے دیں۔ اگر اکثریت امریکہ کو دشمن کہتی ہے اور اُس سے تعلقات منقطع کرنے کا کہتی ہے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عوام کی رائے یہ ہے اورحکمران عوام کی رائے کے متصادم چلیں تو وہ ہوتا ہے جو عرب ممالک میں ہوا!!، تیسرے سوال سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اگر کچھ لیڈران ہمیں بچانے کیلئے ذلت سہہ رہے ہیں تو ہم اُن تک یہ بات پہنچا دیں کہ ایسی ذلت جو ہورہی ہے اس سے بہتر عزت کی موت ہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔