Friday, 31 October 2014

فضائل و مناقب حسنين الكريمين سيدنا امام حسن و سيدنا امام حسين رضي الله عنهما

0 comments

https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc6/166379_473070130333_3863399_n.jpg
 
https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc7/378032_10150394182800334_672380333_8975250_279113972_n.jpg

https://fbcdn-sphotos-h-a.akamaihd.net/hphotos-ak-prn1/157017_473069680333_5052729_n.jpg
 
https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/392307_10150394183475334_672380333_8975252_846352762_n.jpg

https://fbcdn-sphotos-f-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash3/63491_473069830333_6020060_n.jpg
 
https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/374863_10150394184075334_672380333_8975254_1831277991_n.jpg

https://fbcdn-sphotos-h-a.akamaihd.net/hphotos-ak-prn1/63556_473073215333_2346126_n.jpg
 
https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/388013_10150394184315334_672380333_8975256_583824296_n.jpg

https://fbcdn-sphotos-a-a.akamaihd.net/hphotos-ak-prn1/163101_473070165333_2549539_n.jpg
 
https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/376487_10150394184635334_672380333_8975257_368670408_n.jpg


https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash3/19964_225285920333_7416479_n.jpg
 
https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/390131_10150394184845334_672380333_8975258_1967077679_n.jpg

https://fbcdn-sphotos-e-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash3/166436_473070235333_4148875_n.jpg
 
https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/387884_10150394185125334_672380333_8975260_717117714_n.jpg

https://fbcdn-sphotos-c-a.akamaihd.net/hphotos-ak-prn1/164318_473070205333_4061804_n.jpg
 
https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/375233_10150394185260334_672380333_8975261_1730086784_n.jpg

https://fbcdn-sphotos-h-a.akamaihd.net/hphotos-ak-prn1/63607_472192615333_6892754_n.jpg

Wednesday, 29 October 2014

7th Month of Islamic Calendar | Rajjab al-Murajjab [URDU]

0 comments

http://images.orkut.com/orkut/photos/OgAAAAUAlzooZicq6W08G4PXP8zeuZYysieuKLUCc2qXGNpQc6dABvcdjZqneFzlwUo86fNeD4b3ozSaeiGnovkTswwAm1T1UCRa3hcfyE193Ii7xw24aZAOmyUI.jpg
قمری تقویم (ہجری کیلنڈر) اسلامی سال کے ساتویں مہینہ کا نام رجب المرجب ہے اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رجب ترجیب سے ماخوذ ہے اور ترجیب کے معنی تعظیم کرنا ہے۔ یہ حرمت والا مہینہ ہے اس مہینہ میں جدال و قتال نہیں ہوتے تھے اس لیے اسے "الاصم رجب" کہتے تھے کہ اس میں ہتھیاروں کی آوازیں نہیں سنی جاتیں۔ اس مہینہ کو "اصب" بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و بخشش کے خصوصی انعام فرماتا ہے۔ اس ماہ میں عبادات اور دعائیں مستجاب ہوتی ہیں۔ دور جہالت میں مظلوم، ظالم کے لئے رجب میں بددعا کرتا تھا۔ (عجائب المخلوقات)
ماہ رجب کی فضیلت :۔
رجب ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جن کو قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے :

اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اِثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ مِنْھَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ط ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ فَلَا تُظْلِمُوْا فِیْھِنَّ اَنْفُسِکُمْ (پارہ ١٠، سورہ توبہ، آیت ٣٦)
ترجمہ :۔"بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں چار حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو"۔ (کنز الایمان)

سرکار غوث الثقلین رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں کہ "رجب کا ایک نام مطھر ہے۔ " (غنیتہ الطالبین ص ٣٥٣)

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و صحبہ وسلم نے ارشاد فرمایا :۔ رجب اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے ۔ (ما ثبت من السنۃ ص ١٧٠)

ایک اور جگہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ و صحبہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا :۔ رجب کی فضیلت تمام مہینوں پر ایسی ہے جیسے قرآن کی فضیلت تمام ذکروں (صحیفوں) کتابوں پر ہے اور تمام مہینوں پر شعبان کی فضیلت ایسی ہے جیسی محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ و صحبہ وسلم کی فضیلت باقی تمام انبیائے کرام پر ہے اور تمام مہینوں پر رمضان کی فضیلت ایسی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی فضیلت تمام (مخلوق) بندوں پر ہے (ما ثبت من السنہ ، ص ١٧٣)

https://fbcdn-sphotos-e-a.akamaihd.net/hphotos-ak-frc1/254805_10150194285830334_5058837_o.jpg
رجب کی خصوصی فضیلت اور واقعہ معراج شریف
حدیث شریف کے مطابق "رجب المرجب" اللہ کا مہینہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جل مجدہ نے اپنے محبوب سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی حسن الوہیت و ربوبیت کی جلوہ گاہوں میں ستائیس (٢٧) رجب کی شب بلوا کر "معراج شریف" سے مشرف فرمایا۔ ستائیسویں شب میں آقائے دو جہاں علیہ الصلوۃ والسلام حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان (واقع بیت اللہ شریف کی دیواروں موسوم مستجار اور مستجاب کے کارنر رکن یمانی کے سامنے) میں تشریف فرما تھے اور یہیں حضرت جبرئیل امین علیہ السلام ستر یا اسی ہزار ملائکہ کی رفاقت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، اس موقع پر حضرت جبرئیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام کے ذمہ اللہ تعالیٰ نے یہ کام سونپے کہ میرے محبوب کو براق پر سوار کرانے کے لئے اے جبرئیل تمہارے ذمہ رکاب تھامنا اور اے میکائیل تمہارے ذمہ لگام تھامنا ہے۔ سند المفسرین امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے، " حضرت جبرئیل علیہ السلام کا براق کی رکاب تھامنے کا عمل، فرشتوں کے سجدہ کرنے سے بھی افضل ہے۔" (تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ نمبر ٣٠١ مطبوعہ مصر)

مکتبہ حقانیہ پشاور کی بددیانتی:۔ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کی متذکرہ تفسیر کبیر کا حوالہ مصری نسخہ سے پیش کیا گیا ہے، جب کہ مکتبہ حقانیہ پشاور (جسے علمائے دیوبند کی سرپرستی حاصل ہے) نے تفسیر کبیر شائع کی ہے۔ اس کی جلد دوم صفحہ ٤٤٥ میں عبارت میں تحریف کر کے یوں چھاپا ہے۔

"ان جبرئیل علیہ السلام اخذ برکاب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حتی ارکبہ علی البراق لیلۃ المعراج و ھذا یدل علی ان محمدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افضل منہ"
پہلی عبارت میں حضرت جبرئیل علیہ السلام کی خدمت کو "سجود ملائکہ سے افضل" قرار دیا ہے، جب کہ تحریف و بددیانتی کے بعد، "حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت جبرئیل سے افضل" قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ تو حقیقت ہے اس لئے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام "سید المرسلین" ہے لہذا "سید الملائکہ" بھی ہیں حضرت جبرئیل سے افضل ہیں۔ اس میں کوئی کلام ہے ہی نہیں۔

جشن معراج النبی اور ہماری ذمہ داریاں
اسلامی بھائیوں اور بہنوں! جس طرح ہم ماہ ربیع الاول شریف میں جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انعقاد کرتے ہیں ایسے ہی رجب شریف میں جشن معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انعقاد کریں مساجد و مدارس ہی نہیں بلکہ اپنے گھروں میں بھی چراغاں کریں ، اجتماعات منعقد کریں، علمائے اہلسنّت کے مواعظ حسنہ (تقاریر) سننے کا اہتمام کریں، اپنے گھر میں اہل خانہ خصوصاً بچوں کو لے کر ادب کے ساتھ بیٹھ کر محفل منعقد کریں ، بچوں کو بتائیں کہ آج کی شب آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لا مکاں کی اس منزل تک پہنچے جہاں مخلوق میں سے کسی کی رسائی نہیں اور بلا حجاب اللہ تعالیٰ کا دیدار عطا ہوا، اللہ تعالیٰ کی بے شمار نشانیوں کو ملاحظہ فرمایا، اللہ تعالیٰ جل شانہ کے اسمائ صفات کی تجلیات کے ظہور کے مقامات و طبقات سے گذر کر ان ہی صفات سے متصف ہو کر اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے مظہر ہوئے، جنت و دوزخ کو ملاحظہ فرمایا، بعد از قیامت اور بعد از جزا سزا جو کچھ ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا اور یہ کمال اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ کے لیے عطا فرمایا، یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ عزوجل نے ماضی و مستقبل (جو کچھ ہو چکا اور جو ہونے والا ہے ) کا علم عطا فرمایا جسے شرعی اصطلاح میں علم ما کان و ما یکون کہتے ہیں ۔ امت کے لیے شفاعت کا حق حاصل کیا، شب معراج میں انبیائ و مرسلین علیہم الصلوٰۃ و السلام اجمعین سے نہ صرف ملاقا ت کی بلکہ ان سب پر آپ اکی فضیلت واضح کرنے کے لیے امامت عظمیٰ و کبریٰ کا منصب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کو عطا ہوا۔ نماز کی فرضیت کا حکم اللہ تعالیٰ عزاسمہ نے خاص اپنی حسن الوہیت و ربوبیت کی جلوہ گاہوں میں عطا کیا، اول پچاس نمازیں فرض ہوئیں پھر بتدریج کم ہوتے ہوتے پانچ باقی رہیں۔ نماز کی فرضیت و اہمیت سے بچوں کو آگاہ کریں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ معراج شریف کے سفر مقدس کے تین مرحلے ہیں۔

اول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسریٰ، یعنی مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک۔ دوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معراج۔ (حصہ اول )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی مسجد اقصیٰ سے کہکشاؤں کا سفر آسمان اول تک ۔ (حصہ دوم)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی آسمان اول سے آسمان ہفتم اور سدرۃ المنتہیٰ تک۔ سوم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اعراج، یعنی سدرۃ المنتہیٰ (حضرت جبریل امین علیہ السلام کا مقام آخر) سے لے کر عرش و کرسی اور لامکاں ، اللہ تعالیٰ جل شانہ کی حسن الوہیت ، جمال ربوبیت اور جلال تقدس و تجرد کی جلوہ گاہ تک۔
خود بھی تلاوت قرآن کریں اور بچوں کو بھی ترجمہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کنز الایمان کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کا عادی بنائیں۔ معراج شریف سے متعلق مضامین والی آیات مقدسہ، سورئہ الاسرائ (بنی اسرائیل) اور سورہ النجم کی تلاوت ضرور کریں۔ واقعہ معراج شریف سے متعلق بچوں کو بتائیں کہ یہ عقلوں کو دنگ کرنے والا سفر ایک لمحے میں ہوا۔
 
چلے جب عرش کی جانب محمد تو ساکت ہوگئی تھی زندگی تک نہ تھی دریا کی موجوں میں روانی تھا ساکت ہر سمندر ہر ندی تک زمیں نے چھوڑ دی تھی اپنی گردش خلا میں انتظار روشنی تک رہا کس طرح بستر گرم ان کا محقق محو حیرت ہیں ابھی تک عناصر زندگی کے منجمد تھے شب اسریٰ میں ان کی واپسی تک نہیں سائنس میں ایسی مثالیں ازل کے روز سے پندرہ صدی تک (خالد عرفان)
 
https://fbcdn-sphotos-e-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/461403_10150811581100334_672380333_10144031_1877676154_o.jpg
ماہ رجب کے نوافل

لیلۃ الرغائب کی فضیلت :۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ نے جامع الاصول کے حوالہ سے یہ حدیث نقل کی ہے " حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ و صحبہ وسلم نے "لیلۃ الرغائب" کا تذکرہ فرمایا وہ رجب کے پہلے جمعہ کی رات ہے (یعنی جمعرات کا دن گزرنے کے بعد)
اس رات میں مغرب کے بعد بارہ رکعات نفل چھ سلام سے ادا کی جاتی ہے ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد سورئہ القدر تین دفعہ اور سورئہ اخلاص بارہ بارہ دفعہ پڑھے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ درود شریف ستر (٧٠) مرتبہ پڑھے۔

٭ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ الْاُ مِّیِّ وَعَلٰی اٰلِہ وَاَصْحَابِہ وَسَلِّمْ
(ترجمہ:۔ اے اللہ! رحمت فرما حضرت محمد نبی امی پر اور ان کی آل و اصحاب پر اور سلامتی کا نزول فرما)

٭ پھر سجدہ میں جا کر ستر (٧٠) مرتبہ یہ پڑھے: سُبُّوْحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّنَا وَ رَبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوْحِ
(یعنی پاک و مقدس ہے ہمارا رب اور فرشتوں اور حضرت جبرئیل کا رب)

٭پھر سجدے سے سر اٹھا کر ستر بار یہ پڑھے:۔ رَبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ تَجَاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْاَعَزُّ الْاَکْرَمْ
(یعنی اے اللہ! بخش دے اور رحم فرما اور تجاوز فرما اس بات سے جسے تو جانتا ہے بے شک تو بلند و برتر اور عظیم ہے)

٭ پھر دوسرا سجدہ کرے اور اس میں وہی دعا پڑھے اور پھر سجدے میں جو دعا مانگے گا قبول ہوگی۔ (ما ثبت من السنۃ ، ص ١٨١)

حضرت سلطان المشائخ سے منقول ہے کہ جو شخص لیلۃ الرغائب کی نماز ادا کرے اس سال اسے موت نہ آئے گی۔ (لطائف اشرفی جلد دوم ص ٣٤٣)

حافظ عراقی علیہ الرحمہ اپنی تالیف" امالی" میں بحوالہ حافظ ابو الفضل محمد بن ناصر سلامی علیہ الرحمہ سے ناقل ہیں " حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً یہ حدیث مروی ہے کہ "جس نے رجب کی پہلی رات بعد مغرب بیس رکعات پڑھیں تو وہ " پل صراط" سے بجلی کی مانند بغیر حساب و عذاب کے گزر جائے گا"۔ (ما ثبت من السنۃ ص ١٨٣)

محبوب یزدانی حضرت مخدوم سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس السرہ النورانی لکھتے ہیں :" ماہ رجب کی پہلی شب میں نماز مغرب کے بعد بیس رکعت نماز ادا کریں، اس کے ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص پڑھیں۔ بیس رکعات مکمل ہونے کے بعد یہ کلمہ شریف پڑھیں، "لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہ، لَاشَرِیْکَ لَہ، مُحَمَّدٌ الرَّسُوْلُ اللّٰہِ اس کی بہت فضیلت ہے۔ (لطائف اشرفی جلد دوم ،ص ٣٤٢)

رجب کی پندرہ تاریخ میں مدد چاہنے کے لئے، اشراق کے بعددو دو رکعت سے (پچیس دفعہ میں) پچاس رکعات نماز ادا کریں۔ اس کی ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد، سورۃ الاخلاص اورمعوذ تین پڑھیں اور پھر دعا کریں۔ یہ نماز ١٥ رجب کے علاوہ ١٥ رمضان میں بھی ادا کی جاتی ہے۔ (لطائف اشرفی جلد دوم صفحہ ٣٤٤)

رجب کی پندرہ تاریخ میں مشائخ کا معمول رہا ہے کہ دس رکعات نماز ادا کیجئے۔ ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد تین بار اور دوسرے قول کے مطابق دس مرتبہ سورہ اخلاص پڑھیئے، جب نماز سے فارغ ہوں تو سو (١٠٠) مرتبہ یہ تسبیح پڑھیں: سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر (اللہ پاک ہے اور تعریف اسی کے لئے ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ ہی سب سے بڑا ہے)

تیرہ، چودہ اور پندرہ (یعنی ایام بیض) رجب کی راتوں میں بیدار ہوں اور ان تینوں راتوں میں ہر شب سو سو رکعات نماز ادا کریں (یعنی تینوں راتوں میں مجموعی طور پر تین سو (٣٠٠) رکعات ادا کریں) ہر رکعت میں سورہ فاتحہ ایک مرتبہ اور سورہ اخلاص دس مرتبہ پڑھیں جب نماز سے فارغ ہوں تو ایک ہزار مرتبہ استغفار پڑھیں۔ انشائ اللہ تعالیٰ عزوجل زمانے کی جملہ بلاؤں اور آسمان کی آفتوں سے محفوظ رہیں گے اور فلکی شر اور زمینی خرابیوں سے سلامت رہیں گے اور اگر ان راتوں میں موت واقع ہو جائے تو شہید کا درجہ پائیں گے۔ (لطائف اشرفی جلد دوم صفحہ ٣٤٤)

٢٧ ویں شب کی خصوصی عبادات:۔ حافظ ابن حجر مکی علیہ الرحمہ کہتے ہیں ہمیں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً حدیث پہنچی کہ " رجب میں ایک رات ہے جس میں عمل کرنے والے کے لیے سو برس کی نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور یہ رجب کی ٢٧ویں شب ہے اس میں بارہ رکعات دو دو کر کے ادا کریں پھر آخر میں سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ سو مرتبہ ، پھر استغفار سو مرتبہ ، پھر درود شریف سو مرتبہ پڑھ کر اپنے امور کی دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام دعائیں قبول فرمائے گا دوسری روایت میں ہے کہ" اللہ تعالیٰ ساٹھ سال کے گناہ مٹا دے گا"۔ (ما ثبت من السنۃ ص ١٨٤)

ستائیسویں رجب کی عبادات:۔ ٢٦ رجب کا روزہ رکھیں مغرب سے قبل غسل کریں، اذان مغرب پر افطار کریں مغرب کی نماز ادا کریں پھر ستائیسویں شب میں بیدار رہیں۔ عشائ کے بعد دو رکعت نماز نفل ادا کریں اور ہر رکعت میں الحمد شریف یعنی سورہ فاتحہ کے بعد سورہئ اخلاص اکیس مرتبہ پڑھیں۔ نماز سے فارغ ہو کر مدینۃ المنورہ کی جانب رخ کر کے گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھیں، پھر اس کے بعد یہ دعا پڑھیں۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِمُشَاھِدَۃِ اَسْرَارِ الْمُحِبِّیْنَ وَبِالْخِلْوَۃِ الَّتِیْ خَصَّصْتَ بِھَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْنَ حِیْنَ اَسْرَیْتَ بِہ لَیْلَۃِ السَّابِعِ وَالْعِشْرِیْنَ اَنْ تَرْحَمَ قَلْبِیْ الْحَزِیْنَ وَ تُجِیْبُ دَعْوَتِیْ یَا اَکْرَمَ الْاَکْرَمِیْنَ
تو اللہ تعالیٰ شب معراج کے وسیلہ سے دعا قبول فرمائے گا، اور رجب دوسروں کے دل مردہ ہو جائیں گے تو ان کا دل زندہ رکھے گا جو یہ دعا پڑھیں گے۔ (نزہۃ المجالس جلد اول صفحہ ١٣٠ فضائل الایام والشہور، صفحہ ٤٠٣)

قطب الاقطاب، غوث الاغواث، سرکار فرد الافراد، سید الاوتاد، شہنشاہ بغداد، غوث اعظم الشیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی قدس سرہ النورانی تحریر فرماتے ہیں، "رجب المرجب کی ستائیسویں رات بڑی بابرکت ہے کیوں کہ اسی شب میں سید الانبیائ والمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے معراج شریف کا معجزہ عطا فرمایا۔ (غنیتہ الطالبین صفحہ ٣٦٣)

رجب میں شب بیداری اور قیام
ماہ رجب کی پہلی، پندرہویں اور ستائیسویں شب میں بیدار ہونا اور عبادات میں مشغول ہونا چاہئے۔ نیز رجب کی پہلی جمعرات (نوچندی) کا روزہ رکھیں اور پہلی شب جمعہ میں قیام کریں۔ حضور اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، پہلی شب جمعہ کو فرشتے "لیلۃ الرغائب" (مقاصد کی رات) کہتے ہیں، جب اس رات کی اول تہائی گزر جاتی ہے تو تمام آسمانوں اور زمینوں میں کوئی فرشتہ ایسا باقی نہیں رہتا جو کعبہ یا اطراف کعبہ میں جمع نہ ہو جائے، اس وقت اللہ تعالیٰ تمام ملائکہ کو اپنے دیدار سے نوازتا ہے اور فرماتا ہے مجھ سے مانگو جو چاہو، فرشتے عرض کرتے ہیں اے رب! عرض یہ ہے کہ تو رجب کے روزہ داروں کو بخش دے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں انھیں بخش دیا۔ (غنیۃ الطالبین صفحہ ٣٦٢)
 
http://images.orkut.com/orkut/photos/OgAAAGIWOqoZtgP6ZmkcXK9yZmBqBNc2C-cDWQykAy7UDQVWfLmH-z8Cv5OkA1tGlxvCqwSrwPhb6bw9PrjwdSPeM-QAm1T1UJBpNozRjf8V_4yGUlVOdDGJ5Rub.jpg

رجب کے نفلی روزے اور جنت کے آٹھوں دروازے

حضرت نوح علی نبینا علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کفر و طاغوتی طاقتوں کی تباہی کے لئے دعا کی اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بصورت طوفان نازل ہونا شروع ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو کشتی میں اہل ایمان کے ساتھ سوار ہونے کا حکم فرمایا تو وہ رجب کا مہینہ تھا جب حضرت نوح علیہ السلام کشتی پر سوار ہوئے تو آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا اور آپ کی ہدایت پر آپ کے ساتھیوں نے بھی روزہ رکھا تھا، اس کی برکت سے کشتی چھ ماہ چلتی رہی اور دس محرم (یوم عاشورہ) کو " جودی پہاڑ" پر ٹھہری۔ اور جب کشتی سے اترے تو آپ اور آپ کے رفقائ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور شکرانہ کا روزہ یوم عاشورا رکھا۔ (ماثبت من السنۃ صفحہ ١٧٣)

سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کردہ طویل حدیث نقل کرتے ہیں، کہ رجب کے روزوں کا ثواب اس طرح ہوگا۔

ایک روزے کا ثواب: اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور فردوس اعلیٰ۔
دو روزوں کا ثواب: دو گنا اجر۔ ہر اجر کا وزن دنیا کے پہاڑوں کے برابر۔
تین روزوں کا ثواب: گہری خندق کے ذریعے جہنم ایک سال مسافت جتنی دور ہوگی۔
چار روزوں کا ثواب: امراض جذام، برص اور جنون سے محفوظ اور فتنہ دجال سے محفوظ۔
پانچ روزوں کا ثواب: عذاب قبر سے محفوظ۔
چھ روزوں کا ثواب: حشر میں چہرہ چودھویں کے چاند کی مانند۔
سات روزوں کا ثواب: دوزخ کے سات دروازے بند۔
آٹھ روزوں کا ثواب: جنت کے آٹھوں دروازے کھلیں گے۔
نو روزوں کا ثواب: کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے قبر سے اٹھنا اور منہ جنت کی طرف۔
دس روزوں کا ثواب: پل صراط کے ہر میل پر آرام دہ بستر فراہم ہوگا۔
گیارہ روزوں کا ثواب: حشر کے دن عام لوگوں میں سب سے افضل ہوگا۔
بارہ روزوں کا ثواب: اللہ تعالیٰ روز حشر دو جوڑے پہنائے گا جس کا ایک جوڑا ہی کل متاع دنیا سے افضل اور قیمتی ہوگا۔
تیرہ روزوں کا ثواب: روز حشر سایہ عرش میں خوان نعمت (انواع و اقسام) تناول کرے گا۔
چودہ روزوں کا ثواب: روز حشر اللہ تعالیٰ کی خاص عطا، جو بصارت، سماعت، وہم و خیال سے ورائ ہوگی۔
پندرہ روزوں کا ثواب: روز حشر موقف امان میں، مقرب فرشتے یا نبی یارسول مبارک باد دیں گے۔
سولہ روزوں کا ثواب: دیدار الہٰی اور ہمکلام ہونے والوں کی پہلی صف میں شمولیت
سترہ روزوں کا ثواب: اللہ تعالیٰ پل صراط کے ہر میل پر آرامگاہ فراہم فرمائے گا۔
اٹھارہ رزوں کا ثواب: حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قبہ میں قیام نصیب ہوگا۔
انیس روزوں کا ثواب: حضرت آدم اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کے محلات کے روبرو ایسے محل میں قیام، جہاں اس کے سلام نیاز و عقیدت کا جواب دونوں نبی علیہما السلام دیں گے۔
بیس روزوں کا ثواب: آسمان سے ند،ا مغفرت کا مژدہ۔

ان شاء اللہ تعالیٰ و ان شاء الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (غنیۃ الطالبین صفحہ ٣٥٢)

رجب میں کار خیر اور صدقہ و خیرات
٭حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انھوں نے فرمایا "جس نے اپنے مسلمان بھائی سے رجب کے مہینے میں (جو اللہ کا ماہ "اصم" ہے)غم دور کیا تو اللہ اس کو فردوس میں نگاہ کی رسائی کے بقدر (حد نظر تک) وسیع محل مرحمت فرمائے گا، خوب سن لو! تم ماہ رجب کی عزت کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں ہزار درجہ بزرگی عطا فرمائے گا۔" (غنیۃ الطالبین صفحہ ٣٥٥)

٭حضرت عقبہ رحمۃ اللہ علیہ بن سلامہ بن قیس نے مرفوعا روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ماہ رجب میں صدقہ دیا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم سے اتنا دور کر دے گا جتنا کوا ہوا میں پرواز کر کے اپنے آشیانہ سے اس قدر دور ہو جائے کہ اڑتے اڑتے بوڑھا ہو کر مر جائے (بیان کیا جاتا ہے کہ کوے کی عمر پانچ سو سال ہوتی ہے) (غنیۃ الطالبین صفحہ ٣٥٥)

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا حضور علیہ الصلوۃ والسلام ارشاد فرماتے ہیں، جس نے رجب میں کچھ بھی خیرات کی اس نے گویا ہزار دینار خیرات کئے اللہ تعالیٰ اس کے بدن کے ہر بال کے برابر نیکی لکھے گا اور ہزار درجہ بلند فرما کر ہزار گناہ مٹا دے گا۔ (غنیۃ الطالبین صفحہ ٣٥٧)

٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجب ظلم چھوڑ دینے کا مہینہ ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجب توبہ کا مہینہ ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجب عبادت کا مہینہ ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجب نیکیوں میں اضافہ کا مہینہ ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجب کھیتی (فصل) بونے کا مہینہ ہے۔ ٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رجب معجزات کا مہینہ ہے۔
حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ایک مرسل روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ و صحبہ وسلم نے فرمایا " بے شک رجب عظمت کا مہینہ ہے اس میں نیکیاں دگنی کی جاتی ہیں جس نے اس کے ایک دن کا روزہ رکھا وہ سال بھر کے روزے کے برابر ہے" ۔ (جامع الاصول)

امام بیہقی علیہ الرحمہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا اور کہا کہ اس کا مرفوع ہونا منکر ہے " رجب بڑا مہینہ ہے اللہ تعالیٰ اس میں نیکیاں دوچند کر دیتا ہے پس جس نے رجب میں ایک دن کا روزہ رکھا گویا اس نے سال بھر روزہ رکھا اور جس نے اس میں سات دن روزے رکھے تو اس سے جہنم کے ساتوں دروازے بند کر دیئے جائیں گے اور جس نے اس کے آٹھ دن روزے رکھے تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جائیں گے اور جس نے اس کے دس دن روزے رکھے تو وہ اللہ تعالیٰ سے جو مانگے گا ضرور عطا فرمائے گا اور جس نے اس کے پندرہ دن کے روزے رکھے تو آسمان سے منادی پکارے گا تیرے گذشتہ تمام گناہ بخش دیئے گئے اب ازسر نو عمل کر، جس نے زیادہ عمل کیے اسے زیادہ ثواب دیا جائے گا۔ (ما ثبت من السنۃ ، ص ١٧١۔١٧٠)
 
http://images.orkut.com/orkut/photos/OgAAAPF5n9QIfsjZ87LE9tXnd8muXF9iTUdokdpX1JST7cmp63t2L7f2ZKF2pOZkLBkkpD6fPwbPiesFAFX5SoF2xWYAm1T1UAW3uIvNFbNIh9E85DQpyLW7zL-V.jpg
 
ماہ رجب میں وصال فرمانے والے صحابہ و اولیاء وعلماء رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین

یکم رجب المرجب:۔
٭ حضرت احمد حوارے ۔۔۔۔۔۔٢٣٢ھ ٭حضرت ناصح الدین ابو محمد چشتی زاہد مقبول ۔۔۔۔۔۔٤٢١ھ ٭ حضرت شیخ اخی فرخ زنجانی ۔۔۔۔۔۔٤٥٧ھ ٭حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی شہنشاہ الارواح ۔۔۔۔۔۔٥٣٧ھ٭حضرت شیخ علاؤالحق پنڈوی ۔۔۔۔۔۔٨٠٠ھ ٭حضرت شیخ عبدالجلیل قطب عالم چوہڑ بندگی قریشی ۔۔۔۔۔۔٩١٠ھ ٭حضرت شاہ پیرا ۔۔۔۔۔۔١٠٨٩ھ ٭حضرت شاہ بہولن چشتی ۔۔۔۔۔۔١١٠٤ھ ٭ حضرت علم الہدیٰ قاضی محمد ثنا اللہ پانی پتی ۔۔۔۔۔۔١٢٢٥ھ ٭خواجہ محمد الدین سیالوی

٢رجب المرجب:۔
٭حضرت مولانا نظام الدین گنجوی ۔۔۔۔۔۔٥٩٦ھ ٭ حضرت خواجہ علاؤالدین عطار ۔۔۔۔۔۔٨٠٢ھ ٭حضرت شیخ حبیب اللہ کافی ۔۔۔۔۔۔١٠٨٠ھ ٭حضرت مولوی عصمت اللہ لکھنوی ۔۔۔۔۔۔١١١٣ھ ٭حضرت حافظ عبدالشکور خالصپوری۔۔۔۔۔۔ ١٣٠٩ھ ٭حضرت قادر بخش بن حسن علی حنفی،سہسرامی۔۔۔۔۔۔١٣٣٧ھ ٭حضرت پیر محمد حسن جان سرہندی مجددی۔۔۔۔۔۔١٣٦٥ھ/٦جون١٩٤٦ئ ٭حضرت علامہ عین القضاۃ بن محمد وزیر بن محمد جعفر حسینی، حنفی، نقشبندی، حیدرآبادی ثم لکھنوی۔۔۔۔۔۔ ١٣٤٣ھ ٭ مفتی نور اللہ نعیمی ۔۔۔۔۔۔١٤٠٣ھ٭حضرت سید ابو الحسنات محمد احمد قادری (خلیفہ اعلیٰ حضرت)

٣رجب المرجب:۔
٭حضرت خواجہ اویس قرنی علیہ الرحمہ٭ حضرت تاج العارفین ابو الوفا کاکیش۔۔۔۔۔۔ ٣٠٥ھ ٭حضرت ابو علی محمد ثقفی۔۔۔۔۔۔ ٣٢٨ھ ٭حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدی ۔۔۔۔۔۔٤٥٥ھ ٭ حضرت خواجہ گرگ اللہ ولی ۔۔۔۔۔۔٧٠٥ھ ٭حضرت سید محی الدین سمنانی ۔۔۔۔۔۔٨٤٢ھ ٭حضرت اخون پنجوبابا افغان۔۔۔۔۔۔٩١٧ھ ٭ حضرت سید درویش احمد ۔۔۔۔۔۔٩٩٩ھ ٭ حضرت شیخ محمدی عرف شاہ فیاض چشتی صابری ۔۔۔۔۔۔١١٠٧ھ ٭حضرت شاہ سلامت اللہ کانپوری ۔۔۔۔۔۔١٢٨١ھ ٭ حضرت عبداللہ شاہ کشمیری آفاقی ۔۔۔۔۔۔١٣١٠ھ ٭حضرت سید عبدالفتاح بخاری (مجذوب) اولاد سید سخی مرتضی بخاری مزار ٹنڈو سائیں داد محمد ۔۔۔۔۔۔١٣٩٨ھ/١٠ جون ١٩٧٨ء ٭ حضرت علامہ مولانا مفتی تقدس علی خان صاحب علیہ الرحمہ ۔۔۔۔۔۔۱٤۰۸ھ /۲۱ فروری ١٩۸۸ء

٤رجب المرجب:۔
٭ حضرت ابو محمد ابو عمرو زجاجی۔۔۔۔۔۔ ٣٤٨ھ ٭ حضرت محمد فرخ شاد وحدت ۔۔۔۔۔۔١١٢٣ھ ٭ مولانا عبدالباری بن عبدالوہاب بن عبدالرزاق انصاری فرنگی محل لکھنوی ۔۔۔۔۔۔١٣٤٤ھ/١٩ جنوری ١٩٢٦ء٭حضرت امام محمد بن ادریس شافعی علیہ الرحمہ۔۔۔۔۔۔٢٠٤؁ھ

٥رجب المرجب:۔
٭حضرت امام موسیٰ کاظم ٭ حضرت امام الاولیائ خواجہ حسن بصری ۔۔۔۔۔۔١١٠ھ ٭حضرت ابو القاسم اسحٰق بغدادی ۔۔۔۔۔۔٣٤٢ھ ٭حضرت امام ابوالحسن احمد قدوری ۔۔۔۔۔۔٤٢٨ھ ٭ شیخ ابوالحسن فخر الاسلام علی بن محمد البزوری الحنفی علی بن محمد ۔۔۔۔۔۔٤٨٢ھ/١٠٨٩ئ ٭حضرت عبداللہ مسافر صحرانی قادری شطاری خلیفہ حبیب اللہ شاہ۔۔۔۔۔۔ ١٣٣٩ھ/١٦ مارچ ١٩٢١ئ

٦رجب المرجب:۔
٭ حضرت قاسم علی بن محمد حریری صاحب مقامات حریری ۔۔۔۔۔۔٥١٦ھ ٭حضرت خواجہ نیر الدین حاجی شریف زندنی نفی القضا ۔۔۔۔۔۔٥٥٤ھ ٭ حضرت خواجہ خواجگان سلطان الہند غریب نواز شیخ۔۔۔۔۔۔ ٦٣٢ھ/٦٣٣ھ ٭حضرت قطب الدین ابو لغیث جمیل یمنی سمرقندی۔۔۔۔۔۔٧٦٧ھ ٭ حضرت سید موسیٰ قطب الا عظم ۔۔۔۔۔۔٨٩٦ھ ٭ حضرت قطب اعظم شیخ عیسیٰ برھانپوری ۔۔۔۔۔۔٨٩٩ھ ٭ حضرت شاہ فتح اللہ سنبھلی ۔۔۔۔۔۔٩٩٩ھ ٭حضرت شیخ حبیب اللہ کافی ۔۔۔۔۔۔١٠٨٠ھ ٭ حضرت شیخ عبداللہ عرف حاجی بہادر ۔۔۔۔۔۔١٠٩٥ھ ٭حضرت سید عبدالرحمن شاہ شہید (مدفون احاطہ عالم شاہ بخاری) ۔۔۔۔۔۔١٣٧٥ھ/١٩ فروری ١٩٥٦ء٭حضرت صغار احمد خاں المعروف احمد بھیا حضور چشتی ۔۔۔۔۔۔١٣٩٤ھ/٢٦ جولائی ١٩٧٤ئ

٧رجب المرجب:۔
٭ حضرت عین الدین شامی ۔۔۔۔۔۔٢٠٣ھ ٭ حضرت ابو عبداللہ محمد بن سلیمان رودباری ۔۔۔۔۔۔٣٢٩ھ ٭ حضرت شاہ محمد تہاک بغدادی ۔۔۔۔۔۔٧١٧ھ ٭حضرت شیخ جلال الدین تبریزی ۔۔۔۔۔۔٧٦٢ھ ٭ حضرت دیوان محمد بہاؤ الدین ۔۔۔۔۔۔٨٤٢ھ ٭حضرت میر طاہر تیزرو بدخشی جونپوری ۔۔۔۔۔۔١٠٤٧ھ ٭حضرت شاہ عمر بہاری ٭حضرت حاجی عبدالکریم چشتی(مصنف شرح خصوص الحکم)۔۔۔۔۔۔١٠٤٥ھ ٭حضرت غلام دستگیر نامی

٨رجب المرجب:۔
٭امام دار قطنی محدث٭ حضرت شیخ زین العابدین ابن نجیم حنفی مصری(صاحب الاشباہ والنظائر) ۔۔۔۔۔۔٩٧٠ھ ٭حضرت خواجہ نظام الدین صابری تھانیسری بلخی ۔۔۔۔۔۔١٠٢٤ھ٭ حضرت علامہ جلال تھانیسری ۔۔۔۔۔۔١٠٣٦ھ ٭ حضرت سید محمود بغدادی ۔۔۔۔۔۔١٠٧٧ھ ٭حضرت قاضی محمدعاقل چشتی ۔۔۔۔۔۔١٢٢٩ھ ٭حضرت مولوی عبدالصمد خالصپوری۔۔۔۔۔۔١٢٨٩ھ ٭حضرت شاہ عبد الرب

٩رجب المرجب:۔
٭حضرت ابو جعفر احمد بن وہب بصری ۔۔۔۔۔۔٢٧٠ھ ٭حضرت ابو عبداللہ علی ماکور ۔۔۔۔۔۔٤٤٢ھ ٭محدث ابو شجاع حافظ شیرویہ بن شہردار بن شیرویہ ہمدانی (اولاد صحابی رسول و قاتل اسود عنسی فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ) مصنف فردوس، تاریخ ہمدان، ولادت ۔۔۔۔۔۔٤٤٥ھ وفات ٥٠٩ھ ٭ شہردار دیلمی کا انتقال ۔۔۔۔۔۔٥٥٨ھ٭ حضرت خواجہ شمس الدین محمد تبریزی ۔۔۔۔۔۔٦٤٥ھ ٭حضرت عبدالجلیل چوہڑ بندگی سہروردی لاہوری ۔۔۔۔۔۔٩١٠ھ ٭حضرت شیخ برکیہ بن شاہوکاتیار (مجذوب سندھ) ۔۔۔۔۔۔٩٩٧ھ ٭حضرت سالار سرمست ۔۔۔۔۔۔١٠٨٧ھ ٭ حضرت سید جعفر گیلانی ۔۔۔۔۔۔١١٠٧ھ ٭حضرت شیخ فیض بخش لاہوری چشتی (صاحب حال و قال)۔۔۔۔۔۔١٢٨٦ھ ٭حضرت علامہ محمد حسین بن تفضل حسین، عمری الہ آبادی ۔۔۔۔۔۔١٣٢٣ھ ٭حضرت مولانا مفتی نور محمد بن شیخ احمد حنفی فتحپوری تلمیذ مفتی عبداللہ ٹونکی ۔۔۔۔۔۔١٣٤٢ھ ٭حضرت شاہ گدا رحمن٭حضرت حافظ موسیٰ پاک چشتی

١٠رجب المرجب:۔
٭حضرت ابو محمد عبدالرحیم مغربی ۔۔۔۔۔۔٥٩٢ھ ٭ حضرت سلطان ولد بن مولانا روم ۔۔۔۔۔۔٧١٢ھ ٭ولادت امام تقی علیہ الرحمہ٭ وصال علامہ مفتی شاہ محمد مسعود ۔۔۔۔۔۔١٣٠٩ھ/١٨٩٢ئ

١١رجب المرجب:۔
٭حضرت شیخ علی عجمی ۔۔۔۔۔۔٣٤٦ھ ٭ حضرت رکن الاسلام ابو محمد عبداللہ جوینی کوفی ۔۔۔۔۔۔٤٣٢ھ ٭ حضرت سید محمد مدنی ۔۔۔۔۔۔٤٩٤ھ ٭حضرت شیخ منصور زاہد طایحیٰ ۔۔۔۔۔۔٥٥٠ھ ٭ حضرت قصیب البان موصلی ۔۔۔۔۔۔٥٧٩ھ ٭ حضرت شیخ ابی عبداللہ محمد بغدادی ۔۔۔۔۔۔٨٩٧ھ ٭ حضرت شاہ فضل اللہ مداری ۔۔۔۔۔۔٩٧٩ھ ٭ حضرت شاہ شمس الدین قادری لاہوری ۔۔۔۔۔۔١٠٢١ھ ٭حضرت شاہ شکور اللہ قلندری ۔۔۔۔۔۔١١٠٩ھ ٭حضرت شاہ محمد حامد صابری امروھوی ۔۔۔۔۔۔١١٥٠ھ ٭حضرت شیخ حبیب مصری ۔۔۔۔۔۔١٢٢١ھ ٭حضرت شاہ علی حسین اشرفی٭شیخ المشائخ حضرت امام ابو الحسین احمد نوری مارہروی ٭حضرت شاہ نصر اللہ لکھنوی٭شاہ مخدوم محمد منعم (پٹنہ)

١٢رجب المرجب:۔
٭ حضرت شیخ ابو الحسن فراری ۔۔۔۔۔۔٢٩٧ھ ٭ حضرت ابو عبداللہ محمد بن فضیل سمر قندی ۔۔۔۔۔۔٣١٩ھ ٭شیخ نجم الدین بن امام ظاہر کوفی ۔۔۔۔۔۔٣٣٦ھ ٭حضرت شیخ محمد فیاض ۔۔۔۔۔۔٧٤٧ھ٭حضرت سید الیاس بصری۔۔۔۔۔۔٩١٩ھ ٭حضرت سید محمد مقبول عالم ۔۔۔۔۔۔١٠٤٥ھ ٭ حضرت شیخ عبدالخالق چشتی ۔۔۔۔۔۔١٠٥٩ھ ٭ حضرت شیخ ارزانی قادری ۔۔۔۔۔۔١٠٧٢ھ ٭ حضرت شیخ عصمت اللہ نوشاہی ۔۔۔۔۔۔١١٣٧ھ ٭ حضرت مولانا ابو العباس عبدالحی محمد بحر العلوم لکھنوی ۔۔۔۔۔۔١٢٢٥ھ ٭حضرت پیر محمد حسن جان سرہندی (راہنما تحریک پاکستان) ۔۔۔۔۔۔١٣٦٥ھ/١٩٤٦ئ

١٣رجب المرجب:۔
٭ حضرت ابو عیسی محمد بن عیسی ترمذی ۔۔۔۔۔۔٢٧٩ھ٭حضرت خواجہ عبداللہ محمد مغربی۔۔۔۔۔۔ ٣٣٥ھ ٭حضرت ابو القاسم جعفر رازی ۔۔۔۔۔۔٣٧٨ھ ٭ حضرت ظہیر الدین بخاری ۔۔۔۔۔۔٦٩٥ھ ٭ حضرت شیخ ابی الحسن محمد ۔۔۔۔۔۔٧٩٧ھ ٭ حضرت محمد علی نور بخش ۔۔۔۔۔۔٨٥٧ھ٭حضرت محمد ابراہیم ابرجی ۔۔۔۔۔۔٩٨٧ھ ٭حضرت محمود درّانی ۔۔۔۔۔۔٩٩٨ھ ٭حضرت سید عبدالقادر لاہوری ۔۔۔۔۔۔١٠٧٧ھ ٭ حضرت شاہ نعیم گامی ۔۔۔۔۔۔١١٢١ھ٭ حضرت سید عبداللطیف عرف محی الدین دیلوروی ۔۔۔۔۔۔١١٩٤ھ ٭حضرت خواجہ محمد زبیر کشف الغیب ۔۔۔۔۔۔١١٩٩ھ ٭حضرت شہ محمد خادم صفی چشتی ۔۔۔۔۔۔١٢٨٧ھ ٭حضرت خواجہ نیر الدین عرف حاجی شریف قنوجی

١٤رجب المرجب:۔
٭حضرت ام المومنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ۔۔۔۔۔۔٢١ھ٭حضرت طاؤس الحرمین ابو الخیر اقبال حبشی مکی۔۔۔۔۔۔٣٨٣ھ ٭ حضرت ابو المسعود بن اشبیل ۔۔۔۔۔۔٥٦٥ھ ٭امام ابوزکریا محی الدین یحیی بن شرف النواوی ۔۔۔۔۔۔٦٧٧ھ/یکم دسمبر ١٢٧٨ئ ٭حضرت شیخ محمود اسفراری المدنی ۔۔۔۔۔۔٦٩٨ھ٭مخدوم ساہر بن مخدوم معز الدین (خلیفہ مخدوم بلال و مخدوم نوح ہالائی)۔۔۔۔۔۔٩٨٠ھ ٭سید نتھے شاہ۔۔۔۔۔۔ ١١١١ھ٭حضرت سید سالار مسعود غازی٭حضرت سید سمن شاہ بخاری سرکار مجذوب تحصیل ٹنڈو باگوبدین ۔۔۔۔۔۔١٣٤٩ھ/دسمبر ١٩٢٩ئ

١٥رجب المرجب:۔
٭حضرت امام المسلمین سیدنا محمد جعفر صادق ص ۔۔۔۔۔۔١٤٨ھ ٭ حضرت امام المسلمین سیدنا موسی کاظم ص ۔۔۔۔۔۔١٨٣٭حضرت ابو الحسن علی صائغ دینوری ۔۔۔۔۔۔٣٣٠ھ ٭ حضرت قطب الدین محمود فروضنی ۔۔۔۔۔۔٣٩٢ھ٭حضرت شاہ بدر علی لکھنوی ٭شیخ محمد حضرت ابو عبداللہ محمد بن یوسف بن محمد بن احمد بن ابراہیم سورتی ١٣٦١ھ

١٦رجب المرجب:۔
٭حضرت سید یعقوب زنجانی ۔۔۔۔۔۔٦٤ھ ٭ حضرت ابو حمزہ خراسانی۔۔۔۔۔۔٢٩٠ھ ٭ حضرت ابو الفضل محمد۔۔۔۔۔۔ ٣٩٧ھ ٭ حضرت سید محمد عبداللہ اویسی غزنوی۔۔۔۔۔۔٥٠٥ھ ٭ابوالعباس احمد بن محمد بن خلکان (مؤرخ) ۔۔۔۔۔۔٦٨١ھ ٭حضرت ابو الفتح رکن الدین سہروردی بن صدر الدین بن بہاؤ الدین زکریا۔۔۔۔۔۔٧٣٥ھ ٭ حضرت محمد شیریں المتخلص مرغابی۔۔۔۔۔۔٨٠٩ھ ٭حضرت شاہ بندہ نوازی الدین۔۔۔۔۔۔٨٥٣ھ ٭ حضرت شاہ مجتبیٰ رومی۔۔۔۔۔۔ ٨٩٩ھ ٭ حضرت خواجہ عبدالحق عرف محی الدین۔۔۔۔۔۔ ٩٥٧ھ ٭حضرت خواجہ جمال الدین چشتی قندھاری۔۔۔۔۔۔٩٩٧ھ ٭ حضرت عبداللہ وحدت پوش بغدادی ۔۔۔۔۔۔١٠٧٣ھ ٭حضرت محدث اعظم کچھوچھوی۔۔۔۔۔۔١٣٨١ھ ٭حضرت حافظ محمد شعیب مردانی

١٧ رجب المرجب:۔
٭ حضرت ابوالفضل عباس عم رسول اللہ ا۔۔۔۔۔۔ ٣٢ھ ٭خواجہ ابو یوسف ہمدنی ٭ حضرت امام حسن مثنی۔۔۔۔۔۔ ٦٣ھ ٭ حضرت عمر اشبکی بن داؤد قرشی ۔۔۔۔۔۔١٨٧ھ ٭حضرت ابو العباس قاسم سیاری ۔۔۔۔۔۔٣٤٢ھ ٭ حضرت ابوعبداللہ محمد بن خفیف شیرازی ۔۔۔۔۔۔٣٧١ھ ٭ حضرت ابو عبداللہ محمد داستانی ۔۔۔۔۔۔٤١٧ھ ٭ حضرت سید حسین خنک سوار ۔۔۔۔۔۔٦١٠ھ ٭ حضرت شیخ ابو الحسن علی شاذلی مغربی ۔۔۔۔۔۔٦٥٤ھ ٭حضرت محمد رہبر سندہی ۔۔۔۔۔۔١١٩٩ھ ٭ حضرت شیخ محمد مراد کشمیری ۔۔۔۔۔۔١١٣١ھ ٭حضرت وجھن شاہ نواب گنجی٭ حضرت شاہ تقی علی قلندر ۔۔۔۔۔۔١٢٩٠ھ

١٨رجب المرجب:۔
٭شیخ طریقت علامہ علی اکبر بن حیدر علی بن تراب علی علوی، حنفی کاکوروی قلندری ۔۔۔۔۔۔١٣١٤ھ ٭ حضرت ابو محمد عبداللہ مرغابی تونسی ۔۔۔۔۔۔٦٩٩ھ ٭ حضرت شیخ حسن سرمدی ۔۔۔۔۔۔٧٩٩ھ ٭حضرت بدلی شاہ

١٩رجب المرجب:۔
٭حضرت میر سید محمد اودھی ۔۔۔۔۔۔٩٨٩ھ ٭ حضرت شاہ محمد انبیا دل خراسانی ۔۔۔۔۔۔٩٨٩ھ ٭ حضرت شاہ عبدالقادر دہلوی ۔۔۔۔۔۔١٢٣٠ھ ٭ حضرت سید ابوالحسین احمد نوری بن ظہور حسن بن حضرت سید آل رسول مارہروی علیہ الرحمہ ۔۔۔۔۔۔١٣٢٤ھ

٢٠رجب المرجب:۔
٭حضرت علاؤالدین عامل بادشاہ عامل حزب۔۔۔۔۔۔٨٢٠ھ ٭حضرت شاہ اویس بلگرامی ۔۔۔۔۔۔١٠٨٧ھ ٭ حضرت امام محی الدین نووی علیہ الرحمہ

٢١رجب المرجب:۔
٭حضرت دیوان محمد ابراہیم کلان ۔۔۔۔۔۔٩٥٩ھ ٭حضرت علامہ مفتی مسیح الدین بن مفتی جمال الدین حنفی حیدرآباد ۔۔۔۔۔۔١٣٢١ھ٭حضرت شیخ نظام الدین بلخی ٭خطیب اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع اوکاڑوی

٢٢رجب المرجب:۔
٭حضرت ابو عبداللہ محمد اسماعیل مغربی۔۔۔۔۔۔ ٢٧٩ھ ٭حضرت ابو اسمٰعیل احمد عموہروی ۔۔۔۔۔۔٤٤١ھ ٭حضرت سید موسیٰ بن داؤد ۔۔۔۔۔۔٦٨٧ھ ٭ حضرت شیخ مخدوم حسن۔۔۔۔۔۔ ٧٩٨ھ ٭ حضرت قاضی ضیائ الدین عرف خیا ۔۔۔۔۔۔٩٨٩ھ ٭حضرت قاضی عبدالکریم نگرامی۔۔۔۔۔۔١٢٤٩ھ ٭حضرت علامہ سید دیدار علی شاہ الوری (خلیفہ اعلیٰ حضرت)۔۔۔۔۔۔١٣٥٤ھ ٭ حضرت سید علی احمد بن سید عبدالعلی شاہ کچھلی قادری (ڈیرہ غازی خان)۔۔۔۔۔۔١٣٨٢ھ ٭حضرت شمس الدین صحرائی

٢٣رجب المرجب:۔
٭ حضرت شیخ زکریا ہروی ۔۔۔۔۔۔٢٥٥ھ ٭حضرت خواجہ احمد معروف بہ رکن الدین علائ الدولہ سمنائی ۔۔۔۔۔۔٧٣٦ھ ٭ حضرت شاہ فرہاد صفات جمالی ۔۔۔۔۔۔١١٩٩ھ ٭حضرت مولانا سیف الدین کشمیری ۔۔۔۔۔۔١٢٢٧ھ

٢٤رجب المرجب:۔
٭ حضرت سید مسلم بن حجاج نیشا پوری (صاحب صحیح مسلم شریف) ۔۔۔۔۔۔٢٦١ھ ٭حضرت امام محی الدین یحییٰ نووی ۔۔۔۔۔۔٦٧٦ھ ٭حضرت بندگی مبارک چشتی۔۔۔۔۔۔ ٩٧٦ھ

٢٥رجب المرجب:۔
٭ حضرت امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز ص ۔۔۔۔۔۔١٠١ھ٭ حضرت شیخ ابو محمد حریری ۔۔۔۔۔۔٣١١ھ ٭حضرت شیخ ابو اسحق گرم دیوان ۔۔۔۔۔۔١١٧٨ھ ٭حضرت شاہ عبدالرحمن قلندر خراسانی ۔۔۔۔۔۔١١٨٣ھ ٭ حضرت محمد دمشقی ۔۔۔۔۔۔١٢٣١ھ ٭حافظ محمد عبداللہ بھرچونڈوی بن قاضی اللہ بخش (خلیفہ حافظ محمد صدیق بھرچونڈی) ۔۔۔۔۔۔١٣٤٦ھ٭حضرت امام مسلم٭قطب الاقطاب شیح رحمکارکاکا (نوشہرہ)

٢٦رجب المرجب:۔
٭ حضرت حسن شاہ پیر غازی (برادر اصغر حضرت عبداللہ شاہ غازی) جوڑیا بازار، کراچی۔

٢٧رجب المرجب:۔
٭حضرت ابو صالح نصر٭حضرت ابو یعقوب سوسی ۔۔۔۔۔۔١٧٩ھ ٭حضرت قاضی القضاۃ امام المسلمین سیدنا ابو یوسف یعقوب بغدادی ۔۔۔۔۔۔١٨٢ھ٭ حضرت سیدی ابو عیسیٰ محمد ترمذی (صاحب سنن) ۔۔۔۔۔۔٢٧٩ھ ٭ حضرت ابو عبداللہ عمرو مکی ۔۔۔۔۔۔٢٩١ھ ٭ حضرت سید الطائفہ ابو القاسم جنید بغدادی ۔۔۔۔۔۔٢٩٧ھ ٭ حضرت عبدالواحد سیاری ۔۔۔۔۔۔٣٣٧ھ ٭حضرت امام ابو یعقوب ہمدانی مروزی ۔۔۔۔۔۔٥٣٥ھ٭ حضرت ابو الحسن علی بن حرازم ۔۔۔۔۔۔٥٤٨ھ ٭ حضرت سراج الدین عبدالجبار بن غوث اعظم ۔۔۔۔۔۔٦٠٥ھ ٭عماد الدین ابو صالح نصر نبیرئہ غوث اعظم ۔۔۔۔۔۔٦٣٢ھ٭ حضرت سید عبدالعزیز بغدادی ۔۔۔۔۔۔٦٩٥ھ ٭ حضرت شیخ علاؤالدین لاہوری ۔۔۔۔۔۔٧٩٧ھ ٭حضرت شاہ عبد القدوس قلندر بصری ۔۔۔۔۔۔٩١٢ھ ٭ حضرت شیخ محمد حسن عرف شاہ خیالی جونپوری ۔۔۔۔۔۔٩٤٤ھ ٭حضرت شیخ داؤد چونیاں ۔۔۔۔۔۔٩٩٢ھ ٭ حضرت عبدالرحمن بدخشی ۔۔۔۔۔۔١٠٢٩ھ ٭حضرت شاہ اسکندر ۔۔۔۔۔۔١٠٣٣ھ ٭حضرت شیخ حاجی عبدالکریم چشتی ۔۔۔۔۔۔١٠٤٥ھ ٭ حضرت شیخ عبدالرشید دہلوی ۔۔۔۔۔۔١١٥٥ھ ٭حضرت شیخ احمد تحلی پہاڑی۔۔۔۔۔۔١١٩٠ھ ٭ حضرت رکن الدین آثار الوحدت ٭ حضرت پیر سید امین الحسنات (مانکی شریف راہنما تحریک پاکستان)

٢٨رجب المرجب:۔
٭ حضرت میر تراب لکھنوی ٭حضرت شاہ عفد الدین صابری امروہی ۔۔۔۔۔۔١٢٧٤ھ٭ حضرت پیر امین الحسنات مانکی شریف

٢٩رجب المرجب:۔
حضرت حافظ احمد علی خاں لکھنوی ۔۔۔۔۔۔١٢٧٥ھ ٭ حضرت قطب علی شاہ ۔۔۔۔۔۔١٣١٩ھ ٭ حضرت خواجہ کمال الدین کشمیری ۔۔۔۔۔۔١١٨٧ھ٭ حضرت شاہ لطف علی۔۔۔۔۔۔١٢٧٥ھ ٭حضرت دیوان محمد فضیل۔۔۔۔۔۔٧٥٦ھ٭میر نجف علی شاہ ۔۔۔۔۔۔١٢٧٥ھ ٭حضرت شاہ نوازش علی کابلی ۔۔۔۔۔۔١٢٨٩ھ٭محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد خان لائل پوری٭حضرت علامہ امیر الدین جیلانی

٣٠رجب المرجب:۔
٭ حضرت امام المسلمین سید نا محمد بن ادریس الشافعی ۔۔۔۔۔۔٢٠٤ھ٭ حضرت شیخ غلام نقشبند لکھنوی ۔۔۔۔۔۔١١٢٦ھ ٭حضرت پیر عبد الرحیم بھرچونڈی۔۔۔۔۔۔ ١٣٩١ھ

نوٹ : خیال رہے کہ بعض بزرگوں کے وصال کی تاریخ ، تدفین کی تاریخ اور عرس کی تاریخ الگ الگ معروف ہیں لہٰذا ایسے بزرگوں کا تذکرہ دو یا تین مقامات پر نظر آئے تو اسے صحیح یا غلطی پر محمول نہ فرمائیں۔
 
https://fbcdn-sphotos-e-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash3/466511_10151392476755334_450840537_o.jpg
تحریر و تحقیق: حضرت علامہ نسیم احمد صدیقی مد ظلہ عالی

پیشکش: انجمن ضیائے طیبہ
(کراچی - پاکستان)

Monday, 25 November 2013

20th MuHarram al-Haraam | Sayyiduna Bilal ibn Rabah al-Habashi Radi Allahu Ta'ala Anhu

0 comments
https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/388158_10150417327075334_1470575244_n.jpg
Sayyid al-Mu’azzineen (Leader of the Muazzins)
Hadrat Sayyiduna Bilal al-Habashi Radi Allahu Ta'ala Anhu

https://fbcdn-sphotos-f-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/388500_10150417326645334_1435175457_n.jpg

Sayyid al-Mu’azzineen (Leader of the Muazzins), Imam al-Aashiqeen, The great devotee, faithful companion and Mu'azzin of the beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam, Hadrat Sayyiduna Bilal al-Habashi Radi Allahu Ta'ala Anhu is a famous and exalted Sahabi who accepted Islam in its early days in Makkah al-Mukarramah. When he accepted Islam, the non-believers placed great difficulties upon him which he bore with great forbearance in his youth. His father's name was Rabah and his mother's name was Hamamah.

His birth place is Abyssinia (Ethiopia) and this is why he is known as Habshi (the old name for Abyssinia is Habsh). Born in the late 6th century, the preferred view is that Bilal Radi Allahu Ta'ala Anhu was 43 years old at the time of Hijra but it has been suggested by some that he could have been as old as 53.

He was either a slave of a woman in Makkah who had made Umayyah bin Khalaf her agent in the matters of Hadrat Bilaal or Umayya Ibn Khalaf himself when he accepted Islam. The Kaafirs of Makkah persecuted him severely. When Hadrat Abu Bakr Radi Allahu Ta'ala Anhu came to know about the pain and anguish which he underwent at the hands of the Kuffaar, he bought him and set him free. One of the many emancipated slaves of Abu Bakr Radi Allahu Ta'ala Anhu, Bilal Radi Allahu Ta'ala Anhu was known for his beautiful voice and was given the honour by the Holy Prophet Muhammad SallAllaho Alaihi wa Sallam of being the first Mu'azzin of Islam. He remained constantly in the company of beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam. He was at the service of the needs of beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam. Muhaddith Hakim and Hafidh Abu Nu'aym also regarded him as one of the Ashaab of al-Suffah.

After he had accepted Islam, he participated with beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam in the battle of Badr and in all other battles. He called the Adhaan and he was the Mu'azzin of Masjid al-Nabawi as long as he remained with beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam. His greatness and excellence is mentioned in numerous books of Ahadith.

https://fbcdn-sphotos-h-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc7/s720x720/381427_10150417326515334_1009121460_n.jpg

VIRTUE

One day at the time of Fajr, beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam asked Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu, 'O Bilaal, Show me one action that you have done after accepting Islam, whose virtue is above all other actions, because I have heard your footsteps in Jannah'. Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu explains that I have not done any action whose virtue is more than the others. But it is true, that during the day or night, whenever I made Wudhu, I made it my duty to read some Nafl Salaah, and from amongst the Salaah I read, I verily read Tahiyyatul Wudhu (Salaat after Wudhu)" when beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam heard this, he said that it was because of this action that he had attained such status.

Hadrat Umar Radi Allahu Ta'ala Anhu used to mention

أبو بكر سيدنا وأعتق سيدنا
Hadrat Abu Bakr Radi Allahu Ta'ala Anhu is our leader who freed our leader Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala.

In 'Hilyat al-Awliyaa', beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam mentions that he is Sayyid al-Mu’azzineen (leader of the Mu’azzins).

ENDURANCE OF DIFFICULTY ON THE ACCEPTANCE OF ISLAM

Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu was harassed and beaten the day long and during the night. He was tied in chains and lashed. On the next day, he was again made to lie on the hot desert sands which cause even greater injuries to the body of Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu, who was loved by Allah Ta'ala.

Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu used to be beaten by many people. When one would get tired, another would take his place. Sometimes it was Abu Jhal's turn and sometimes Umayyah bin Khalaf and others. Each of them would beat him until they got tired but no mercy was spared for the slave whom they so brutally injured and whose status in Jannah was to surpass that of many Arabs.

In the sweltering heat under the Arabian skies, Hadrat Bilal’s love for Allah shone brighter than the sun itself. So strong was it that he could not conceal it despite the punishment and torture afflicted on him by his cruel master.

There were times when a large boulder would be placed upon his chest as he lay on the scorching sand, his ribs being crushed under the weight. Yet the words ‘Ahad! Ahad! (There is only one Allah!)’ were constantly repeated by Hadrat Bilal, so strong was his faith and love.

His Jewish master would insult him and threaten him to denounce Islam, beat him, whip him and humiliate him on the streets of Makkah, but nothing was able to shake Hadrat Bilal’s heart.

https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc7/373948_10150417326185334_672380333_9045267_1734829402_n.jpg

FREEDOM

One day, it so happened that Hadrat Abu Bakr Siddique Radi Allahu Ta'ala Anhu was passing that way and saw Sayyidina Hadrat Bilal crying out, "Ahad! Ahad!", despite the immense torture he was being subjected to. As he watched, Hadrat Abu Bakr Siddique’s heart became agitated upon seeing Hadrat Bilal under such persecution, and tears filled his eyes.

He then called Hadrat Bilal towards himself and advised him to utter Allah's name in solitude and not to utter it in the presence of his persecutor, or he would be subjected to further persecution and torture. Hadrat Bilal replied, "O Honoured One! You are the Siddique of Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam, and therefore I accept your advice and will act accordingly."

The following day, Hadrat Abu Bakr Siddique Radi Allahu Ta'ala Anhu happened to pass that way, and again he witnessed the same sight.

Hadrat Bilal was once more uttering the cry of "Ahad! Ahad!" while the Jew was torturing him to such an extent that again his body became soaked in blood. Seeing this, Hadrat Abu Bakr Siddique’s heart was filled with pain and he advised Hadrat Bilal, "Brother, why do you utter 'Ahad' in the presence of this persecutor? Utter it silently and secretly within yourself".

Hadrat Mawlana Rumi Radi Allahu Ta'ala Anhu says:

"When Abu Bakr advised him towards silence and secrecy,
Bilal repented again,
But when love overwhelmed, he swallowed the repentance.
It is the message of the troubled heart.
Without You there can be neither peace nor comfort."


Hadrat Abu Bakr Siddique, on numerous occasions, gave Hadrat Bilal the same advice but on every occasion when he passed that way, he saw the same scene - the Jew persecuting Bilal who was all the time crying, "Ahad! Ahad!”

Hadrat Abu Bakr Siddique Radi Allahu Ta'ala Anhu finally went to Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam and related the story to him. When Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam heard the story, he was filled with sorrow and tears flowed from his blessed eyes. He asked, "O Siddique! What is the solution to this problem? How can we save Bilal from this calamity?"

Hadrat Abu Bakr Siddique Radi Allahu Ta'ala Anhu replied: "Ya Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam, I shall buy Bilal. Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam agreed and said, "Let my share also be therein".

SubhanAllah! How great the fortune of Sayidina Hadrat Bilal, that Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam himself took part in purchasing him.

Hadrat Abu Bakr then approached the Jew while he was again torturing Hadrat Bilal. Hadrat Abu Bakr said to him, "Why are you beating this friend of Allah?" How long will you carry out this practice on this poor person?" Umayyah bin Khalaf retorted that, 'since you have instigated him (by teaching Islam to him) so you free him." Hadrat Abu Bakr Radi Allahu Ta'ala Anhu answered, "Yes, I will free him. I have a black slave who is even stronger than him and who is in your religion. Will you accept this slave in exchange for him?" Umayyah bin Khalaf accepted the offer. Hadrat Abu Bakr Radi Allahu Ta'ala Anhu exchanged the slaves and thus bought Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu and freed him before migration. It is also narrated that Hadrat Abu Bakr Siddique paid the ransom and freed Hadrat Bilal. Besides Bilal Radi Allahu Ta'ala Anhu he bought other slaves who were being beaten and harassed for accepting Islam and freed them also.

After this, Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam, out of love and joy, embraced Hadrat Bilal and held him to his heart.

Hadrat Mawlana Rumi Radi Allahu Ta'ala Anhu says:

"Beloved Mustafa embraced Bilal and held him against his chest. The ecstasy Bilal felt! Who can ever imagine that?"

https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc7/383151_10150417326925334_672380333_9045274_211611460_n.jpg

CONQUEST OF MAKKAH

When the Muslims finally conquered the city of Makkah, its people fled to their houses in fear and bolted the doors and windows. They feared that the Muslims would avenge themselves for the wrong done to them years ago.

The Muslims advanced towards the Holy Kabah and then Hadrat Bilal assured the people that they were safe. He announced out loud, "All those who lay down arms are safe. All those in the house of Abu Sufyan are safe. All those behind closed doors are safe."

BROTHERHOOD

After the migration Rasoolullah SallAllaho Alaihi wa Sallam formed brotherhood between the Sahaaba Radi Allahu Ta'ala Anhum Ajma’een which meant that two two brothers should be concerned about each other's difficulty and necessity. In this way all of them became Muslim brothers and they shared in the sorrow and grief of each other. Beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam made Hadrat Bilaal and Hadrat Ubaida bin Haarith (Radi Allahu Anhuma) brothers and a few Historians mention that beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam made Hadrat Abu Rawahah Khashami Radi Allahu Ta'ala Anhu the brother of Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu.

PARTICIPATION IN THE BATTLE OF BADR AND THE KILLING OF UMAYYA BIN KHALAF

A year after beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam and his beloved Sahaaba Radi Allahu Anhum Ajma’een migrated from Makkah Mukarramah to Madinah Munawwarah, the battle of Badr took place. Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu also participated in this battle with the other Sahaaba Radi Allahu Anhum Ajma’een. The leaders of the Mushrikeen of Makkah (who were the enemies of Islam and the Muslims - who forced the Muslims out of Makkah, who also oppressed Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu) were killed in this battle. Specially, Abu Jahl and Umayyah bin Khalaf who severely punished Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu were both killed in this battle.

THE BEGINNING OF ADHAAN AND THE APPOINTMENT OF HADRAT BILAAL RADI ALLAHU TA’ALA ANHU AS MU’AZZIN

In the second year after Hijrah, the announcing of the time of Salaat began and Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu was appointed Mu’azzin and always remained the Mu’azzin of beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam both in his presence and also during travel.

Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu stayed with beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam In Madinah Munawwarah, he was the Mu’azzin and even while travelling, he went with beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam, and at the time of Salaah he used to give Adhaan. Very seldom beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam went somewhere and someone other than Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu called the Adhaan. Whenever beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam went to Masjid al-Qubaa, then Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu would give the Adhaan and when hearing him, the people living around the area knew that beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam was in the area.

Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu used to give the Fajr Adhaan from the roof of the house of a lady from the tribe of Banu Najjaar. Her home was joined to the Masjid. From the time of Sehri he used to sit on the roof waiting for the time of Fajr. When it was time to commence the Adhaan then he should stretch his limbs, and make the following Du'a after which he gave the Adhaan.

اللهم إنى أحمدك وأستعينك على قريش أن يقيموا دينك
'Oh Allah I praise you, and I desire that You become aid to the Quraysh to establish Your Deen'

The woman from whose roof he gave the Adhaan said that there was not a day that he did not mention this Du'a. [Sunan Abi Dawud, Vol. 2, Page 198, Hadith 519]

https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/384393_10150417326035334_672380333_9045265_2020401637_n.jpg

TREASURER OF BELOVED PROPHET SALLALLAHO ALAIHI WA SALLAM

Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu was the Muazzin of beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam and his treasurer. If anyone came to beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam with any necessity then he used to ask Hadrat Bilaal to carry out this task who would then make sure to get the necessary item and fulfill the need on behalf of beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam

Hadrat Bilal mentioned it to Abdullah Al-Hawzaani that if some Muslims came who did not have anything to wear, then Rasoolullah SallAllaho Alaihi wa Sallam should order me to take a loan and purchase a cloth to clothe the needy.

Whilst doing this once Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu accumulated a heap of dates. Beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam asked Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu what is this? Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu answered I have accumulated this for you and your visitors. Beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam said, 'Oh Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu, spend it and do not fear it becoming less'

ENDURANCE OF HUNGER

Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu was the special companion of beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam. It is for this reason he also endured difficulties. Beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam said that undoubtedly, the fear he had for Allah was greater than anyone else. On one occasion thirty nights and days passed with him and Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu having had only that amount to eat which could be concealed under the armpits (side) of Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu.

COMPANIONSHIP WITH BELOVED PROPHET SALLALLAHO ALAIHI WA SALLAM

Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu was always present in the company of beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam. Hadrat Jaabir Radi Allahu Ta'ala Anhu mentions that at the time of Eid, he was present with beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam. Beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam started the Salaah without the Adhaan and Iqaamat and thereafter gave the Khutbah. Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu stood up and stood side by side with beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam while beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam stood up resting on him and after praising Allah, beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam delivered a lecture and reminded the people about the commands of Allah and encouraged the people to be obedient to Allah Ta'aala. Thereafter, he took Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu with him and addressed the women and ordered them to fear Allah and advised them and reminded them about the commands of Allah.

At one time Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu presented himself in the company of beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam It was morning and beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam was having meals. Beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam told Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu to join him. Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu mentioned to beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam that he was fasting. Beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam remarked, 'We are eating our sustenance and the sustenance of Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu is preserved in Jannah." Then he told Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu that the bones of a fasting person make Tasbeeh and the Angels request his forgiveness when something is eaten near him." [Mishkat al-Masabih]

https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc7/386511_10150417327765334_672380333_9045283_729182245_n.jpg

HEARTBREAK & IMMENSE GRIEF

After the passing away of Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam, Hadrat Bilal was overcome with immense grief. This death had completely shattered his heart and in this state, he decided that he could no longer stay in Madinah Sharif. He then gathered his belongings and left for Syria. He had just left the border of Madinah Sharif, when sleep overcame him. He found a tree to sleep under and took some rest there. In his sleep, Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam appeared in his dream and said, “Bilal, why did you leave me?” Hadrat Bilal immediately woke up and, without hesitation, made the journey back to Madinah Sharif.

When the people of Madinah saw Hadrat Bilal returning through the city gates, they were overwhelmed with joy. Word spread through the streets that Bilal, the Holy Prophet’s Muazzin had returned. As Hadrat Bilal made his way to the Holy Prophet’s Masjid, requests for him to do the Azan were ringing in his ears. People followed him through the streets, pleading for him to deliver the call to prayer once more. The blessed city had been deprived of his beautiful Azan for too long, and the people craved to hear it one last time.

However, since the passing away of Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam, Hadrat Bilal’s grief had been so immense that he resolved that he would never do the Azan again, and so he refused the pleas of the people. As he advanced towards the blessed Masjid, he saw the two beloved grandsons of Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam, Hadrat Hassan and Hussain. They too requested for him to do the Azan, and when he looked upon their blessed young faces, his love for them overwhelmed his heart. He knew he could never refuse them anything, and they were, after all, the grandsons of the one whose love had penetrated his heart through and through.

Hadrat Bilal then stood up on the Mimbar, assumed his position as the Muazzin and started to read the Azan. His voice, beautiful as it was, rang through the streets of Madinah Sharif, his pain and heartbreak evident in the painful tune. He read to his heart’s content, and in such a manner that there was not a person in the blessed city whose eyes were not wet with tears.

When Hadrat Bilal reached “Ash-hadu anna Muhammadur Rasulallah”, he broke down and could not continue. His pain and the pain of Madinah’s people was unbearable. Memories of the beautiful days when Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam sat amongst them penetrated their hearts with hurt and agony. The emptiness of their lives and their souls without Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam had devastated them and left them broken inside. Even the strongest amongst them who were usually able to suppress the pain could not hold back any longer.

https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/387746_10150417325905334_672380333_9045264_1262505031_n.jpg

STAY IN SYRIA

Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu then came in the presence of Hadrat Abu Bakr Radi Allahu Ta'ala Anhu and said, 'Oh Khalifah of Rasoolullah, without doubt I have heard from beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam that the best action of a Mu'min is Jihaad in the path of Allah and I have intended now to spend my life in Jihaad till I die." Hadrat Abu Bakr Radi Allahu Ta'ala Anhu said, 'Oh Bilaal! I swear by Allah and my right which is deserving to honored (it is for this reason) that during my lifespan you spend it in Madinah al-Munawwara and give Adhaan. Because I have become old and my time is near (death)." Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu then remained in Madinah Munawwarah. [Usdul Ghabah]

After Hadrat Abu Bakr Radi Allahu Ta'ala Anhu, Hadrat Umar Radi Allahu Ta'ala Anhu became Khalifah, then Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu came to him and said the same thing again. Hadrat Umar Radi Allahu Ta'ala Anhu gave the same answer which Hadrat Abu Bakr Radi Allahu Ta'ala Anhu had given, but Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu respectfully refused to stay any longer. Hadrat Umar Radi Allahu Ta'ala Anhu granted permission to him. Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu became a Mujaahid forever and went to Syria. During the Khilaafat of Hadrat Umar Radi Allahu Ta'ala Anhu when he went to Syria, then Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu gave Adhaan in his presence. The narrator says that on this day, Hadrat Umar Radi Allahu Ta'ala Anhu thinking of the days of beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam cried to such an extent which we never saw before.

MARRIAGE

While in Syria, Hadrat Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu got married but it is not known whether he had any children or not. The author of Usdul Ghabah states that at the time of death, Bilaal Radi Allahu Ta'ala Anhu had no children.

PASSING AWAY OF THE PROPHET’S MU'AZZIN

The great devotee and Muazzin of Rasulallah SallAllaho Alaihi wa Sallam, the courageous and beloved Abyssinian by the name of Hadrat Bilal Radi Allahu Ta'ala Anhu passed away in the 20th year after Hijrah in the middle of reading Adhan in Damascus, Syria between the years 638 and 642 at the age of 60 or 63 and there he is buried near 'Bab as-Sagheer'. When beloved Prophet SallAllaho Alaihi wa Sallam proclaimed Prophethood, he was 30 years old. He spent the remaining 33 years of his life in the assistance of this Deen, persecuted severely for admitting his Islam and despite this, he continued to announce boldly, 'Ahad, the One Allah!'. He participated in the battles and endured both hunger and pain. He was not only a Mu’azzin, but was granted the status of being the leader of the Mu’azzins.

https://fbcdn-sphotos-g-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/391041_10150417327270334_672380333_9045278_974413420_n.jpg

His respected stature during the birth of Islam is a perfect example of the importance of pluralism and racial equality in the foundations of Islam. May Allah SubHanuhu wa Ta'ala be pleased with him forever... Aameen!!