Friday, 28 November 2008

حج کی اِقسام

0 comments

حج کی اِقسام
حج کی اِقسام (قِسمیں )

مختصرحج کی تین اِقسام ہیں ، اور اُن کے مطابق طریقوں پر حج اَدا کیا جا سکتا ہے ، اِن تینوں میں کُچھ تھوڑا سا فرق ہے اور کُچھ اَحکامات کا فرق ہے ، یہ فرق یہاں بہت مُختصراً بیان کر رہا ہوں۔

::::: حج تمتع:::::

تمتع کے معنی ٰ ہیں فائدہ اُٹھانا ::: اِس حج میں چونکہ حاجی عُمرہ اور حج کے درمیان حالتِ اَحرام کی پابندیوں سے آزاد رہتا ہے اِس لئیے اِس کو تمتع کہا جاتا ہے ۔ ::::: حج کے مہینوں میں کِسی وقت بھی حج کے اِرادے سے عُمرہ ، جِسے ،"طوافِ قُدُوم "بھی کہا جاتا ، کر کے حلال ہوا جاتا ہے یعنی حالتِ اَحرام سے آزاد ہوا جاتا ہے ، اور پھر آٹھ ذی الحج تک عام معمولات کے مُطابق بغیر اَحرام کی پابندیوں کے رہا جاتا ہے ، آٹھ ذی الحج کو دوبارہ حج کے اِرادے سے حالت اَحرام میں داخل ہو ا جائے گا اور مِنیٰ کی طرف روانہ ہوا جائے گا ، اور مناسکِ حج ادا کیئے جائیں گے ، دس ذی الحج کو پتھر مارنے کے بعد اَحرام کی تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں اور سوائے بیوی کے ہر چیز حلال ہو جاتی ہے ، "طوافِ افاضہ " کرنے کے بعد یہ ایک پابندی بھی ختم ہو جاتی ہے ، لیکن اگر دس ذی الحج کو مغرب سے پہلے "طوافِ افاضہ" نہ کیا گیا تو اَحرام کی تمام پابندیاں پھر سے لاگو ہو جائیں گی اور عام لباس اُتار کر اَحرام کا لباس پہننا پڑے گا ۔ اِس کا بیان " دس ذی الحج میں کیے جانے والے کام " میں ہے ۔

::::: حج قران:::::

::::: قِران ::: کا معنی ہے ، ایک چیز کو دوسرے کے ساتھ رکھنا ، اور حج کے اِس طریقے کو قِران اِس لیے کہا جاتا ہے کہ اِس طریقے پر حج کرنے والا عپمرہ اور حج کرتے ہوئے اپنی قُربانی کا جانور ساتھ رکھتا ہے :::لہذا ، حجِ قِران کرنے والا قُربانی کا جانور ساتھ لائے گا او ر عُمرہ یعنی طوافِ قُدُوم کرنے کے بعد حلال نہیں ہو گا ، بلکہ اپنے مناسک ادا کرنے تک حالتِ اَحرام میں رہے گا ، تمتع اور قِران میں اُوپر بیان کئیے گئے دو ہی فرق ہیں ، اِن کے عِلاوہ سب مناسک اور کام ایک جیسے ہیں ۔

::::: حج ِ اِفراد:::::

::::: اِفراد ::: اِفراد کا مفہوم ہے اکیلا کرنا ، یعنی حج کو عمرے سے الگ کرنا :::حجِ اِفراد کرنے والا چاہے تو طوافِ قُدُوم کر سکتا ہے جِس میں صفا اور مروہ کی سعی نہیں ہوتی ، اگر کوئی چاہے تو سعی بھی کر سکتا ہے ، یہ سعی اُس کے لئیے طوافِ افاضہ کی سعی کا متبادل ہو سکتی ہے ، اگر اِفراد کرنے والا طوافِ قُدُوم نہیں کرتا تو اُسے حج کا تلبیہ کہتے ہوئے حالتِ اَحرام میں داخل ہو کر آٹھ ذی الحج کو سیدھا مِنیٰ جانا ہوتا ہے اور پھر طوافِ اِفاضہ کرنے تک تمتع اور قِران کرنے والوں کی طرح باقی مناسک ا دا کئیے جاتے ہیں ، سوائے قُربانی اور طوافِ وداع کے : حجِ اِفراد کرنے والا یہ دونوں کام نہیں کرے گا

۔ ::::::یہ بات بہت اچھی طرح سے سمجھ کر یاد رکھنے کی ہے کہ حجِ افراد صِرف مکہ والوں کے لئیے ہے ، عام طور پر یہ ہی کہا جاتا ہے کہ اہل ِ میقات بھی یہ حج کر سکتے ہیں ، بلکہ اللہ کے کُچھ بندے ، میقات کا لحاظ بھی نہیں کرتے اور ہر کِسی کو حجِ افراد کرنے کا فتویٰ دیتے ہیں ، اللہ جانے اِس قِسم کی بات کرنے والے میقات اور حرم کی حدود کا فرق بُھول جاتے ہیں یا اپنے اپنے مذہب کی پابندی اُنہیں اِس قِسم کے فتوے دینے پر مجبور کرتی ہے ، یہ الفاظ پڑہنے والے بھی شاید اِس بات کو سُن کر حیران ہوں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے ، آئیے ، دیکھئیے اور سمجھئیے کہ یہ کیسے ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورت بقرہ آیت ١٩٦میں فرمایا (وَ اَتِمُّواْ الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّہِ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ وَلاَ تَحْلِقُواْ رُؤُوسَکُمْ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ فَمَن کَانَ مِنکُم مَّرِیْضاً اَوْ بِہِ اَذًی مِّن رَّاسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِّن صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ فَاِذَا اَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاثَۃِ اَیَّامٍ فِیْ الْحَجِّ وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ذَلِکَ لِمَن لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہُ حَاضِرِیْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاتَّقُواْ اللّہَ وَاعْلَمُواْ اَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَاب )( اور حج اور عُمرہ اللہ کے لئیے پورا کرو ، اور اگر تُم روک لئیے جاؤ تو جو قُربانی مُیسر ہو وہ کر دو ، اور جب تک قُربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے اُس وقت تک سر نہ مُنڈواؤ ، البتہ تم میں سے اگر کوئی بیمار ہو یا اُس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو اُس پر فدیہ ہے ، چاہے تو روزے رکھے چاہے تو صدقہ کرے اور چاہے تو قُربانی کرے ، اور جب تم امن کی حالت میں آ جاؤ ، تو پھر تم میں سے جو عُمرہ سے حج تک کے وقت کا فائدہ اُٹھائے ، تو جو اُسے مُیسر ہو وہ قُربانی کرے ، اور اگر قُربانی کرنے کی توفیق نہ ہو تو تین روزے حج ( کے دِنوں ) میں رکھو اور سات ( اُس وقت ) جب ( اپنے گھروں ) میں واپس پہنچو ، ( اِس طرح ) یہ دس پورے ہوئے ، یہ سب ( کُچھ کرنا ) اُس کے لئیے ہے جِس کے گھر والے مسجدِِ حرام کے حاضرین میں سے نہیں ) ، اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان کے ذریعے صاف صاف سمجھ آ رہا ہے کہ ، عُمرہ اور حج دونوں مکمل کرنا ہیں پھر قربانی کرنا ہے اور قُربانی نہ کر پانے کی صُورت میں روزے رکھنے ہیں ، اور یہ سب حُکم اُس کے لئیے ہیں جو مسجدِ حرام کا حاضر نہیں ، اور جو مسجدِ حرام کا حاضر ہے اُسے یہ سب کُچھ کرنے کا حُکم نہیں ، یعنی وہ بغیر عُمرہ اور قُربانی کے صِرف حج کر سکتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے اِس حُکم کا یہ ہی معنیٰ اور مفہوم ہے ، اگر ایسا نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ آنے والے صحابہ کو بار بار حُکم دے کر اُن کے اَحرام نہیں کھلواتے ، اور یہ نہیں کہتے کہ جِس کے ساتھ قُربانی کا جانور نہیں وہ اپنے اَحرام کو عُمرہ کا اَحرام بنائے اور حلال ہو جائے ، اور یہ نہیں فرماتے کہ ( عُمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے ) اور اپنے مُبارک ہاتھوں کی اُنگلیاں ایک دوسری میں ڈال کر نہ دِکھاتے کہ عُمرہ اِس طرح حج میں داخل ہو گیا ہے ، اور جب صحابہ نے پوچھا کہ ::: کیا یہ صِرف ہمارے لئیے ہے ؟ تو یہ نہ فرماتے ( نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے ہے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے ہے ، ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے ہے ) اتنی وضاحت کے بعد کیا بچتا ہے جو حق کو چھپانے کا سبب بنتا ہے ؟یہاں طوالت کے ڈر سے بات کو مختصر کر رہا ہوں ورنہ ایک ایک حدیث کو حرفاً حرفاً نقل کرتا ، فی الوقت اِنشاءَ اللہ ، اتنا کہنا ہی کافی ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس حُکم اور اِس وضاحت کو بہت سے صحابہ نے روایت کیا ہے ، اور حدیث کی شاید ہی کوئی کتاب اِس کے بغیر ہو ، اگر کوئی صِرف صحیح البُخاری ، کتاب الحج ، احادیث ، ١٥٥٩ تا ١٥٦١ اور حدیث ١٥٦٤ ، ١٥٦٥ ، ١٥٦٧ ، ١٥٦٨ ، ١٥٧٠ ، ١٥٧٢ ، اور صحیح مُسلم ، کتاب الحج ،احادیث ١٢١١ ، ١٢١٣ ، ١٢١٦ ، ١٢١٧ ، ١٢١٨ ہی دیکھ لے تو اُس کی پریشانی دور ہو جائے گی اِنشاءَ اللہ۔ کتاب "" حج اور عُمرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر "" سے ماخوذ ۔والسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ

Saturday, 22 November 2008

قومی ترانہ شاعر موسیقار منتخب ساز

0 comments

قومی ترانہہر ملک و قوم کا ایک قومی ترانہ ہوتا ہے جس سے اسکے ماضی حال اور مستقبل کے بارے میں وہاں کے باشندوں کے خیالات کا اندازہ ہوتا ہے۔

قومى ترانہ

پاک سرزمین شاد باد

كشور حسين شاد باد

تو نشان عزم عالي شان !

ارض پاکستان

مرکز یقین شاد باد

پاک سرزمین کا نظام

قوت اخوت عوام

قوم ، ملک ، سلطنت پائندہ تابندہ باد

شاد باد منزل مراد

پرچم ستارہ و ہلال

رہبر ترقی و کمال

ترجمان ماضی شان حال !

جان استقبال

سایۂ خدائے ذوالجلال

National Anthem English translation
Blessed be the Sacred Land Happy and bounteous realm Symbol of high resolve Land of Pakistan Blessed be thou, Citadel of Faith The Order of this Sacred Land Is the might of the Brotherhood of the People May the nation, the country, and the state Shine in glory everlasting Blessed be the goal of our ambition This Flag of the Crescent and Star Leads the way to progress and perfection Interpreter of our past, glory of our present Inspiration of our future Symbol of the Almighty's protection
شاعرقومی ترانہ
نامور شاعر ابو لاثر حفیظ جالندھری کا تحریر کردہ ہے جو جون 1954 میں منظور ہوا
۔موسیقار
قومی ترانہ کی دھن مشہور موسیقار احمد جی چھاگلہ نے مرتب کی تھی جسکا کل دورانیہ 80 سیکنڈ پر محیط ہے۔
منتخب ساز
قومی ترانہ بجانے کے لیے منتخب ساز درج ذیل ہیں
۔ولایتی طرز کی بانسری کلارنٹ اوبوا سیکسو فون کارنٹ ٹرمپٹ ہارن سلائیڈ ٹرومبون بیس ٹرومبون یوفونیم بے سون بیس اور ولایتی طرز کے ڈھول پکولو
قومی ترانے کی منظوری دینے والی کمیٹی
چیرمینجناب ایس ایم اکرام، ارکانسردار عبد الرب نشتر، پیر زادہ عبدالستار، پروفیسر چکراورتی، چودھری نذیر احمد خان، زیڈ اے بخاری، اے ڈی اظہر، کوی جسیم الدین، ابو الاثر حفیظ جالندھری