Sunday, 29 July 2012

قوم عاد کے ڈھانچے: قرآن کی سچائی پرموجودہ دور میں ایک اور دلیل

0 comments


قوم عاد ، جہاں حضرت ہود علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ جس کا مفصل ذکر قرآن میں ملتا ہے۔ جس کی جسمانی طاقت کی گواہی خالق نے دی۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے سعودی عرب میں شمالی مشرقی ریگستانی علاقہ میں گیس کی تلاش میں کی جانے والی کھدائی کے نتیجے میں قوم عاد کے یہ ڈھانچے نمودار ہوئے۔

جو یقیناً ہم سب کے لئے ایک عبرت ہے۔

















امیج کو ری سائز کیا گیا ہے۔ 4% (680x466). فل سائز امیج دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں (707x484). نئی ونڈو میں دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔



امیج کو ری سائز کیا گیا ہے۔ 7% (680x449). فل سائز امیج دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں (728x480). نئی ونڈو میں دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔








امیج کو ری سائز کیا گیا ہے۔ 15% (680x510). فل سائز امیج دیکھنے کے لئے یہاں کلک کریں (800x600). نئی ونڈو میں دیکھنے کے لئے تصویر پر کلک کریں۔


{ألم ترَ كيف فَعل ربُّك بعاد. إِرم ذاتِ العمادِ. التي لم يُخلَقْ مثلها في البلاد} (سورة الفجر, الآيات 9,8,7).

{وأمَا عادُ فأُهلكوا بريحٍ صَرصَرٍ عاتية. سخَّرها علَيْهم سبعَ ليالٍ وثمانية أيّامٍ حُسُوماً فَتَرى القَوْمَ فيها صَرعَى كأنَّهمْ أعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَة. فَهَلْ تَرَى لهُم مِنْ باقِيَة} (الحاقّة/الآيات 7 وما بعدها).
(وَاذْكُرْ أَخَا عَادٍ إِذْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ بِالْأَحْقَافِ وَقَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ) (الاحقاف:21)
(وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُوداً قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ)(هود:50) .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
سیدنا حضرت ھود علیہ السلام

سوال: بتائیے قرآن مجید میں حضرت ہود علیہ السلام کا ذکر کتنی مرتبہ آیا ہے؟

جواب: سات مرتبہ۔

سوال: بتائیے قرآن مجید میں کون کونسی آیات میں حضرت ہود علیہ السلام کا ذکر آیا ہے؟

جواب: سورۂ اعراف آیت نمبر:۶۵

سورۂ ہود آیت نمبر:۵۰۔۵۲۔۵۸۔۶۰۔۸۹

سورۂ شعراء آیت نمبر: ۱۲۴

سوال: حضرت ہود علیہ السلام کو کس قوم کی طرف بھیجا گیا تھا؟

جواب: قومِ عاد کی طرف۔

سوال: قومِ عاد کا تذکرہ قرآن مجید کی کتنی سورتوں میں آیا ہے؟

جواب: ۱۷ سورتوں میں قوم عاد کا تذکرہ آیا ہے۔

سوال: عاد کون تھے؟

جواب: یہ عرب کی قدیم ترین قوم تھی، جن کی شان و شوکت ضرب المثل تھی، اب دنیا سے ان کا نام و نشان مٹ چکا ہے۔

سوال: قومِ عاد کہاں رہتی تھی؟

جواب: احقاف کے علاقہ میں ، جو حجاز، یمن اور یمامہ کے درمیان واقع ہے۔

سوال: قومِ عادکہاں تک پھیلی ہوئی تھی؟

جواب: یمن کے مغربی سواحل سے لیکر عراق تک اور جنوب مغرب میں حضر موت تک ان کا ڈنکا بجتا تھا۔

سوال: قومِ عاد کا زمانہ بتائیے؟

جواب: تقریباً دو ہزار(۲۰۰۰) سال قبل از مسیح علیہ السلام۔

سوال: قومِ عاد کا مذہب بتائیے؟

جواب: یہ لوگ بت پرست تھے؟

سوال: حضرت ہود علیہ السلام عاد کی کس شاخ سے تعلق رکھتے تھے؟

جواب: خلود سے۔

سوال: حضرت ہود علیہ السلام سلسلۂ نسب کے اعتبار سے حضرت نوح علیہ السلام کی کونسی پشت میں سے تھے؟

جواب: پانچویں پشت میں سے تھے۔

سوال: قوم عاد کی چند بڑی بڑی خصوصیات بتائیے؟

جواب: یہ لوگ دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ قد آور اور تن ومن اور توانا تھے، مال و دولت اور علم و کمال میں بھی دوسروں سے ممتاز تھے،فنکاری اور کاریگری میں بھی کمال رکھتے تھے، اپنی توانائی اور شان و شوکت کی وجہ سے انہیں بلند مقامات پر بسنے اور بلند و بالا عمارتیں بنانے کا بڑا شوق تھے۔

سوال: قرآن مجید میں عاد ارم کس کو کہا گیا ہے؟

جواب: ارم حضرت نوح علیہ السلام کے پوتے اور سام کے بیٹے کا نام ہے ، ان کی نسل میں سے عاد تھے، اس لئے انہیں عادِ ارم کہا گیا ہے۔

سوال: بتائیے قرآن مجید میں عاد کے لئے اور کونسا نام استعمال کیا گیا ہے؟

جواب: عاد اولیٰ جو عذاب میں ہلاک ہوگئے۔عادِ اُخریٰ جو عذاب سے بچ گئے۔

سوال: عاد کو ذات العماد کیوں کہا گیا ہے؟

جواب: کیونکہ انہوں نے بلند و بالا عمارتیں بنائی تھیں۔

سوال: بتائیے حضرت ہود علیہ السلام کی قبر کہاں ہے؟

جواب: حضر موت کے علاقہ میں مکلا نامی شہر میں ، یہاں لوگ کثرت سے حاضر ہوتے ہیں۔

سوال: حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم سے کیا کہا، سورۂ اعراف کے حوالہ سے بتائیے؟

جواب: اے برادارانِ قوم! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں، پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کروگے۔

سوال: حضرت ہود علیہ السلام کی دعوتِ اسلام کے جواب میں ان کی قوم کے بگڑے ہوئے سردارن نے کیا کہا؟

جواب: ہم تو تمہیں بے عقلی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمیں یہ گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو۔

سوال: جب حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے انہیں جھٹلایا تو آپ نے ان سے کیا فرمایا؟

جواب: اے بردارانِ قوم! میں جنون میں مبتلا نہیں ہوں، بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ، تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے، کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے، بھول نہ جاؤ کہ تمہارے رب نے نوحؑ کی قوم کے بعد تم کو اس کا جانشین بنایا ہے اور تمہیں خوب تن و من کیا، پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو، امید ہے کہ کامیاب ہوجاؤ گے۔

سوال: حضرت ہود علیہ السلام کی دعوتِ اسلام کے جواب میں آپ کی قوم نے توحید کے خلاف کیا کہا؟

جواب: کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے اللہ کی عبادت کریں اور انہیں چھوڑدیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں، اچھا تو لاؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر تم سچے ہو۔

سوال: توحید کے خلاف اپنی قوم کی باتیں سن کر حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں کیا جواب دیا؟

جواب: تمہارے رب کی پھٹکار تم پر پڑگئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا، کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ داداؤں نے رکھ لئے ہیں اور جن کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی، اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

سوال: اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام اور ان کی قوم کے اس پورے مکالمے(گفتگو) کے بعد کیا ارشاد فرمایا؟

جواب: آخر کار ہم نے اپنی مہربانی سے ہود اور ان کے ساتھیوں کو بچالیا اور ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دیں جو ہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے۔

سوال: سورۂ ہود کے حوالہ سے حضرت ہود علیہ السلام اور ان کی قوم کے درمیان مختلف اوقات میں کی گئی تبلیغ اور اس کے جواب میں قوم کی گفتگو کیا ہوئی بتائیے؟

جواب: حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا:اے برادرانِ قوم ! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سواء تمہارا کوئی معبود نہیں اور تم نے محض جھوٹ گھڑ رکھا ہے، اے قوم کے لوگو!اس کام پر میں تم سےکوئی اجرت نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ، تم ذرا عقل سے کام نہیں لیتے اور اے میری قوم! اپنے رب سے معافی مانگو، پھر اس کی طرف لوٹو، وہ تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا اور تمہاری قوت میں مزید اضافہ کرےگا، مجرموں کی طرح منہ نہ پھیرو۔

انہوں نے جواب دیا: اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی صریح شہادت لیکر نہیں آئے اور تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑسکتے اور تم پر ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں، ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تمہارے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی ہے۔

سوال: اپنی قوم کا جھوٹے خداؤں کی پرستش پر جمے رہنے کا جواب سن کر حضرت ہود علیہ السلام نے سمجھاتے ہوئے کیاکہا؟

جواب: میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں اور تم گواہ رہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے خدائی شریک بنا رکھا ہے اس سے میں بیزار ہوں، تم سب مل کر میرے خلاف کوئی کسر اٹھا نہ رکھو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو، میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو، بیشک میرا رب درست ہے، اگر تم منہ پھیرتے ہو تو پھیرلو جو پیغام دے کرمیں بھیجا گیا ہوں وہ میں پہنچا چکا ہوں، اب میرا رب تمہاری جگہ دوسری قوم کو کھڑا کرے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکوگے، یقیناً میرا رب ہر چیز پر نگران ہے۔

سوال: اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کے انجام کے متعلق کیا ارشاد فرمایا، سورۂ ہود کے حوالہ سے بتائیے؟

جواب: پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے انہیں بچالیا۔

یہ ہیں عاد، اپنے رب کی آیات کا انہوں نے انکار کیا اور اللہ کے رسولوں کی بات نہ مانی اور ہر دشمنِ حق ظالم کی اتباع کرتے رہے، آخرکار اس دنیا میں بھی ان پر لعنت ہے اور قیامت کے دن بھی، آگاہ رہو کہ قومِ عاد نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔

سوال: قوم عاد کی خصوصیات میں سب سے نمایاں بات کیا تھی؟

جواب: قوم عاداونچے مقام پر یادگار عمارتیں بنانے کے جنون میں مبتلا تھے، حالانکہ ان کی تعمیر لاحاصل اور بے فائدہ تھی، وہ بڑے بڑے محلات بنانے کے دلدادہ تھے اور غریبوں ، مسکینوں پر رحم کرنے کے بجائے ان پر سختی کرتے تھے۔

سوال: قوم عاد پر نافرمانی کی وجہ سے جو عذابِ الٰہی آیا اس کی مختصر روداد بتائیے؟

جواب: جب قومِ عاد حضرت ہود علیہ السلام کی بارہا تبلیغ اور تنبیہ کے باوجود اپنی سرکشی سے باز نہ آئی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت ہوا کا عذاب نازل فرمایا، پہلے بادل کی صورت میں عذاب ان کی بستیوں کی طرف بڑھا، تو انہوں نے کہا یہ بادل ہمارے کھیتوں میں برسے گا ؛لیکن اس کے بعد تیز ہوا چلنے لگی اور پھر اس قدر شدید آندھی آئی کہ اس نے ہر چیز کو ریزہ ریزہ کردیا، یہ آندھی ان پر مسلسل سات دن اور آٹھ راتیں چلتی رہی اور ان کی ہر چیز تباہ و برباد کردی، وہ اس طرح مرے ہوئے پڑے تھے کہ جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔

سوال: کیا قومِ عاد پر آنے والے عذابِ الٰہی سے کوئی محفوظ بھی رہا؟

جواب: ہاں! حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے۔

سوال: بتائیے قرآن مجید کے کس پارے میں سورۂ ہود ہے اور اس کے کتنے رکوع اور کتنی آیات ہیں؟

جواب: بارہویں پارہ میں ہے، اس کے دس رکوع اور ایک سو تیئیس (۱۲۳) آیتیں ہیں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔