Tuesday, 28 April 2009

میرے پسندیدہ فائر فاکس ایڈاوونز

0 comments

Monday, 27 April 2009

گرمیوں میں کم پانی پینے سے گردے میں پتھری ہوسکتی ہے

0 comments

گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہرگھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے :حکیم خالد

لاہور 21اپریل… پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و جنرل ہسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آف یورالوجی ڈاکٹر ممتاز احمد اور یونانی میڈیکل آفیسر قاضی ایم اے خالد نے کہا ہے کہ موسم گرما میں گردے میں پتھری کے مریض خصوصی احتیاط برتیں۔ گرمیوں میں گردوں کی پتھری اور دیگر امراض گردہ میں تیزی سے اضافہ ہوجاتا ہے۔ طبی ماہرین نے کہا کہ گرمی میں گردے کے مریضوں کو زیادہ پانی پینا چاہئے تاکہ پیشاب میں پتھری بنانے والے اجزا کو خارج ہونے میں مدد ملتی رہے کیونکہ یہی رسوب دار اجزا کم پانی کی وجہ سے گردے میں جم کر پتھری کی شکل اختیار کرجاتے ہیں۔ جو لوگ گرمیوں میں پانی کم استعمال کرتے ہیں انہیں گردے کی پتھری کے مرض کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ یونانی میڈیکل آفیسر قاضی ایم اے خالد کے مطابق گردے کی پتھری سے محفوظ رہنے کیلئے ہر ایک گھنٹے بعد پانی کا گلاس پینا چاہئے جبکہ رات کو بھی سونے سے کم از کم ایک دو گھنٹہ قبل پیٹ بھر کے پانی پینا چاہئے۔ اس کے علاوہ ورزش کے بعد اور کھانے کے ساتھ بھی پانی زیادہ پینے سے گردے کے امراض کم لاحق ہوتے ہیں۔معالج کے مشورے سے خربوزہ’تخم خربوزہ اور کھیرے کا استعمال نیز دیگر موسمی پھل اور ان کے جوسزبھی گردے کے امراض میںفائدہ مند ہیں۔کلونجی آئل اورخالص سرکہ وشہد کا مرکب امراض گردہ خصوصاً پتھری اور ریگ گردہ کیلئے موثر ہے لیکن سرکہ سنتھیٹک یعنی مصنوعی نہ ہو ۔
٭…٭…٭


: قطب نما - طول عرض اور عرض بلد

0 comments
قطب نما ایک آلہ ہے جس سے سمتیں معلوم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ یہ ایک مقناطیسی سوئی سے کام کرتا ہے۔ چونکہ مقناطیسی سوئی کا ایک سرا مقناطیسی شمال کی طرف اشارہ کرتا ہے اس لیے اس سے شمال اور نتیجتاً دوسری سمتیں معلوم کرنا ممکن ہے۔ اسے چینیوں نے سب سے پہلے استعمال کیا۔ بعد میں مسلمانوں نے کئی صدیوں تک ستاروں کی مدد کے علاوہ قطب نما کو سمت شناسی کے لیے استعمال کیا۔ چودھویں صدی میں مغربی دنیا نے اسے استعمال کرنا شروع کیا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ قطب نما کی سوئی مقناطیسی شمال کی طرف اشارہ کرتی ہے، جغرافیائی شمال کی طرف نہیں۔ اصل سمت سے اس فرق کو مقناطیسی انحراف کہتے ہیں۔
تصوير
لمبائی (سنسکرت) یا طول (عربی. انگریزی: Length) کسی جسم کے سب سے دراز یا طویل سمت یا بُعد کو کہاجاتا ہے. نیز، فاصلہ یا وقت کی پیمائش کو بھی لمبائی کہاجاتا ہے.
کسی چیز کی لمبائی، اُس کے دونوں سِروں کے درمیان فاصلہ ہے۔لمبائی یا طُول، چوڑائی یا عَرض، اُونچائی اور وُسعت یا کُشادگی میں فرق ہے.
بین الاقوامی نظام اکائیات میں لمبائی کی اِکائی میٹر ہے.

شمالی قطب سے عموماً جغرافیائی شمالی قطب مراد لی جاتی ہے اگرچہ شمالی قطب کئی قسم کے ہیں۔ جغرافیائی شمالی قطب سے مراد زمین کا شمالی ترین نقطہ ہے یعنی °90 درجے شمالی عرض بلد۔ یہ ایسا نقطہ ہے جس سے آپ جس طرف کو بھی چل پڑیں آپ جنوب ہی کی طرف جا رہے ہوں گے۔ قطب نما اس جغرافیائی شمالی قطب کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ مقناطیسی شمالی قطب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ان تمام مختلف تعریفوں کے مطابق شمالی قطب کو بحری سفر کے لیے اور صحرا میں سفر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آج کل ان کا استعمال فلکیات دان، ریاضی دان اور ارضی علوم کے ماہرین کثرت سے کرتے ہیں۔ زمین کے جتنے نقشے بنتے ہیں وہ جغرافیائی شمالی قطب کو مدِنظر رکھ کر بنتے ہیں اسی لیے اسے صحیح شمالی قطب بھی کہتے ہیں۔ قابلِ تصدیق ریکارڈ کے مطابق پہلی دفعہ 1909 میں کوئی انسان اس تک پہنچ سکا تھا۔
تصوير
جغرافیائی شمالی قطب سے مراد زمین کا شمالی ترین نقطہ ہے یعنی °90 درجے شمالی عرض بلد۔ یہ ایسا نقطہ ہے جس سے زمین کا گردشی محور زمین کی شمالی سطح سے ٹکراتا ہے۔ گردشی محور وہ فرضی لکیر ہے جس پر زمین اپنے اردگرد گردش کرتی ہے۔ یہ ایسا نقطہ ہے جس سے آپ جس طرف کو بھی چل پڑیں آپ جنوب ہی کی طرف جا رہے ہوں گے۔ اسے صحیح شمالی قطب بھی کہتے ہیں۔ جغرافیائی شمالی قطب شمالی بحیرہ منجمد شمالی میں واقع ہے مگر اس پر برف کی موٹی تہہ جمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس پرمستقل تجربہ گاہیں تعمیر کی گئی ہیں۔ مقناطیسی قطب نما اس کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ مقناطیسی شمالی قطب کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اس سے سینکڑوں کلومیٹر دور بھی ہے اور بدلتا بھی رہتا ہے۔ جغرافیائی شمالی قطب چونکہ برف پر واقع ہے اور برف بہت غیر محسوس طریقہ سے کھسک رہی ہے اس لیے ادھر قائم تجربہ گاہیں حرکت کر کے شمالی قطب سے ھٹ جاتی ہیں۔ اسی لیے کچھ سالوں کے بعد انہیں بھی منتقل کرنا پڑتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ خود جغرافیائی شمالی قطب ایک جگہ نہیں بلکہ اس میں بہت معمولی تبدیلی آتی ہے۔ یعنی زمین لرزتی ہے۔ زمین کا گردشی محور کچھ میٹر تک حرکت کر سکتا ہے اور اس بات کو چانڈلر کا ارتعاش (Chandler wobble ) کہتے ہیں۔ گرمیوں میں چوبیس گھنٹے کا دن ہوتا ہے اور سردیوں میں چوبیس گھنٹے کی رات۔ 20 یا 21 مارچ کو سورج چھ ماہ کے لیے نکلتا ہے جس نے جون کے مہینے تک چڑھتے رہنا ہے۔ بیس جون کے بعد اس کا زوال شروع ہوتا ہے۔ 23 ستمبر کو سورج مکمل غروب ہو جاتا ہے جس کے بعد چھ ماہ کے لیے رات رہتی ہے۔

Two Heads Girls (Amazing)

0 comments
etails 23 Apr (4 days ago)
Reply to all

Sunday, 26 April 2009

سور کو حلال کرنے والے آج خود پریشان!

0 comments


جی ہاں، برڈ فلو کے بعد اب آگیا ہے "سور فلو"! میکسیکو سٹی میں اتھارٹیز تعلیمی ادارے، تھیٹرز اور لائبریریاں بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔ اوراس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اب یہ وائرس دنیا کے پیشر خطوں میں بھی پھیلا گا۔ اب تک میکسیکو میں اسکی وجہ سے 20 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ جبکہ 14 سے زائد افراد امریکی ریاستوں ٹیکساس اور جنوبی کیلی فورنیا سے اسمیں مبتلا ہیں۔ یہ وائرس چھونے سے پھیلتا ہے اور حیرت انگیز طور پرایسا وائرس پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔مطلب اسکا توڑ ڈھونڈنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔



سورس:www.vg.no

اپنی تصاویر میں حیرت انگیز تبدیلیاں لائیے

0 comments
اس آن لائن سافٹ ویئر کے ذریعے آپ اپنی تصاویر میں مختلف تبدیلیاں لاسکتے ہیں اور ان تبدیلیوں کیلئے آپ کو فوٹو شاپ یا کورل ڈرا کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ مثلا یہ میری ایک تصویر ہے:


اس تصویر میں کچھ اس طرح کی تبدیلیاں کی گئی ہیں:















اگر آپ کو یہ سائیٹ پسند آئے تو یہاں کلک کیجئے۔ اور فوٹو فنیا نامی سائیٹ کا وزٹ کیجئے اور اپنی تصاویر میں تبدیلیاں لاکر اپنے دوستوں کو حیران کردیں۔

آٹو کیڈ کا تعارف (Introduction to AutoCAD)

3 comments


دورِ حاضر میں انجینئرنگ / ڈیزائن سے متعلق جو سافٹ وئرز استعمال ہوتے ہیں ، وہ تمام CAD یعنی Computer-Aided-Design کے زمرے میں آتے ہیں۔ CAD سے متعلق بہت سارے پیکجز (Packages) دستیاب ہیں ۔۔۔
مثلاً : مائکرواسٹیشن (MicroStation) ، تھری ڈی اسٹوڈیو یا تھری ڈی میکس (3D-Max) ، ڈاٹا کیڈ (DATACAD) ، آرکی کیڈ (ArchiCAD) ، اریس (ARRIS) ، سوفٹ کیڈ (SoftCAD) ، انٹیلی کیڈ (اوپن سورس آٹوکیڈ) (IntelliCAD opensource) وغیرہ ۔

کمپیوٹر ایڈڈ ڈیزائننگ اور ڈرافٹنگ (CADD, Computer-Aided-Designing-&-Drafting) سے متعلق جتنے بھی سافٹ وئر دستیاب ہیں ۔۔۔ اِن تمام میں ایک AutoCAD ہی وہ واحد سافٹ وئر ہے ، جو ساری دنیا میں سب سے زیادہ مقبول ہے اور سب سے زیادہ استعمال بھی کیا جاتا ہے۔
آج سے کوئی پچیس تیس سال قبل ، دنیا بھر میں جو بھی ڈرائنگ (Drawing) بنائی جاتی تھی ، وہ کاغذ پر پنسل یا روشنائی والے قلم سے تیار کی جاتی تھی ۔۔۔ اور پھر ، ڈرائنگ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا مطلب تھا کہ ساری کی ساری ڈرائنگ شروع سے تیار کی جائے ۔ یہ اتنی بڑی خامی تھی جس کا حل نہایت مطلوب تھا۔ اور CAD کے نظام کی تخلیق نے یہ مسئلہ مستقل طور پر حل کردیا۔
واضح رہے کہ CAD یا CADD دراصل ڈرائنگ سے متعلق ایک کمپیوٹر نظام (Computer System) ہے اور اسی نظام کے تحت کئی سافٹ وئرز کام کرتے ہیں ، جن میں AutoCAD نسبتاً زیادہ معروف و مقبول ہے۔

آٹو کیڈ سافٹ وئر ۔۔۔ وژول بیسک (Visual Basic) کے تحت تیار کیا گیا ہے اور اِس کی جو فائل بنتی ہے ، اس کا ایکسٹنشن (extension) ہوتا ہے : "dwg" ۔
دیگر تمام CAD پیکجز کے لیے بھی یہی ایکس ٹنشن Default Standard قرار پایا ہے۔
ویسے آٹو کیڈ کے ذریعے ' dxf ' ایکس ٹنشن والی فائل بھی بنائی جا سکتی ہے ، جو کہ صرف ASCII text پر مشتمل ہوتی ہے اور دیگر سافٹ وئرز مثلاً فلیش (Flash) یا کورل ڈرا یا پینٹ شاپ پرو میں ایکسپورٹ کی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ آٹوکیڈ کی ڈرائینگ کو 'EPS' فارمیٹ میں بھی ایکسپورٹ کیا جا سکتا ہے۔

حساب و پیمائش کے لحاظ سے بالکل درست ڈرائنگ تیار کرنا AutoCAD کی ایک عمومی خاصیت ہے۔ کیونکہ AutoCAD ، پیمائش کی اکائی (Units of measurement) ، اسکیل (Scale) اور کاغذ کے سائز کو مدنظر رکھ کر ڈرائنگ کی تخلیق کرتا ہے۔ اور ڈرائنگ اِس حد تک درست (accurate) ہوتی ہے کہ اس کے print-out کی بنیاد پر عمارتیں/ صنعتی کار خانے (Factories) وجود میں آتے ہیں۔
AutoCAD ہر چند کہ ' اڈوبی فوٹو شاپ ' یا ' کورل ڈرا ' کی طرح خالصتاً گرافکس کا سافٹ وئر نہیں ہے ۔۔۔ بلکہ یہ انجینئرنگ ڈیزائن کے Line-Art سے تعلق رکھنے والا پروگرام یا اپلی کیشن (Application) ہے۔ اس کے باوجود، اس کے استعمال کنندگان میں جہاں زیادہ تر سول انجینئر ، آرکیٹکٹ ، میکانیکل / الکٹریکل انجینئر ، ایرو ناٹیکل انجینئر اور نقشہ ساز نظر آتے ہیں، وہیں مختلف پیشہ ورانہ شعبہ جات میں بھی اس کا استعمال عام ہے۔


آٹو کیڈ کی تاریخ (History of AutoCAD)

AutoDesk Inc.
اُس قابل تحسین کمپنی کا نام ہے جس نے CADD کی دنیا میں سب سے پہلے AutoCAD کو متعارف کرایا تھا اور آج بھی AutoCAD کے جملہ حقوق اسی کے نام محفوظ ہیں۔
آٹوڈیسک انکارپوریشن کے مطابق ورژن ہسٹری کچھ یوں ہے :
ڈسمبر 1982 ء میں آٹو کیڈ کا سب سے پہلا ورژن ، یعنی Ver.-1.0 ریلیز کیا گیا تھا۔
آٹو کیڈ کی ریلیز 8 کو " Ver.-2.6" کا نام دیا گیا تھا، جو اپریل 1987ء میںلانچ ہوا۔
اور پھر ریلیز 9 ، " Ver.-9" ہی کے نام سے ستمبر 1987ء میں لانچ کیا گیا۔
اسی طرح ۔۔۔
Ver.-10 ، اکٹوبر 1988ء میں ،
Ver.-12 ، جون 1992ء میں ،
Ver.-14 ، فبروری 1997ء میں ،
Ver.-2000 ، مارچ 1999ء میں ،
۔۔۔ اور
Ver.-2006، مارچ 2005ء میں۔
اِن تمام versions میں 10 ، 12 ، 14 ، 2000 ، 2006 نے دیگر versions کے مقابلے میں زیادہ مقبولیت پائی اور ان کا استعمال بھی زیادہ ہوا۔
مارچ 2009ء میں آٹوکیڈ کا تازہ ترین ورژن یعنی AutoCAD-2010 ۔
منظر عام پر آیا ہے

آٹو کیڈ کے فوائد (Advantages of AutoCAD)
دیگر گرافکس پروگرام کے مقابلے میں آٹوکیڈ کی یہ انفرادیت ہے کہ ۔۔۔ اس کی سافٹ کاپی (یعنی dwg فائل) کا پرنٹ (یعنی ہارڈ کاپی) کاغذ پر نکال لینے کے بعد ہم بآسانی کاغذ پر بنی ڈرائنگ کی کسی بھی Scale سے پیمائش کر سکتے ہیں۔
مثلاً کسی کو اپنے گھر کا پلان تیار کرنا ہے اور وہ پلان اس کو A4 سائز کے کاغذ پر چاہئے ۔۔۔ تو مکان کے رقبے (Area) اور کاغذ کے سائز (A4; 297x210 mm) کو دھیان میں رکھتے ہوئے کوئی بھی مناسب Scale ( مثلاً 1:100 یا 1:50 ) پر ڈرائنگ بنائی جا سکتی ہے اور پرنٹ کرنے کے بعد کاغذ پر بنے ڈرائنگ کے حصوں کی بالکل درست پیمائش حاصل کی جا سکتی ہے۔

معیار اور مقدار ۔۔۔ آٹو کیڈ اِن دونوں کے معاملے میں کافی آگے ہے۔
مثلاً اگر ہم کو کسی گھر کا بنا بنایا پلان مختصر سی تبدیلی کے ساتھ دوبارہ پرنٹ کر کے دینا ہے تو آپ منٹوں میں تبدیلی کا کام کرکے ڈرائنگ کا پرنٹ آؤٹ نکال سکتے ہیں۔
ہاتھ سے ڈرائنگ بنانے یعنی Manual Drafting میں جتنا وقت اور پیسہ ضائع ہوتا ہے ، آٹوکیڈ کا استعمال اس کو ناقابل یقین حد تک کم کرتا ہے۔
مسلسل یا متعدد مرتبہ اور تیزرفتاری کے ساتھ اگرکسی چیز کی نقل مطابق اصل (Duplicate) بنانی ہو تو اس کام میں آٹوکیڈ حیرت انگیز طور پر ہمارا بہترین معاون ثابت ہوتا ہے۔
اسکی ایک مثال :
آپ کے گھر کے نقشے میں تین عدد بیت الخلاء (Toilet) بنائے گئے ہیں اور تینوں نقشہ جات میں ایک مخصوص مقام پر آپ کو مشرقی کموڈ دکھانا ہے تو یہ کام آٹوکیڈ کے لیے سیکنڈوں کا کام ہے۔
دراصل آٹوکیڈ ، ڈرائنگ میں موجود ہر قسم کی شئے کو اپنی میموری میں محفوظ رکھتا ہے اور دوبارہ طلب کی جانے والی شئے کو ایک ہی command پر وہ صحیح مقام یعنی بالکل درست dimension پر بٹھا دیتا ہے۔
کاغذ پر کوئی پیچیدہ قسم کے مشینی پرزہ کی ڈرائنگ بنانا بے تحاشا دقت طلب کام ہوتا ہے کیونکہ پیمائش کا حساب کتاب اور reference point سے خاص حصوں کی پیمائش ۔۔۔ بہت وقت طلب کام ہوتا ہے ، جبکہ اس معاملے میں آٹوکیڈ اپنے خودکار Math-Processor کے سبب آپ کو حساب کتاب کرنے کی زحمت اٹھانے نہیں دیتا۔
Zoom-In اور Zoom-Out کی مسلسل دستیاب سہولت کی بنیاد پر ہم ڈرائنگ کے کسی بھی پسندیدہ حصے کو سارے اسکرین پر نمایاں کر کے اُس خاص حصے کو بآسانی تبدیل یا Edit کر سکتے ہیں۔
دو بُعد (یعنی 2-Dimension ) ، یعنی طول (Length) اور عرض (Width) کے علاوہ آٹوکیڈ میں اَبعادِ ثلاثہ (3-Dimension) کی ڈرائنگ بھی بنانے کی سہولت حاصل ہے۔ اور 3D Object کو render بھی کر سکتے ہیں۔ اور پھر اسی Rendered Object کو کسی بھی گرافکس پروگرام کے لیے بطور image فائل ایکسپورٹ کیا جا سکتا ہے۔


اختتامیہ
یہ آٹوکیڈ (AutoCAD) کا ایک مختصر سا تعارف تھا۔
اس کو تحریر کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آٹوکیڈ سیکھنے والے کو علم رہے کہ عام گرافکس پروگرام کی طرح آٹوکیڈ کوئی عام سافٹ وئر نہیں ہے ۔ بلکہ یہ انجینئرنگ کے فن سے تعلق رکھتا ہے ۔ اور اس کو صحیح طور سے سیکھنے اور اس پر عبور حاصل کرنے کے لیے اس کے پس منظر سے واقفیت بھی ضروری ہے۔
اس کے علاوہ ۔۔۔ جیسا کہ آج کل روایت بن گئی ہے کہ کسی بھی سافٹ وئر کو سیکھنے کے لئے اس کے چند commands کا علم اور اس کا تجربہ کافی سمجھا جاتا ہے ، واضح رہے کہ آٹوکیڈ کے ساتھ ایسا رویہ برتا نہیں جا سکتا۔
یہ ضروری تو نہیں لیکن مناسب ترین اَمر یہی ہے کہ آٹوکیڈ کا سیکھنے والا انجینئرنگ پس منظر رکھتا ہو یا کم سے کم Mathematics کے بنیادی اصولوں سے واقف ہو۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ آٹوکیڈ کی ہر ڈرائنگ باقاعدہ پیمائش کے اصولوں کے تحت Meter/Centimeter یا Foot/Inches میں بنائی جاتی ہے اور کاغذ پر اس کا پرنٹ نکالنے کے بعد کاغذ پر بنی ڈرائنگ کی بالکل درست پیمائش بھی کی جا سکتی ہے۔

خاکسار نے سول انجینئرنگ کالج میں آٹو کیڈ کی 2D انٹرفیس کی بجائے اسی کمپنی کا تھری ڈی انوائرنمنٹ والا Revit Architecture استعمال کیا ہے۔ ہمارے اساتذہ بتاتے تھے کہ جو کام آٹو کیڈ پر ۳ دن میں ہوتا ہے، وہی کام ریوٹ پر ۳ گھنٹے میں ہو جاتا ہے۔ نیز ریوٹ میں BIM فیوچرز کی وجہ سے کنسٹرکشن مکمل ہونے بعد تک کے تمام مراحل سیمولیٹ کئے جا سکتے ہیں۔اور اسکو سیکھنا بھی بہت آسان ہے۔ انڈیا میں کئی بلڈنگز ریوٹ پر ڈیزائن ہوئی ہیں۔

http://usa.autodesk.com/adsk/servlet...&siteID=123112

آٹوڈیسک نے ریوٹ کے متعلق کافی لمبے دعوے کئے تھے مگر ریوٹ کی متنوع افادیت کے باوجود سالہا سال سے پھیلی آٹوکیڈ کی اجارہ داری کو ختم تو کیا کم بھی نہ کیا جا سکا۔
ممکن ہے نیکسٹ جنریشن ریوٹ کو فالو کرے کیونکہ یہ بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ (BIM) کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔
ویسے جہاں تک برصغیر اور مڈل ایسٹ کی کنسٹرکشن/ آرکیٹکچرل کنسلٹنگ کمپنیوں کی بات ہے ، ان میں زیادہ تر دو ہی سافٹ وئر استعمال ہوتے ہیں ، یا تو آٹوکیڈ یا پھر بنٹلے کا مائیکرواسٹیشن۔ کچھ استثنائی صورتیں بھی ممکن ہو سکتی ہیں