Sunday, 23 September 2012

خلیفہ اعلیٰ حضرت ، صدر الشریعہ ، بدر الطریقہ مفتی ابو العلیٰ محمد امجد علی اعظمی — علیہ الرحمۃ والرضوان —

0 comments
گزشتہ سے پیوستہ


دوسری جانب خلیفۂ وقت مہدی نے اپنے وزیر معاویہ بن عبداللہ کو طلب کر لیا کہ اسے اس ملاقات کی خبر پہنچ چکی تھی،اب اسے اندازہ ہوا کہ ابن مقنع کتنا طاقتور ہو گیا ہے اور افسوس ہوا کہ پہلے اس کی ٹھیک سے خبر کیوں نہ لی اب جب اقتدار خطرے میں نظر آیا تو فتنہ کی سرکوبی کا خیال آیا۔معاویہ بن عبداللہ نے بھی اس کی رائے کی تائید کی ،کہ ماوراالنہر سے بھی مسلسل خبریں آرہی ہیں کہ ابن مقنع برابر دین اسلام کا چہرہ مسخ کر رہا ہے۔
خلیفہ مہدی نے زید بن یحٰیی کو حکم دیا کہ وہ لشکر تیار کرے اور اس فتنے کو کچل دے ۔زید بن یحٰیی نے اسے جہاد قرار دیا اور لشکر تیار کر کے روانہ ہوا۔وہ راستے ہی میں تھا کہ اسے اطلاع ملی کہ خلیفہ نے ایک اور لشکر بخارا کی طرف روانہ کیا ہے جس باغیوں کی سرکوبی کا ذمہ دیا گیا تھا اس کی سپہ سالاری زید بن یحٰیی کا بھائی جبریل بن یحٰیی کر ریا تھا ۔یہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا کہ اس سے بخارا کے باغی ابن مقنع کی مدد کو نہیں پہنچ سکتے تھے کیونکہ راستہ میں جبریل کا لشکر موجود تھااور اور ابن مقنع کا لشکر بخارا پہنچ نہیں سکتا تھا کہ راستے میں زید کا لشکر موجود تھا۔
بخارا کے باغی ابن مقنع کا انتظار کرتے رہ گئے اور اور جبریل کی فوج نے ان کا محاصرہ کر لیا ان کے انتظار کر 4ماہ بیت گئے مگر کوئی مدد نہ پہنچ سکی بالآخر انہیں بھاگ کر روپوش ہونا پڑا۔
دوسری جانب زید کی فوج نے ابن مقنع کی تیار کر دہ سرایوں کو مسمار کر دیا اور مساجد میں اپنے آدمی بٹھا دیئے کہ وہ ابن مقنع کا مقتل گاہ بنا ہوا تھا۔آگے بڑھا تو وہ حیران رہ گیا کہ پورا علاقہ ابن مقنع کے پیروکاروں سے بھرا ہوا تھا۔لوگ گروہ د ر گروہ باہر سے آتے اور اسلامی لشکر پر حملہ کرتے جو گرفتار ہوتے وہ یہی جواب دیتے کہ ابن مقنع ہمارا خدا ہے ہم اس کے پرستار ہیں۔
زید پوچھا کہ یہ کیسا خدا ہے جو راہزنی کی تعلیم دیتا ہے؟جواب ملتا کہ یہ تو جہاد ہے اور مال غنیمت ہمارا حق ہے۔زید کہتا کہ اسلام تو یہ نہیں سکھا تا جو اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔
وہ کہتے یہ سب تو تم ابن مقنع سے ہی پوچھو۔زید ان کو قتل کر دیتا یا وہ توبہ کرتے تو چھوڑ دیئے جاتے۔
زید بن یحٰیی کی فوج لڑتے لڑتے قلعہ صیام تک پہنچ گئی اور مورچہ باند لیا تو اسے مزید متعجب ہو ا جب دیکھا کہ ابن مقنع کی فوج بغیر جنگ حکمت عملی کے بھیڑ بکریوں کی طرح قلعے سے باہر آگئی اور ان کی بہادری قابل دید تھی کچھ دیر کے لئے مسلمان فوج بھی سراسمیہ ہو گئی کہ کن وحشیوں سےپالا پڑ گیا۔زید بن یحٰیی نے جب یہ صورتحال دیکھی تو خود گھوڑے پر سوار ہو کر میدان جنگ کے قلب میں پہنچ کر تقریر شروع کی کہ"بہادرو۔۔۔!!یہ جہاد ہے، جہاد کرنے والے پیچھے نہیں ہٹتے،تمہارا دشمن بہادر نہیں ،بے وقوف ہے، ابن مقنع جنگی چالوں سے بالکل ہی بے خبر ہے اگر اس میں سوجھ بوجھ ہوتی تو اپنے لوگوں کو یوں موت کے منہ میں نہ دھکیل دیتا اب تمہارا کام ہے کہ اسے اس کی بے وقوفی کی سزا دہ۔"تقریر نے کام کر دکھایا ۔دیکھتے ہی دیکھتے ابن مقنع کے آدمی گاجر مولی کی طرح کٹنے لگے۔یہ صورتحال دیکھ کر ابن مقنع کے آدمی واپس قلعے میں چلے گئے۔
جاری ہے۔۔۔۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔