Wednesday, 2 September 2009

یزید رحمہ اللہ اور رافضی سازش

0 comments
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


السلام علیکم !

الحمد اللہ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی۔۔۔ اما بعد!۔
تقریبا دو سال قبل میرا ایک کتابچہ بنام امیر المومنین یزید ابن معاویہ رحمۃ اللہ شائع ہوا تھا جو بحمد اللہ بڑی مقبولیت حاصل کیا۔ بیشمار احباب نے اس کتابچہ پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا اور اعتراف کیا کہ واقعی ہم بڑی غلط فہمی میں مبتلا تھے اور ناحق ایک صالح خلیفہ پر لعنت اور تبرا کرتے رہے اللہ ہمیں معاف فرمائے اس میں شک نہیں بعض گرم و تلخ خطوط بھی وصول ہوئے ایک کرم فرمانے تحریر کیا کہ اگر تو یزید کو صالح سمجھتا ہے تو تیرا حشر یزید کے ساتھ ہوگا اور ہم عاشقان اہل بیت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ محشور ہونگے۔۔۔

حال ہی میں میرے دو کتابچے بنام۔ دعوت فکر۔ اور صوفی کانفرنس کے خدوخال۔ پانچ پانچ ہزار کی تعداد میں نکلے اور ان پر بحمدللہ خوب داد تحسین ملی لیکن کسی کام کی عنداللہ مقبولیت کا ثبوت ہی کیا جب تک کسی حلقے سے اس پر ناراضگی اور گرما گرمی نہ ہو چنانچہ ایک مخصوص حلقے میں میرے خلاف غیظ و غضب کا لاوا پکنے لگا اس لاوے کو پھُوٹ پڑنے کے لئے کوئی بہانہ چاہئے تھا اسی حلقے کے ایک فرد نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ماہ محرم اور عاشورہ کی مناسبت سے اور خاص طور پر اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ ان ایام میں عامۃ المسلمین میں جذباتی کیفیت غالب رہتی ہے میرے کتابچے (یزید ابن معاویہ رحمۃ اللہ) کے چند اقتباسات اخبار (رہمنائے دکن) مورخہ ٥ جون ١٩٩٧ء میں شائع کر دیئے اب کیا تھا؟؟؟۔۔۔ دیوانہ وار ہوئے بس است یار لوگوں کو میرے خلاف اپنی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا یزید حقائق کے آئینہ میں اس عنوان کے تحت ایک مضمون رہنمائے دکن مورخہ ١٤ جون ١٩٩٧ء کو شائع کیا گیا اور اس مضمون میں مجھ پر خوب ملامت کی گئی جب اس سے بھی سیری نہیں ہوئی تو ایک کتابچہ شائع کیا جس میں ان لوگوں نے اپنی دانست میں میری (نقاب کشائی) کی اب آئیے دیکھیں اس نقاب کشائی کے ضمن میں کس کے چہرے بے نقاب ہوتے ہیں اور کس کے کذب وافتراء کا پردہ چاک ہوتا ہے۔۔۔

نسب پر طعن!۔
علمی مسائل میں خواہ کتنا ہی شدید اختلاف ہو یہ اختلاف اخلاق اور شرافت کے حدود میں ہونا چاہئے اور گفتگو صرف مسائل ہی سے متعلق ہونی چاہئے مسائل سے ہٹ کر ذاتیات پر حملے کرنا نسب پر حرف رکھنا جھوٹے الزامات عائد کرنا، بالکل یہ غیر عالمانہ اور غیرمہذب طریقہ ہے یہ طریقہ نچلے قسم کے لوگ اختیار کرتے تو کوئی افسوس کی بات نہیں تھی لیکن جب ایسے لوگ جو صوفی اور مشائخ ہونے کے ناطے تزکیہ نفس، اخلاق حسنہ، تالیف قلب اور رشد و ہدایت کے علمبردار ہونے کے مدعی ہیں اور یہ غیر مہذب طریقہ اختیار کرتے ہیں تو سوائے قوم و ملت کی بدبختی کا ماتم کرنے کے اور کیا کیا جاسکتا ہے انہوں نے اپنے مضمون کی بسم اللہ ہی میرے نسب پر طعن سے کی اور مجھے حُسینی سے یزیدی قرار دے کر اپنا دل ٹھنڈا کیا اتنا نہیں سوچا کہ مجھے یزیدی کہنے سے میرا کیا بگڑنے والا ہے اللہ تعالٰی نے مجھے حُسینی نسب میں پیدا کیا ہے اور لاتبدیل لخلق اللہ کی مصداق میں دنیا کی کوئی طاقت مجھے حُسینی سے کچھ اور نہیں بنا سکتی بحمداللہ میرا نسب حُسین رضی اللہ عنہ کی ذات اقدس تک موتی کی طرح صاف و شفاف ہے میں شرعی عدالت میں حلفیہ اقرار کر سکتا ہوں کہ میں صحیح النسب حُسینی سید ہوں میرے نسب پر حرف گیری کرنا لازما چاند پر تھوکنے کی کوشش کرنا ہے افسوس ہے کہ ان لوگوں نے صحیح مُسلم کی اس حدیث پر نظر نہیں کی جس میں الطعن فی الانساب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے امور جاہلیت میں سے فرمایا ہے (کتاب الجنائز)۔ اور نسب پر طعن کو کفر قرار دیا ہے (صحیح مسلم۔ باب الطلاق اسم الکفر علی الطعن الانساب والنیاحتہ) اب میرے نسب پر طعن کرنے والے اور میری نقاب کشائی کرنے والے حضرات ان احادیث شریفہ کے آئینہ میں اپنی نقاب کشائی کر کے اپنی نورانی صورتیں دیکھ لیں۔۔۔

شرمناک اتہامات!۔
میرے کذب و افتراء کا پردہ چاک کرنے والے حضرات نے مجھ پر تین بدترین اور شرمناک اتہامات لگائے ہیں۔۔۔

پہلا انتہام یہ ہے کہ میں نے نعوذ باللہ ہزار بار نعوذ باللہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ظالم، باغی، مفسد، اور کربلا میں فساد اور خون ریزی کا ذمہ دار قرار دیا ہے یہ بات صرف میرے خلاف زہر پھیلانے کے لئے کہی گئی ہے ان لوگوں کے دلوں میں واقعی اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ تعالٰی عزیز ذوانتقام ہے اور اس بات کی ذرا بھی پروا ہے کہ ایک دن اللہ تعالٰی کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے کئے اور کہے کی جوابدہی کرنی ہے تو وہ بتائیں کہ میری تحریروں میں، میں نے کہاں مذکورہ بالاایمان سوز الفاظ لکھے ہیں اتنی صریح جھوٹ اور اتنا شرمناک بہتان کیا کسی صوفی اور مشائخ کے شایان ہوسکتا ہے؟؟؟۔۔۔

دوسرا بہتان یہ ہے کہ میں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کا منکر ہوں اور ان کو جھوٹ قرار دیتا ہوں یہ بات بھی میرے خلاف جذبات کو بھڑکانے کے لئے کہی گئی ہے یہ بات ضرور ہے کہ میں فضائل علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کی ان روایات کو جن میں حضرات خلفاء ثلاثہ اور اصحاب جمل و صفین پر طنز و تعریض ہو شیعوں کی مقریات ہونے کی بناء پر تسلیم نہیں کرتا اس کی صراحت میں نے اپنی کتاب جوامع الکلام پر مزید تحقیق کے صفحہ ١١ پر کی ہے ایسی صورت میں یہ کہنا کھُلی شرارت کے سوا اور کیا ہے کہ میں خاص طور پر حضرت حسین رضی اللہ کے فضائل و مناقب کا سرے سے منکر ہوں۔ سبحانک ھذا بہتان عظیم۔

تیسرا یہ مجھ پر کس قدر شرانگیز اور شرمناک بہتان ہے کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے دشمنوں اور قاتلوں سے محبت اور حمایت جتانے کے لئے اپنا زور قلم صرف کر رہا ہوں اگر ان بہتان تراشیوں پر (وعلی ابصارھم غشاوہ) کی کیفیت نہیں ہے تو یہ کھُلی آنکھ سے میرے کتابچہ میں دیکھ سکتے ہیں کہ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کے لئے دشمنان اسلام، غدارانِ ملت اور ظالم کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور کھُل کر لعنت کی ہے جیسا کہ آگے آئے گا میرے نزدیک حضرت یزید اور ان کی فوج آپ رضی اللہ کی شہادت کی ذمدار نہیں ہے آپ رضی اللہ عنہ کے قاتل کوفے کے سائی تھے جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر بلایا تھا میں ان سبائیوں پر ضرور لعنت کرتا ہوں میں حضرت یزید کی مدح کرتا ہوں تو یہ قطعاً نہیں کہا جاسکتا کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے دشمنوں اور قاتلوں سے محبت اور حمایت جتاتا ہوں۔۔۔

اللہ تعالٰی نے اہل ایمان پر ناکردہ الزام لگا کر انہیں دُکھ اور اذیت پہنچانے والوں کو بہتان اور اثم مبین کا ذمدار قرار دیا ہے (سورہ احزاب آیت ٥٨) ان لوگوں نے مجھ پر جھوٹے الزامات لگا کر بلاشبہ مجھے اذیت پہچنائی ہے اور بہتان عظیم اپنے سر لیا ہے ہو سکتا ہے یہ بہتان تراشی اورکذب و افتراق متقدش مآبوں کی غیرت ایمانی کا عین تقاضا ہو لیکن یہ لوگ ضرور اللہ کے پاس ماخوذ و مسئول ہونگے اللہ تعالٰی کے قہر و جلال کے آگے اپنے کئے اور کہے کی جوابدہی انہیں کرنی ہوگی۔۔۔

سچا کون اور جھوٹا کون؟؟؟!۔۔۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ حاضر الوقت صحابہ کرام، تابعین، اور تابع تابعین جو (واقعات کربلا کے) چشم دیدہ گواہ تھے انہوں نے متفقہ طور پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومیت کا بھرپور اعتراف کیا ہے اور یزید کے ظلم و ستم کی تصدیق کی ہے اب ان بزرگواروں کے اقوال کو جھوٹ قرار دینے والا خود کس قدر کذاب ہوگا۔۔۔ یہ میں کہتا ہوں کہ حضرت حُسین رضی اللہ عنہ پر کربلا میں بھیانک مظالم کی داستانیں ہی خود ساختہ کہانیاں اور خود تراشہ افسانے ہیں حاضر الوقت صحابہ کرام اور تابعین عظام نے اس حادثہ کو بے حد افسوسناک سہی لیکن اتفاقی اور غیر متوقع حادثہ سمجھا اور صبر کے ساتھ خاموشی اختیار فرمائی کوئی مستند روایت نہیں ہے کہ ان بزرگواروں نے ان فضول داستانوں کی تصدیق کی ہو اس وقت کتنے ہی صحابہ بقید حیات تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے حضرت حُسین رضی اللہ عنہ کو سجدہ کی حالت میں فرق رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھے دیکھا اور دیکھا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لاڈلے نواسے کے لئے سجدہ کو دراز کر دیا تھا وہ صحابہ کرام بھی زندہ تھے جنہوں نے الحسین منی وانا من الحسین اور ھما ریحانتلی وغیرہ ارشادات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت فرمائی تھی کیا وہ سب حضرات صرف آپ کی مظلومیت کے اعتراف کے بعد اپنی ذمداری سے سبکدوش ہوجاتے ہیں؟؟؟۔۔۔ اسلام میں کافر کی لاش کا مُثلہ کرنے کی ممانعت ہے کیا یہ سب حضرات صرف لاشئہ مبارک کو گھوڑوں کی سموں سے روندنے کی ٹھنڈے پیٹ روایت کر کے حبِ رسول اللہ علیہ وسلم اور آلِ رسول کی کسوٹی پر پورے اُترتے ہیں؟؟؟۔۔۔ کیا ان سب حضرات کا فریضہ نہیں تھا کہ آلِ رسول کا انتقام لینے کے لئے تلواریں سونت کر حکومت کے خلاف کھڑے ہوجاتے؟؟؟۔۔۔ کربلا کے مظالم پر غور کیجئے ایسے بھیانک مظالم کسی کافر و مشرک یہودی و نصرانی پر بھی ہوتے تو مسلمان کا فریضہ بنتا ہے کہ اس کی حمایت میں کھڑے ہوں اور ایسی ظالم حکومت کو تباہ و تاراج کرکے رہیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا جو مقام تھا اس وقت عالم اسلام کا بچہ بچہ اس سے واقف تھا دنیا کے وسیع و عریض حصہ پر پھیلی ہوئی مملکت اسلامیہ میں ایسی محبوب اور عظیم المرتبت شخصیت پر بھیانک مظالم پر کیوں تہلکہ نہیں مچ گیا؟؟؟۔۔۔ اگر اس وقت کے سارے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام اُٹھ کھڑے ہوتے تو سارا عالم اسلام ان کے ساتھ ہوتا حکومت خواہ کتنی ہی طاقت و قوت کی مالک ہو یقینا مقابلہ کی تاب نہیں لاسکتی تھی سوال یہ ہے اُس وقت ایسا کیوں نہیں ہوا؟؟؟۔۔۔ بعد کے زمانوں میں تو اس واقعہ پر اس قدر گرما گرمی، جوش و خروش، آہ وبکا، ماتم وسینہ کوبی ہے اُس وقت کیوں سب نے چُپ سادھ لی تھی؟؟؟۔۔ میں حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائلہ سے بصد احترام پوچھتا ہوں کہ حضرت! آپ نے دمشق میں ایسا کیا دیکھا کہ آپ کو مدینہ میں آسمان سے پتھروں کے عذاب کے نزول کا خوف ہوا؟؟؟۔۔۔ کیا واقعہ کربلا آپ کے سامنے نہیں تھا؟؟؟۔۔۔ کیا آلِ رسول پر کئے گئے بھیانک مظالم آپ کے نزدیک نزولِ عذاب کے لئے کافی نہیں تھے جو آپ نے حکومت کے خلاف تلوار اُٹھانے کے لئے دو سال تک توقف فرمایا؟؟؟۔۔ اور دو سال بعد تلوار اُٹھائی بھی تو اس کا سبب یزید کی بد اعمالیوں کوہی بتایا واقعہ کربلا کا کوئی اشارہ تک نہیں دیا؟؟؟۔۔۔ حضرت علی بن حسین زین العابدین واقعہ کربلا کے چھ ماہ بعد اپنے خاندان والوں کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے لازما اہلِ مدینہ آپ پر ٹوٹ پڑے ہونگے اس حاثہ جانکاہ کی تفصیلات پوچھی ہونگی آپ نے بیان فرمایا ہوگا وہ مدینہ جہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے اپنی عمر عزیز کا تقریبا سارا ہی حصہ یہاں گزارا لازما آپ دیگر مقامات کی بہ نسبت اہل مدینہ میں سب سے زیادہ محبوب اور ہردل عزیز رہے ہونگے پھر کیا بات ہے کہ آپ کے فرزند رشید سے اتنے بھیانک مظالم کی داستان سُن کر اہل مدینہ نے خاموشی اختیار کر لی بنی ہاشم کے سردار حضرت ابن عباس، حضرت محمد بن علی (ابن الحنفیہ) اور حضرت عبداللہ بن جعفر طیار کے ہاشمی جوش کو کیا ہوگیا تھا کہ ان حضرات نے بھی اپنی جگہ رو دُھو کر چپ سادہ لی ایک مسلم بن عقیل کے قتل پر ہاشمی غیرت اتنی جوش میں آئی کے نتائج و عواقب کی پرواہ کئے بغیر برادران مسلم نے حکومت سے بدلہ لینے کے لئے سفر کوفہ کو جاری رکھنے کا اصرار کیا تھا دوسری طرف سبطِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم و آلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھیانک مظالم ڈھائے گئے سب کہ تہہ تیغ کیا گیا معصوم بچے کے پیاسے حلق پر تیر برسائے گئے شہیدوں کی لاشوں کو روند کر ریزہ ریزہ کیا گیا سروں کو نیزوں پر چڑھا کر بازاروں میں پھرایا گیا سیدانیوں کی چادریں چھین کر ان کو نامحرموں کے ہجوم میں بے پردہ کیا گیا اس پر رگ ہاشمی بالکل مفلوج، بالکل معطل، این چہ بوا یعجبی ست۔۔۔

ان سب اُمور پر غور کرنے سے یہ بات بالکل واضع ہوجاتی ہے کہ حضرت حُسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے چند عزیزوں کی شہادت کا واقعہ ایک غیر متوقع اتفاقی حادثہ تھا اس پاکیزہ خون کی ساری ذمداری حُر بن یزید اور اس کے کوفی ساتھیوں پر ہے حاضر الوقت صحابہ کرام اور تابعین عظام کا عمل جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے صاف بتا رہا ہے کہ ان کے نزدیک کربلا میں پیش آئے بھیانک مظالم کی داستانیں جھوٹ کے انبار ہیں اور اس مقدس خون کی ذرا سی بھی ذمداری حاکم الوقت اور حکومت پر نہیں ہے۔۔۔

اب سوال کیا جائے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے؟؟؟۔۔۔ تو بلاشبہ سچا میں ہی ہوں اس لئے کہ میرے قول کی تائید میں حاضر الوقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، سادات بنی ہاشم اور تابعین عظام کا عمل ہے اور یقینا جھوٹا اور کذاب اکبر وہ شخص ہے جو کربلا کی بھیانک داستانیں رو رو کر سناتا ہے اور عالم اسلام کے کسی ردعمل حاضر الوقت صحابہ کرام اور سادات بنی ہاشم کے کسی بھی جوابی اقدام کو نہیں پیش کرتا گویا وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس وقت عالم اسلام میں حضرت حُسین رضی اللہ عنہ کی پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں تھی جبھی تو حکومت کو آپ پر اتنے مظالم ڈھانے کی جرات ہوئی اور سبھوں نے ان مظالم پر خاموشی اختیار کر لی ایسی صورت میں ہزار بار بھی لعنت اللہ علی الکاذبین کہا جائے تو بے جا نہیں ہے۔۔۔

قرآن و حدیث اور اقوالِ آئمہ !۔
یزید پر لعنت کے جواز میں کہا گیا ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل نے سورہ محمد کی آیات نمبر ٢٢ اور ٢٣ کی روشنی میں ان پر لعنت کے جواز کا فتوٰی دیا ہے یہ بڑی عجیب بات ہے کہ حاضر الوقت صحابہ کرام تابعین عظام وغیرھم جو واقعات کربلا و حرہ کے چشم دید گواہ تھے ان کی نظریں ان آیات پاک پر نہیں پڑیں اور کسی نے بھی یزید پر لعنت کرنے کے جواز میں ان آیات پاک پر نہیں پڑیں اور کسی نے بھی یزید پر لعنت کرنے کے جواز میں ان آیات سے استدلال نہیں کیا حقیقت یہ ہے کہ ان بزرگواروں سے یزید کو کسی الزام کا مورد قرار دینا اور لعنت کرنا مستند روایات سے ثابت نہیں ہے ایسی صورت میں امام احمد اپنے اسلاف کرام کے طریقے سے ہٹ کر کسیے یہ فتوٰی دے سکتے ہیں یہ بات امام احمد جیسے جلیل القدر امام اہل سنت پر اتہام کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔۔

یہ موضوع اور من گھڑت عبارت حضرت ابو عبیدہ ابن الجراح (میلاد ١٨ھ) اور حضرت ابودرداء (میلاد ٣٢ھ) سے مروی بتائی جاتی ہے حضرت ابودرداء کی وفات کے وقت جناب یزید دس سال کے تھے اور اس عمر تک ان کی صحبت میں رہے اور حسب استعداد علمی استفادہ بھی کیا تھا سوال یہ ہے کہ حضرت ابودرداء نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث سنا کر ان کا نام کیوں نہیں بدلوایا کیوں نہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو آگاہ کر دیا کہ یہ لڑکا معتوب ہے اس کو آئندہ خلافت کی کوئی ذمداری نہ سونپی جائے بنی امیہ میں ایک چھوڑ تین خلیفہ ہوئے کوئی روایت نہیں ملتی کہ کسی صحابی یا کسی تابعی نے کسی یزید کو اس حدیث کا مصداق بتایا ہو یہ اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ یہ حدیث بعد میں کوفہ کی سبائی ٹکسال میں گھڑی گئی ہے۔۔۔

٦٠ ہجری میں پناہ مانگنے کی روایت بھی غور طلب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ٦٠ ہجری تو نہیں فرمایا ہوگا اس لئے کہ اس وقت سنہ ہجری کا کوئی تصور نہیں تھا لازما معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات فرمایا ہوگا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اپنی وفات ٥٩ھ سے پہلے کسی وقت بیان فرمائی ہوگی تو سوال یہ ہے کہ چند سال پہلے ہی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کیسے علم ہوگیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ٦٠ ہجری ہوگی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کسیے علم ہوگیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ٦٠ہجری میں ہوگی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ نہ کی طرف یہ جملہ منسوب ہے اعوذ باللہ من راس الستین وامارۃ الصبیان (ترجمہ) میں اللہ تعالٰی سے ٦٠ ہجری کی ابتداء اور بچوں کی حکومت سے پناہ مانگتا ہوں واقعہ یہ ہے کہ ٦٠ ہجری کی ابتداء بالکل خیریت سے گزری حضرت معاویہ رضی کی وفات وسط سال یعنی رجب کے مہینے میں ہوئی اور یزید اس وقت خلیفہ ہوئے ایسی صورت میں آپ کو من وسط السنتین کہنا چاہئے تھا اور پناہ مانگنا ہی تھا تو ٦١ ہجری کی ابتداء سے پناہ مانگتے کہ کربلا کا واقعہ اوائل ٦١ ہجری میں پیش آیا تھا بچوں کی حکومت کا لفظ بھی غلط ہے یزید خلافت کے وقت ٣٨ سال کے تھے اس عمر کے آدمی کو عربی میں صبی (بچہ) نہیں کہتے اس لئے یہ ناممکن ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اتنی واضع غلط بات فرمائی ہوگی۔۔۔

کوفی سبائیوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بدعقیدہ اور متنفر تھے آپ کو نشان ملامت بنانے کے لئے اس قسم کی بیشمار من گھڑت باتیں آپ کی طرف منسوب کردی ہیں ایک طرف تو آپ کو مکثرین حدیث میں سرِ فہرست ہونے کا اعزاز دلایا اور دوسری طرف آپ سے منسوب کر کے بہت سی غلط باتیں اُمت میں پھیلا دیں اس لئے آپ کی روایات کو سوچ سمجھ کر قبول کرنا چاہتے کوئی سبائیوں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اپنی مفتریات کو ایسے صحابہ کی طرف منسوب کرتے ہیں جن سے وہ خود عداوت و بغض رکھتے ہیں اہلسنت والجماعت کو یہ بتانے کے لئے کہ یہ روایات ان صحابہ کرام سے ہیں جن کو تم عطیم المرتبت صحابی مانتے ہو تو اب تمہیں اس کو قبول کرنے میں کیوں پس وپیش ہے چنانچہ اہلسنت کی اکثریت نے اسی بناء پر ان روایات کو قبول کر لیا ہے اوپر دی گئی حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی قبیل سے ہے۔۔۔

میری نقاب کشائی کے کتابچہ میں حضرت امام اعظم کا قول پیش کیا گیا ہے کہ یزید سے فسخ وفجور متواتر ثابت ہیں مگر کفر متواتر نہیں ہے حالانکہ صرف دو تین سطر اوپر حضرت عبداللہ بن حنظلہ کا قول پیش کیا گیا کہ یہ شخص ماؤں بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ نکاح جائز قرار دیتا تھا یہ کیسی پیچیدہ صورت حال ہے؟؟؟۔۔ ایک طرف عبداللہ کُھلاہوا کفر یزید کی طرف منسوب کر رہے ہیں اس لئے کہ محرمات سے نکاح جائز قرار دینا صریح کفر ہے دوسری طرف امام اعظم فرماتے ہیں کہ قول کی روشنی میں واضع ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن حنظہ نے بالکل جھوٹا الزام یزید پر لگایا ہے ایسا الزام جو متواتر ثابت نہیں ہے حضرت عبداللہ بن حنطلہ کے قول کو صحیح مانا جائے تو ماننا پڑے گا کہ حضرت امام اعظم کے نزدیک نکاح محرمات کفر نہیں ہے اس لئے آپ یزید کے کفر کے قائل نہیں ہیں جبکہ مجوز نکاح محرمات کو کافر نہ ماننا بجائے خود کفر ہے حقیقت یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن حنظلہ اور ان کے ساتھیوں کو حضرت یزید کے ترکِ نماز اور شراب نوشی پر سخت غصہ تھا (اس پر بحث آگے آرہی ہے) یہ اہلِ مدینہ حضرات جنہوں نے اپنی آنکھوں سے حضرات خلفاء اربعہ رضی اللہ عنہم کی نہایت سادہ زندگیاں دیکھی تھیں ان کا آسمان کو چھونے والا ورع و تقوٰی ان کی نگاہوں میں بسا ہوا تھا اور جب ان حضرات نے جناب یزید کے شاہانہ ٹھاٹ باٹ کا مشاہدہ کیا، ترکِ نماز اور شراب نوشی نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا تو وہ اور زیادہ برہم ہوگئے کہ جناب یزید سادہ زندگی، زہددورع وغیرہ میں حضرات خلفاء اربعہ کی گرد کو بھی نہیں پہچنے تھے یہی تفاوت تھا جس کو حضرت عبداللہ نے منکرات سے تعبیر کیا تھا بعد میں یار لوگوں نے ان منکرات کے ضمن میں نکاح محرمات، زنا، لواطت، سودی لین دین وغیرہ کا اضافہ کر دیا اس لئے حضرت عبداللہ بن حنطلہ کی طرف اس پورے حملے کا انتساب ہی غلط ہے جو داقدی جیسے مشہور کذاب نے گھڑا (یہ جملہ کتابچہ نقاب کشائی کے صفحہ نمبر ٨ پے دیا گیا ہے)۔۔۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا یہ ارشاد کہ یزید سے فسق و فجور متواتر ثابت ہیں بشرطیکہ یہ واقعی آپ کا ارشاد ہو محلِ نظر ہے آپ حضرت یزید کے انتقال کے سولہ سال بعد کوفہ میں پیدا ہوئے کوفہ ہی کے ماحول میں پلے بڑھے اور کوفہ سبائیوں کا گڑھ خلافتِ اسلامیہ اور خلیفہ الاسلام کے خلاف سازشوں کا مرکز تھا کچھ عجب نہیں کہ حضرت امام اعظم بھی باقتضائے بشریت ان باتوں سے متاثر ہوں جو طفلی سے آپ کے کانوں میں پڑی آرہی تھیں اس لئے آپ یزید کے فسق و فجور کو متواتر قرار دیتے ہیں تو یہ صرف ماحول کا اثر ہے حقیقت نہیں ہے احناف کے لئے ضروری نہیں ہے کہ آپ کے ذاتی آراء پر بھی ایمان لائیں ورنہ یہ بالکل اندھی تقلید ہوگی آپ کی جو بات قرآن و حدیث کی روشنی میں ہم تک پہچے ہمارے سر آنکھوں پر ہے آپ کی ذاتی آراء کو تسلیم کرنے کے ہم بالکل مکلف نہیں ہیں۔۔۔

فتاوٰی عزیزیہ کے حوالے سے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کا یہ قول پیش کیا گیا ہے کہ آپ کا خروج رعایا کو ایک ظالم (یزید) کے ہاتھ سے نجات دلانے کی بناء پر تھا مظالم کے مقابلے میں مظلوم کی مدد کرنا واجبات دین سے ہے لاتنظر من قال وانظر ما قال کے اصول کے پیش نظر رکھ کر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوگا کہ یہ قول نہایت لغو اور فضول ہے جناب یزید کے سریر آرائے خلافت ہونے سے لے کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعزم کوفہ مکہ معظمہ سے نکلنے تک جو چھ ماہ کا عرصہ ہے اس عرصہ کے بارے میں کوئی روایت نہیں ملتی کہ پورے عالم اسلام میں طلم و ستم کا بازار گرم ہوگیا تھا اور اللہ کی مخلوق تلملا اُٹھی تھی اس وقت مملکت اسلامیہ کے سارے ہی صوبوں میں (سوائے عراق) کے کہیں بھی یہ نہ خلیفہ کی جانشینی کے جواز و عدم جواز پر گرما گرمی ہو رہی تھی اور نہ خلیفہ کے کردار پر چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں اور نہ کسی ظلم و ستم پر چیخ پکار ہورہی تھی صرف کوفی سبائی شرارت پر تُلے ہوئے تھے لیکن ان کے ساتھ بھی نرمی کا معاملہ ہورہا تھا اس لئے یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ آپ رعایا کو ظالم کے ظلم سے نجات دلانے کے لئے اُٹھے تھے اگر واقعی آپ ظالم حکومت کو نیست و نابود کرنے اور رعایا کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے اُٹھے تو لازما مملکت اسلامیہ میں اعلان کر کے ایک لشکر جرار کے ساتھ اُٹھتے نہ کہ اپنے گھر کی عورتوں بچوں اور مٹھی بھر نوجوانوں کو لے کر نکلتے اللہ تعالٰی نے اپنے آپ کو نادانستہ ہلاکت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے۔۔۔اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے کہ!۔

وَلاَ تُلْقُواْ بِاَيْدِيكُمْ
اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو (سورہ بقرہ ١٩٥)

دشمن کے مقابلے کے لئے اتنی قوت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے جس سے دشمن مرعوب ہوجائے۔۔۔


وَاَعِدُّواْ لَھُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّۃٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ
اور (اے مسلمانو!) ان کے (مقابلے کے) لئے تم سے جس قدر ہو سکے (ہتھیاروں اور آلاتِ جنگ کی) قوت مہیا کر رکھو (سورہ انفال ٦٠)۔۔۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے ان صریح قرآنی احکام کو نظر انداز فرمایا ہوگا رعایا کو ظالم کے پنچے نجات دلانے کا کیا یہی صحیح طریقہ ہے کہ پوری بے سروسامانی کے ساتھ انہیں اپنی اور اپنے گھروالوں کی جانوں کو ہلاکت میں ڈالیں اور نتیجتہ ظالم کی جرات اور بڑھ جائے ایسا عمل کسی معمولی عقل والے آدمی سے بھی صادر نہیں ہوسکتا چہ جائے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جیسی صاحبِ فراستِ ایمانی ہستی ہے صادر ہو دوسری بات یہ ہے کہ رعایا کو ظالم کے پنجے سے چھڑانا واجبات دین سے تھا تو کیا صرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ ہی اس کے مکلف تھے دوسرے صحابہ کرام اور تابعین عظام نے اس بارے میں کیوں کچھ نہیں کیا؟؟؟۔۔۔ اس لئے یہ بات ناقابل قبول اور نہایت غیر معقول ہے کہ آپ نے رعایا کو ظالم کے پنچے سے چھڑانے کے لئے خروج فرمایا تھا۔۔۔

واقعہ حرہ ٦٣ھ!۔
اوپر گزر چکا ہے کہ حضرت عبداللہ بن حنطلہ نے یزید کی بداعمالیوں کو بنیاد بنا کر نقض بیعت کی علم بغاوت بلندکیا تھا اس ضمن میں چند باتیں اہمیت کی حامل ہیں نقض بیعت اور بغاوت کی تحریک کے روح رواں حضرت عبداللہ بن مطیع عدوی نے حضرت علی کے فرزند رشید حضرت محمد (ابن الحنفیہ) سے اپنا ساتھ دینے کے لئے طویل گفتگو کی تھی جس کا ذکر میں نے اس کتابچہ میں کیا تھا اس گفتگو کا اہم تکتہ یہی ہے کہ اس میں واقعہ کربلا کا کوئی اشارہ نہیں ہے اور کردار یزید پر بھی جو گفتگو ہوئی ہے اس ضمن میں، میں نے حضرت محمد کا ارشاد پیش کیا تھا اور میں نے یہ بھی صراحت کی تھی کہ یزید کی بد اعمالیوں کے حضرات ابن مطیع عینی شاہد نہیں تھے جبکہ ان کے صلاح وتقوٰی حضرت محمد عینی شاہد تھے حضرت ابن مطیع صحابی ہونے کے ناطے حضرت محمد سے افضل ہیں لیکن عینی شہادت کے آگے صحابی اور غیر صحابی کی بحث لایعنی ہے شیخ الصحابہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جو حضرت بن مطیع کے قریبی عزیز تھے فرمایا تھا کہ ہم نے اس شخص (یزید) کے ہاتھ پر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے اس سے بڑھ کر غدر (عہد شکنی) اور کیا ہوگی کہ ہم ایک شخص کے ہاتھ پر اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کریں اور پھر اس کے خلاف تلوار اُٹھائیں (صحیح بخاری ، کتاب الیقین) آپ نے بیعت شکنی کرنے والوں سے اپنے تعلقات منقطع کرنے کا بھی اعلان فرمایا تھا حضرت زین العابدین اور دیگر سادات بنی ہاشم بھی کنارہ کش رہے حضرت محمد الباقر کے ارشاد کے مطابق اولاد عبدالمطلب میں سے کسی نے بھی بغاوت میں حصہ نہیں لیا تھا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کو دارالخلافہ بنایا تھا اس میں ایک مصلحت تھی کہ خلیفہ پر کوئی آنچ آئے تب بھی حرم شریف کی بے حرمتی نہ ہو لیکن عبداللہ بن حنظلہ نے اس اسوہ مبارکہ کو نظر انداز کر دیا اور مدینہ میں ایک چھوٹی سی جمیعت فراہم کرکے گورنر مدینہ کو مدینہ سے نکال دیا بنو اُمیہ کے جو افراد مدینہ میں تھے ان کو پریشان کرنا شروع کر دیا ان حالات میں حضرت زین العابدین نے بنو اُمیہ کے ان افراد کو اپنے گھر میں پناہ دی جب سرکاری فوج نے شہر کا محاصرہ کیا تو باغیوں نے بھی اپنے مورچے سنبھال لئے امیر لشکر حضرت مسلم بن عقبہ نے تین روز تک فرمائش کی ہتھیار ڈال دیں اور اطاعت قبول کر لیں اس کے جواب میں باغیوں نے فوج پر پتھراو اور تیر اندازی کی آخر قبیلہ بنو عبدالاشہل جس میں زیادہ تر صحابہ کرام تھے اپنے محلے میں سے حضرت مسلم کو مدینہ میں داخلہ دیدیا اب باغی پسپا ہوگئے صرف چھ سات آدمی بشمول عبداللہ بن حنظلہ گرفتار ہوئے اور انہیں بغاوت کے الزام میں قتل کر دیا گیا عبداللہ بن مطیع چند ساتھیوں کے ساتھ مکہ معظمہ فرار ہوگئے باقیوں نے معذرت کے ساتھ اطاعت قبول کر لی۔۔۔

اس مختصر واقعہ کو واقعہ کربلا کی طرح زیب داستان کے لئے جو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے وہ یہ سات سو بے گناہ صحابہ کرام سمیت دس ہزار محبانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم و آلِ رسول کو شہید کیا گیا ایک اور روایت کے مطابق موالی میں سے تین ہزار انصار میں سے چودہ سو یا سترہ سو قریش کے تیرہ سو حضرات شہید کئے گئے مدینہ منورہ کی مقدس مہبطِ قرآن اور مہیطِ جبرئیل سرزمین پر معزز اور پاکدامن عورتوں کی جو عصمت دری ہوئی ہے (خلافت و ملوکیت) کی روایت کے مطابق معزز گھرانوں کی ایک ہزار بن بیاہی لڑکیاں حاملہ ہوگئیں روضہ رسول کی بے حرمتی کے لئے گھوڑے باندھے گئے جن کی لید اور پیشاب سے منبر اطہر کو گندا کیا گیا۔۔۔

سوال یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن حنظلہ نے پتھروں کے عذاب کے نزول سے ڈر کر خروج کیا تھا تو اللہ تعالٰی نے ان کی غیبی نصرت کیوں نہیں کی اکابر صحابہ اور سادات بنی ہاشم نے ان کا ساتھ کیوں نہیں دیا ہمارے نزدیک اس کاجواب یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکام اور اولوالامر کے ناگوار پر صبر کرنے کی ہدایت فرمائی تھی اور یہ بھی تاکید فرمائی تھی کہ جو بھی اطاعت کے دائرے سے بالشت بھرنکلے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا (صحیح بخاری کتاب الفتن) حضرت عبداللہ بن حنظلہ اور ان کے ساتھیوں نے ان احکام کو نظر انداز کر دیا تھا جس کی انہیں دنیا ہی میں سزا مل گئی آخرت میں یقیناً شرفِ صحابیت کی بناء پر وہ عنداللہ خطائے اجتہادی پر ماجور و مغفور ہونگے۔۔۔

اب اگر تھوری دیر کے لئے مان لیاجائے کہ کربلا میں آل رسول پر بھیانک مظالم یزیدی فوج نے ڈھائے تھے اور حرمین شریفین کی بدترین بے حرمتی کی یزیدی فوج ہی ذمدار اور گنہگار ہے اور یزید نے اپنے عہد میں نکاح محرمات، زنا، لواطت، سودی لین دین، شرابخوری، اور ترک نماز کو فروغ دیا تھا تو یہ کفر بواح (کھلا کفر) کے سوا کیا ہے صحیح بخاری کتاب الفتن کی روایت کے مطابق کفر بواح پر حکام اور اولوالامر کے خلاف جہاد و قتال کرنے کا حکم ہے شیخ الصحابہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ مدینہ میں موجود اور واقعہ حرہ کے عینی شاہد تھے انہوں نے اس حکم کی کیا تعمیل کی؟؟؟ حضرت محمد الباقر کے ارشاد کے مطابق اولاد عبدالمطلب میں سے کسی نے بھی اس وقت حکومت کے خلاف تلوار کیوں نہیں اُٹھائی کیا یہ سب حضرات نافرمائی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتکب نہیں قرار پاتے ہیں؟؟؟۔۔۔ یہ بات کس طرح باور کی جائے کہ حاضر الوقت سارے ہی صحابہ کرام سادات بنی ہاشم اور تابعین عظام نے ایک ایسے شخص کو جس کا کفر بواح ثابت تھا اپنا امیر تسلیم کر رکھا تھا۔۔۔

جناب یزید کی بیعت کے موقع پر حضرت ابن عمر نے فرمایا تھا کہ اگر یہ اچھا نکلا تو ہم شکر ادا کریں گے اور اگر یہ مصیبت بن گیا تو ہم صبر کرینگے (لسان المیزان ازعسقلانی) فاروق اعظم الناطق بالحق والصواب اشدعلی الکفار جیسے باپ کے خلف الرشید سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے یزید کے کفر بواح پر بھی صبر ہی کیا ہوگا صبر کے یہ معنی تو نہیں ہیں کہ آدمی حرارت دینی اور غیرت ملی سے یکسر خالی ہو جائے جب حضرت ابن عمرنے واقعہ کربلا کے بعد بھی یزید کی بیعت کو اللہ اور رسول کی بیعت قرار دے کر نقض بیعت کرنے والوں کو تہدید سنائی اور واقعہ حرہ کے بعد بھی کوئی احتجاجی اقدام نہیں فرمایا تو ماننا پڑے گا کہ واقعہ کربلا اور واقعہ حرہ کی داستانیں فضول اور منگھڑت ہیں صحیح العقیدہ اہلسنت والجماعت کے لئے صرف حضرت ابن عمر کا اسوہ مبارکہ ہی مشعل ہدایت اور منارہ نور تھا اور جب آپ کے ساتھ اس وقت کے سارے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین اور سادات بنی ہاشم بھی شریک ہیں تو یہ نور علی نور کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے لیکن ومن لم یجعل اللہ لہ نور افمالہ من نور (سورہ نور آیت ٤٠)۔۔۔

جہاد قسطنطنیہ!۔
اس بارے میں بڑی بحثیں ہیں کہ مدینہ قیصر سے مراد قسطنطنیہ ہے یا حمص ہے وہ کونسا دستہ ہے جو مغفرت موعودہ سے مشرف ہے اس دستہ کا امیر کون تھا؟؟؟۔۔۔ فی الوقت میں یہاں ان حضرات کا جواب لکھ رہا ہوں جو اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مغفرت موعودہ کی بشارت والا وہی دستہ تھا جو جناب یزید کی سرکردگی میں قسطنطنیہ پر حملہ آور ہوا تھا لیکن یہ حضرات جناب یزید کو کافر و مرتد قرار دے کر مغفرت موعودہ سے محروم قرار دیتے ہیں مفتی محمد شفیع اوکاڑوی کا مضمون جہاد قسطنطنیہ اور کردار یزید میرے پیش نظر ہے جو رہمنائے دکن مورخہ ٩ جون ١٩٩٧ء کے صفحہ نمبر ٢ پر موجود ہے مفتی صاحب کی بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مغفرت کی بشارت اس کے لئے ہے جس میں مغفرت کی اہلیت ہو یعنی اس کی موت ایمان پر ہو چونکہ یزید کافر ومرتد ہے اس لئے مرتد مغفرت کی بشارت سے محروم اور خارج ہے مفتی صاحب نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ مغفرت کی بشارت کے بعد ارتدار اور کفر کا دھڑکا لگا ہوا ہو یا کسی رکاوٹ کے حائل ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر بشارت ہی کیا ہوئی یہ بات تو سارے ہی مسلمانوں کے لئے ہے کہ ان کے اعمال صالحہ کا فائدہ انہیں اسی وقت پہنچے گا جبکہ ان کی ایمان پر موت ہو پھر کسی شخص یا جماعت کو خاص طور پر مغفرت یا جنت کی بشارت دینے کا کیا فائدہ؟؟؟۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص یا جماعت کو خاص طور پر مغفرت یا جنت کی بشارت دینے کا مطلب یہی ہے کہ دراصل منجانب اللہ اس بات کی ضمانت دی جارہی ہے کہ اس شخس یا جماعت کی موت ایمان پر ہوگی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن صحابہ کرام کو جنت کی بشارت دی اس کے ساتھ یہ شرط نہیں لگائی کہ بشرطیکہ ان کی موت ایمان پر ہو جہاد قسطنطنیہ کے شرکاء کی مغفرت کی بشارت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی مرتد ہو کر مرے تو وہ اس بشارت سے خارج رہے گا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جہاد قسطنطنیہ کے سبھی شرکاء خواہ امیر ہو یا مامور باایمان مرے اور بشارت سے مشرف ہوئے۔۔۔

حضرت یزید مظلوم صالح، متقی اور امیر المومنین ہیں!۔
جن حضرات نے اس پوری تحریر کا یہاں ٹھنڈے دل سے مطالعہ کیا ہے وہ یقینا اس بات کو تسلیم کر لیں گے کہ خواہ مخواہ حضرت یزید کے کردار کو مسخ کیا گیا ہے اور ان پر ناحق ظلم کیا گیا ہے اس بناء پر میں ان کو خلیفہ مطلوم کہتا ہوں تو کیا غلط کہتا ہوں؟؟؟۔۔۔ میں نے اپنی اس تحریر میں سردار بنی ہاشم حضرات ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ارشاد پیش کیا تھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا اپنے گھر کا صالح فرد ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرزند رشید محمد کا ارشاد پیش کہ میں نے ان کو (یزید کو) نمازوں کی پابندی کرنے والا، اعمال صالح میں سرگرم فقہ کا متلاشی اور سنت رسول کا پیروی کرنے والا پایا ہے صلاح وتقوٰی اس کے سوا اور کیا ہے؟؟؟ اگر میں حضرت محمد کے ارشاد کی روشنی میں حضرت یزید کو صالح اور متقی کہتا ہوں تو مجھ پر غم و غصہ کیوں؟؟؟۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ حضرت یزید نے روایتی تقدس مابی کا سوانگ نہیں رچایا تھا اپنے جُبہ ودستار، خرقہ اور سبحہ کی نمائش نہیں کی تھی دین داری کا لبادہ اوڑھ کر جفیہ دنیا کے طالب نہیں تھے ان کا ظاہر و باطن یکساں تھا کسی کو اں سے آماتو چنانکہ می نمای ہستی؟؟؟۔۔۔ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی اس لئے آج کی ذہنیت کے اعتبار سے انہیں صالح اور متقی نہیں مانا جاتا ہے تو اور بات ہے میں حضرت علی بن حسین زین العابدین کا ارشاد اللہ امیر المومنین پر رحمت نازل کرے بھی پیش کیا تھا اس ارشاد کی روشنی میں، میں حضرت یزید کو امیر المومنین کہتا ہوں اور ان کے لئے دُعائے رحمت کرتا ہوں تو مجھ پر کیوں دانت پیسے جا رہے ہیں کل اللہ تعالٰی مجھ سے اس بارے میں سوال کرے تو ان شاء اللہ میں اللہ تعالٰی کے ان برگزیدہ اور محبوب بندوں کی آڑلوں گا۔۔۔

اس میں کوئی شک نہیں کے بعد کے بہت سے علماء اور آئمہ کے حضرت یزید کے بارے میں سخت سے سخت اقوال موجود ہیں ان ہی اقوال کی بناء پر لوگ ان کو فاسق و فاجر قرار دیتے ہیں اور ان پر لعنت کرنے کا جائز سمجھتے ہیں لیکن دیکھا جائے تو یہ بعد کے علماء اور آئمہ حضرت ابن عمر، حضرت ابن الحنیفہ اور حضرت زین العابدین کے ہم پلہ تو کیا ان کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے ان تینوں بزرگوں اور دیگر حاضر الوقت صحابہ کرام اور تابعین عظام سے حضرت یزید کو فاسق و فاجر کہنے اور ان پر لعنت کرنے کی کوئی روایت نہیں ہے۔۔۔

لے دے کر ان پرصرف شراب نوشی اور ترکِ نماز کا الزام رہ جاتا ہے حضرت عبداللہ بن مطیع نے حضرت محمد سے جو طویل گفتگو کی تھی اس میں صرف ان ہی دو الزامات کا ذکر ہے واقعہ کربلا، نکاح محرمات اور دیگر بداعمالیوں کا کوئی اشارہ نہیں ہے اور پھر انہیں یہ اعتراف بھی تھا کہ وہ ان الزامات کے عینی شاہد نہیں ہیں ان دونوں الزامات کی حقیقت یہ ہے کہ یزید جو مشروب شوق سے استعمال کرتے تھے اس کے جواز اور عدم جواز میں اختلاف تھا اس لئے نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہ حرام شراب ہی استعمال کرتے تھے شام جیسے شرد ملک میں ٹھنڈے مشروبات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے وہ مرض نقرس اور وجع المفاصل (گٹھیا اور جوڑوں کے درد) میں مبتلا ہوگئے تھے اس وجہ سے وہ منظر عام پر آکر نماز پڑھنے اور امامت کرنے سے قاصر تھے اسی بناء پر غالبا لوگوں نے ان پر ترک نماز کا الزام لگایا تھا یہ کیفیت انتقال سے چند ماہ پہلے شروع ہوئی تھی اور اسی میں ان کی وفات ہوگئی جو لوگ کہتے ہیں کہ یزید پر ایسا عذاب الٰہی نازل ہوا کہ وہ طرح طرح کے امراض خبیثہ میں گرفتار ہونے کے بعد تڑپ تڑپ کر ہلاک ہوگیا بالکل جھوٹ ہے نقرس اور وجع المفاصل امراض خبیثہ میں شمار نہیں ہوتے بالفرض وہ واقعی شراب نوشی اور ترکِ نماز کے مرتکب تھے تب بھی اللہ کی رحمت سے انہیں مایوس نہیں قرار دیاجاسکتا اس لئے کہ ان پر شرک کے ارتکاب کا کسی نے الزام نہیں لگایا اور شرک کے سوا ہر گناہ کی مغفرت کی پوری گنجائش ہے (سورہ النساء آیت ٤٨) آج کتنے مسلمان ہیں جو دنیا کی ساری بداعمالیوں کے ساتھ ساتھ مشرکانہ عقائد و اعمال میں خود مبتلا ہیں دوسروں کو مبتلا کرتے ہیں پھر پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھ کر دوسروں کو عبرتناک انجام سے ڈراتے اور عذات الٰہی کا مستحق ٹہراتے ہیں کاش یہ لوگ اپنے گریباں میں بھی ذرا سا جھانک لیتے۔۔۔

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد!۔
قتلِ حسین اصل مرگ یزید ہے۔۔۔ حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی اور اپنے کنبہ کی قربانی دے کر اسلام کو بچالیا چمن اسلام کی اپنے خون سے آبیاری کی، خود فنا ہوکر اسلام کو حیات ابدی بخشی بظاہر یزید کی فتح ہوئی لیکن حقیقی فتح حسین رضی اللہ عنہ کی ہوئی غرض اس طرح کے ہوش سے خالی جوش سے بھرپور جملے تقریبا ہر سیرت حسین رضی اللہ عنہ کے جلسے میں سننے میں آتے ہیں اب ان ہی محبانِ وشیدانانِ حسین رضی اللہ عنہ سے پوچھیں کہ صاحب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اتنی عظیم قربانی کے بعد کیا ہوا تو یہ منہ کسور کے کہتے ہیں کہ!۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد تو یزید بےلگام ہوگیا زنا، لواطت، حرام کاری، (زنا اور لواطت کے علاوہ حرام کاری اور کیا چیز ہے میری سمجھ میں نہیں آتی مشائخ حضرات ہی اسکی بہتر وضاحت کر سکتے ہیں) بھائی بہن کے درمیان نکاح، سود کا لین دین اور شراب نوشی وغیرہ علانیہ طور پر رائج ہوگئے لوگوں میں نماز کی پابندی اُٹھ گئی (نقاب کشائی صفحہ١٠)۔۔۔

گویا ان لوگوں کے نزدیک واقعہ کربلا سے اسلام کو یہ زندگی ملی قتلِ حسین سے یہ مرگِ یزید ہوئی اس طرح چمنِ اسلام کی آبیاری ہوئی۔۔۔ یہ حضرت حسین کی ذاتِ اقدس کے ساتھ بھونڈا مذاق نہیں ہے تو اور کیا ہے؟؟؟۔۔۔ آپ کی شہادت ہر تعریف کے انداز میں بدترین طنز نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟۔۔۔ شہادت کے بعد یزید اتنا بے لگام ہوگیا تو پھر مرگِ یزید کیا ہوئی؟؟؟۔۔۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اتنی عظیم قربانی کا آخر کیا ثمرہ اُمت کو ملا میرے نزدیگ مرگِ یزید اور بے لگامی کی متضاد بات حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شان میں بدترین گستاخی اور آپ کی ذاتِ اقدس پر بھرپور طنز ہی ہے۔۔۔

ان صاحبان جبہ ودستار سے کوئی پوچھے کہ لفظ لا الہ کے کیا معنی ہیں کیا یہ دو چھوٹے سے لفظ عین ایمان ہیں؟؟؟۔۔۔ کیا کوئی شخص صرف لا الہ (کوئی معبود نہیں) کہدے تو کیا مومن کہلایا جاسکتا ہے؟؟؟۔۔۔ ایک چھوٹا بچہ بھی جانتا ہے کہ جب تک لفظ لا الہ کے ساتھ الا اللہ نہ کہا جائے یہ لفظ عین کفر ہی ہوگا، اب اس شخص کا پتھر کا کلیجہ ہی ہوگا جس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اس عین کفریہ کلمہ کی بنا قرار دیا اور پھر حق کی تاکید کیساتھ اتنا کھلا کفر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ذاتِ اقدس کی طرف منسوب کرنے کے باوجود یہاں کسی عاشقِ حسین کو خارجیت و ناصبیت نظر نہیں آتی للعجب مجھ پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی اور اہانت کا الزام لگانے والے حضرات ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ وہ خود کیسی گستاخی اور اہانت کے مرتکب ہو رہے ہیں اگر وہ شہادت کے بعد واقعی مرگِ یزید ثابت کرتے تو کچھ بات تھی لیکن انہوں ن بےلگامی کی بات کہہ کر شہادت کی برُی طرح توہین کی جس کی عِنداللہ جواب دہی کرنی ہوگی بے لگامی کے ضمن میں جتنی باتیں کہی گئی ہیں نکاح محرمات زنا و لواطت وغیرہ اس میں ایک مثال تو بتائی جائے کہ فلاں شخص نے اپنی محرم بہن سے نکاح کیا تھا اور خلیفہ نے اس کو جائز قرار دیا تھا بتایا جائے کہ فلاں شخص لواطت کے جرم میں ماخوذ ہوا ور حکومت نے اس کو شاباشی دی ہو اور سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اس وقت کتنے صحابہ کرام سادات بنی ہاشم اور تابعین عظام تھے آخر یہ سب کیا کر رہے تھے آلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذرا سی توہین پر آج گئے گذرے زمانے میں ہمارا خون کھول اُٹھتا ہے حرمین شریفین کی ذراسی بے حرمتی پر ہم مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں آج اسلام کی کسی قدر کو پامال ہوتے دیکھ کر ہم آپے سے باہر ہوجاتے ہیں تو کیا اس وقت کے بزرگوں کی حمیت کو سانپ سونگھ گیا تھا یا وہ ایمانی حمیت اور ملی غیرت کے معاملے میں ہم سے کمتر تھے جو انہوں نے خاموشی اختیار فرمائی اور یزید کو طبعی موت مرنے دیا اور یزید کے بعد بنی اُمیہ ہی میں حکومت باقی رہی ان امور پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے گاؤن بانٹ لینے کے انداز میں اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھ کر کسی کو خواہ مخواہ عذاب الٰہی کا مستحق قرار دینا دانشمندی اور تقاضائے ایمانی سے بعید ہے بالفرض میری فکر میں سقم ہے او میں جو کہہ رہا ہوں واقعی غلط ہے تب بھی وہ قابل معافی ہے اس لئے کہ شرک کے سوا ہر گناہ کی مغفرت کی گنجائش ہے لیکن یہ بات ضرور ہے کہ کسی بندے کو اپنے طور پر عذاب الٰہی کا مستحق قرار دینا اللہ تعالٰی کے اختیار میں مداخلت کرنا ہے جو بلاشبہ قابلِ مواخذہ ہے ۔

وما علینا الالبلاغ۔۔۔

والسلام

تعدّد ازواج

0 comments




نظام اجتماعی کے لئے بنائے گئے قوانین اسی وقت کامل ، ترقی پسندا ور فائدہ مند ثابت ھو سکتے ھیں جب انسانی فطرت کے مطابق ھوں اور بشری ضرورتوں کو مکمل طور پر پورا کرتے ھوں۔قوانین بناتے وقت واضع قانون کے سامنے معاشرے کے تمام حالات ھوں ۔ اگر یہ صورت نھیں ھے تو پھر وہ قوانین باقی نھیں رہ سکتے ۔

اسلامی قوانین دنیا کے کسی خاص طبقے یا جگہ کے لئے نھیں ھیں بلکہ یہ تمام دنیا اور ھر زمان ومکان کے لئے ھیں اور نظام آفرینش کے عین مطابق بھی ھیں ۔ اسی لئے ھر زمانے میں بشری تقاضوں کو پورا کرتے رھے ھیں ۔ حوادثات کے مد وجزر میں مضمحل و نابود نھیں ھوئے اور نہ نابود ھو سکتے ھیں بلکہ اس دنیا میں جب تک انسان موجود ھے یہ قوانین اپنی برتری اور قدر و قیمت منواتے رھیں گے ۔

اسلام کے بر خلاف کلیسا اور مسیحی مبلغین نے تعدّد ازواج کے مسئلہ کو اس طرح غلط طریقے سے پیش کیا کہ آج یہ مسئلہ دنیا میں محل بحث بن گیا ھے۔ اپنی کمزور و سست پوزیشن کو بچانے کے لئے کلیسا ناواقف لوگوں پر تعدد ازواج کے مسئلے کوھزاروں تھمت و تبدیلی ٴحقائق کے ساتھ پیش کرتا ھے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ھے کہ یہ مسئلہ عورتوں پر ظلم و جور کے مرادف ھے کیونکہ عیسائی مبلغین لوگوں کو یہ باور کراتے ھیں کہ مردوں کو حسب دل خواہ کسی قید و بند کے بغیر عورتوں سے شادی کرنے کا اختیار ھے اور اپنی سختیوں کا پابند بنانے کا حق ھے ۔

در حقیقت اسلام کے خلاف یہ پروپیگنڈہ ھے جس کی کوئی حقیقت نھیں ھے حالانکہ ان لوگوں کے ذھنوں میںاس مسئلے کے خلاف دور از کار اور خلاف انصاف باتیں موجود ھیں لیکن اگر تعصب کی عینک اتار کر واقع بینی کے ساتھ عقل و منطق کی رو سے ، انسانی معاشرے کی فطرت پر غور کر کے بے شمار واقعات و حادثات کو نظر میں رکھتے ھوئے اور قوموں کی زندگی کے تغیرات اور تحولات کو دیکھتے ھوئے اس اسلامی قانون کے بارے میں سوچا جائے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ھوئے فیصلہ کیا جائے تو اس قانون کے اصولی و منطقی ھونے میں کوئی شک و شبہ باقی نھیں رھے گا ۔

گذشتہ انبیاء کی تاریخ اور موجودہ ادیان کے مطالعہ سے یہ حقیقت بخوبی واضح ھو جاتی ھے کہ تعدد ازواج کا مسئلہ اسلام سے پھلے رائج و مرسوم تھا یہ کوئی نئی بات نھیں ھے جس کو صرف اسلام نے ایجاد کیا ھو ۔ مثلا چین میں ” لیکی “ قانون کی بناء پر ایک شخص کو ۱۳۰ عورتوں سے شادی کرنے کا حق تھا اور یھودی قانون میں ایک مرد کئی سو عورتوں سے شادی کر سکتا تھا ۔ (۱)

اسی طرح ” ارد شیر بابکان “ اور ” شارلمانی “ کے لئے لکھا گیاھے کہ ان میں سے ھر ایک کے حرم سرا میں تقریباً چار سو عورتیں تھیں ۔

توریت ( جو تعدد ازواج کو جائز سمجھتی ھے ) کے خلاف انجیل نے بھی کوئی آواز نھیں اٹھائی بلکہ اس مسئلے میں خاموش ھے۔ اسی لئے آٹھویں صدی عیسوی کے نصف آخر تک یعنی شارلمانی بادشاہ فرانس کے زمانے تک مسیحی یورپ میں تعدد ازواج کی باقاعدہ رسم تھی اور کلیسا اس کی مخالفت نھیں کرتا تھا لیکن اسی بادشاہ ( شارلمانی ) کے زمانے میں کلیسا کے حکم سے پورے یورپ کے اندر یہ مسئلہ منسوخ قرار دیا گیا اور جن لوگوں کے پاس کئی کئی عورتیں تھیں ان کو شرعی لحاظ سے صرف ایک ایک عورت پر اکتفا کرنا پڑا اور اسی باعث عیسائی بد کاری و زنا کاری کی طرف مائل ھونے لگے اور جن کے پاس صرف ایک بیوی تھی وہ فسق و فجور کی طرف مائل ھو گئے زمانھٴ جاھلیت میں عرب کے مختلف قبیلوں میں نھایت نا پسند یدہ طریقے سے تعدد ازواج کا مسئلہ رائج تھا اورعدالت، مالی حیثیت اور دیگر شرائط کا لحاظ کئے بغیر ھر شخص اپنی حسب ِ خواھش جتنی عورتیں چاھے رکہ سکتا تھا ۔ اس وقت عورتوں کی کوئی قدر و قیمت نھیں تھی ، ان پر ظلم و ستم کے پھاڑ توڑنا ایک عام بات تھی ۔ مردوں کی مطلق العنانی نے عورتوں پر عرصھٴ حیات تنگ کر رکھا تھا ۔

اسلام نے اس ظلم کی مخالفت کی اور اس فساد کا خاتمہ کر دیا لیکن مخصوص شرائط کے ساتھ ۔اسلام نے اصل مسئلہ تعدد ازواج کو قبول کیا البتہ معاشرے کی ضرورتوں اور مرد و عورت کے مصالح کو پیش نظر رکھتے ھوئے عورتوں کی تعداد کو صرف چار میں محدود کر دیا ۔

یہ بات قابل لحاظ ھے کہ اسلام کی نظر میں شادی بیاہ کے مسئلے میں اصل تعدد نھیں ھے بلکہ یہ ایک اجتماعی پیش بندی ھے جس کی بنیاد یہ ھے کہ مختلف خطروں کو دور کیا جا سکے کیونکہ کبھی ایسا ھوتا ھے کہ بڑے ضرر سے بچنے کے لئے چھوٹا ضرر انسان کو برداشت کرنا پڑتا ھے ۔ مثلا جان بچانے کے لئے مال کی قربانی مذموم نھیں ھے ۔

اس کے علاوہ تعدد ازواج کا قانون تمام مسلمانوں کے لئے نماز ، روزے کی طرح ھر شخص پر واجب و لازم نھیں ھے کہ اگر ایک شخص چند عورتوں کے ساتھ عادلانہ برتاؤ کر سکتا ھو اور اس کے معاشی حالت بھی چند عورتوں سے شادی کی اجازت دیتی ھو اور وہ اس کے باوجود صرف ایک عورت سے شادی کرے تو گویا اس نے فعل حرام کا ارتکاب کیا ! ایسا قطعاًنھیں ھے ۔

تعدد ازواج کے مسئلے میں عورتوں کو بھی ارادہ و عمل کی آزادی بخشی گئی ھے تاکہ وہ اپنی مرضی سے اس کام کو کریں کوئی جبر نھیں کیا گیا ھے ۔ تعدد ازواج کی اجازت دے کر اسلام نے عورتوں کی کسی قسم کی اھانت نھیں کی ھے بلکہ عورتوں کو صرف اجازت دی گئی ھے کہ حالات کے لحاظ سے اگر وہ چاھیں تو ایسا کر سکتی ھیں ان کو قید تنھائی پر مجبور نھیں کیا گیا ھے ۔

اگر شادی کرنے والے مردوں اور عورتوں کی تعداد برابر ھو تو وھاں پر ھر مرد کے حصے میں ایک ھی عورت آئے گی اور تعدد ازواج کا مسئلہ خود بخود حل ھو جائے گا ۔ لھذا جب معاشرے کو ضرورت نہ ھو تو پھر اس مسئلے کا وجود ھی نہ ھو گا لیکن اگر معاشرے کو شدید ضرورت ھو مثلاً عورتوں اور مردوں کا توازن مختلف اسباب کی وجہ سے باقی نہ رھے بلکہ مردوں کی تعداد عورتوں کے مقابل میں کم ھو جائے تو فاضل عورتوںکے لئے کیاحل ھونا چاھئے؟

آئے دن کی جنگوں ، مشکل کاموں کی انجام دھی ، معادن کے اندر کام کرنا ( جس میں ھزاروں آدمی ھلاک ھوتے رھتے ھیں ) وغیرہ ان اسباب کی بناء پر مردوں کی تعداد کم ھوتی جاتی ھے اور عورتوں کی تعداد بڑھتی جاتی ھے ۔ اب یھاں پر اعداد و شمار کر کے فیصلہ کیجئے کہ کیا کیا جائے کیونکہ صحیح فیصلہ تو مردم شماری کے بعد ھی ھوگا ۔ اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں قطعی طور پر عورتوں کی تعداد بھت زیادہ ھے اور یہ زیادتی مندرجہ بالا اسباب کی بنا پر ھمیشہ سے دنیا میں رھی ھے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ھے جس سے فرار ممکن نھیں ھے ۔ اس صورت حال میں تعداد ازواج کے علاوہ اس کا اورکیا حل ھو سکتا ھے ؟

فرانس کے اعداد و شمار کے مطابق وھاں ھر سو پیدا ھونے والی لڑکیوں کے مقابلے میں ایک سو پانچ بچے پیدا ھوتے ھیں لیکن اس کے با وجود عورتوں کی تعداددس لاکہ سات سو پینسٹہ ھزار سے زیادہ ھے ۔ حالانکہ پورے فرانس کی آبادی پانچ کروڑسے زیادہ نھیں ھے ۔ اس کی وجہ یہ ھے کہ عورتوں کے مقابلے میں مردوں میں امراض کا مقابلہ کرنے کی طاقت کم ھے اس لئے پانچ فیصد لڑکے انیس سال کی عمر تک ختم ھو جاتے ھیں ، کچہ پچیس سال تک اسی طرح مردوں کی تعداد گھٹتی رھتی ھے اور اب یہ حال ھے کہ ۶۵ سال کی عمر میں پندرہ لاکہ عورتوں کے مقابلے میںساڑھے سات ھزار سے زیادہ مرد باقی نہ رھیں گے ۔(۲)

اس وقت امریکہ میں دو کروڑ عورتیں شوھر نہ ملنے کی وجہ سے کنواری ھیں اور مختلف عادتوں کی شکار ھیں ۔ (۳)

پروفیسر ” پیٹر مڈاوار(PROFESSOR PETER MUDAWAR) مندرجہ بالا نظریے کی تائید کرتے ھوئے لکھتے ھیں : اس سبب سے اور دوسرے اسباب کی بناء پر بھی دنیا میں مردوں کی تعداد رو بہ نقصان ھے ۔ (۴)

جس طرح عورت ضروریات زندگی کا احساس کرتی ھے اسی طرح وہ اندرونی طور پر شوھر ، تولید نسل ، پرورش اولاد کی بھی ضرورت کا احساس کرتی ھے اور اس کی یہ خواھش شادی کے بغیر پوری نھیں ھو سکتی ۔ محض وسائل زندگی کا مھیا ھو جانا اس کے باطنی التھاب کو ختم نھیں کر سکتا اور عورت ھی کیا مرد کے یھاں بھی یہ احساس موجود ھے اور اصولا ًان باتوں کا انکار ممکن نھیں ھے ۔

دنیا میں عورتوں کی کثرت کی علت بیان کرتے ھوئے اخبار اس اھم مسئلے کا بھی ذکر کرتے ھیں ۔ عورتوں کی تعداد روز بروز دنیا میں کیوں بڑہ رھی ھے ؟ اس کی دو علتیں ھیں ۔

۱۔ عورتوں کی پیدائش ( مردوں کے بہ نسبت ) زیادہ ھوتی ھے ۔

۲۔ مردوں کے مقابلے میں ان کی عمریں بھی لمبی ھوتی ھیں ۔

یہ حقیقت ھے کہ عورتوں کی بہ نسبت مردوں کی عمر یں کم ھوتی ھیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق ایک غیر شادی شدہ مردکے مقابلے میں بیس بیوہ عورتیں موجود ھیں۔ عورت کی تنھائی اس کے لئے بھت دشوار اور افسردہ کرنے والی چیز ھے ۔ غیر شوھر دار عورتیں ھمیشہ شریک زندگی کے انتظار میں رھتی ھیں اور ان کی پوری زندگی انتظار کے کمرے میں گزر جاتی ھے ۔

آخر کیا بات ھے کہ بڑی زحمت و محنت سے پکائے ھوئے کھانے عورتوں کو تنھا کھانے میں لطف نھیں آتا ؟ اس کی وجہ یہ ھے محض اپنے لئے کام کرنے کو عبث و بیکار سمجھتی ھیں ، حالانکہ بچوں اور شوھر کے لئے کام بڑی رغبت سے کرتی ھیں ۔ کنواری اور بیوہ عورتیں زیادہ تر اپنے دن کوبے مقصد اور بد دلی سے گزارتی ھیں ۔ دوستوںاورقرابت داروں کے یھاں شوھر دار عورتوں کو دیکہ کر ان کایہ احساس مزید بڑہ جاتا ھے ۔ (۵)

فاضل اور زائد عورتوں کا حل اسلام نے تعدد ازواج کی صورت میں نکالا ھے کہ عورتوں کو یہ حق ھے کہ شادی شدہ مرد کے ساتھ شادی کر کے اپنے رنج وتنھائی اور دیگر محرومیتیوں سے نجات حاصل کریں ۔

مردوں میں تولید نسل کی صلاحیت اور جنسی خواھش تقریباً ھمیشہ باقی رھتی ھے لیکن عورتیں پچاس سال کے بعد حمل و پیدائش کی صلاحیت کھو بیٹھتی ھیں ۔ اب جس زمانے میں عورت کی صلاحیت ختم ھو جاتی ھے مرد کی شھوت پھر بھی بیدار رھتی ھے ۔ اس لئے اگر مردوں کے لئے دوسری شادی کرنا غیر قانونی ھو جاتا ھے تو اس کا مطلب یہ ھوا کہ عمر کے ایک حصے میں مرد کو اپنی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھا نانا ممکن ھو جائے گا ۔

اس کے علاوہ بھت سی عورتیںعقیم ھوتی ھیں لیکن میاں بیوی کے آپسی محبت کی بناء پر مرد سے جدائی بھی نھیں چاھتیں اور ادھر مرد کے اندر وجود فرزند اور بقائے نسل کی فطری خواھش موجود ھے ، ایسی صورت میں کس جرم کی بناء پر مرد پوری زندگی اولاد کی خاطر آتش حسرت میں جلتا رھے اور اپنے مقصد کو کیوں نہ حاصل کرے ؟

ایرانی اخبار” اطلاعات “” ایک مرد کی تین بیویاں شوھر کی چوتھی شادی پر راضی “ کے عنوان سے لکھتا ھے : کل ظھر کے بعد ایک مرد اپنی تین عورتوں کو لے کرایران کے شھر رشت کی عدالت میں حاضر ھوا اور حاکم سے خواھش کی کہ میں ایک لڑکی سے محبت کرتا ھوں مجھے اس سے شادی کی جازت دی جائے اور میری موجودہ بیویاں اس پر راضی ھیں اور لطف کی بات یہ ھے کہ تینوں عورتوں نے عدالت کے سامنے اپنی رضا مندی کا اظھار کیا ۔ اس شخص نے عدالت کے سامنے اپنی مجبوری اس طرح بیان کی کہ میری تینوں بیویاں بانجہ ھیں لیکن زراعت کے کاموں میں میرا ھاتہ بٹاتی ھیں اس لئے ان کو طلاق بھی نھیں دینا چاھتا اور چاھتا ھوں کہ ایک اور لڑکی سے شادی کروں جس سے میرے یھاں اولاد پیدا ھو ۔ لڑکی نے بھی ھمارے رشت کے نامہ نگار سے کھاکہ ھمارا ھونے والا شوھر ھمارے دیھات ” سفید کپلتہ “ کے بھت اچھے لوگوں میں سے ھے ۔ اس کے علاوہ ھمارے دیھات میں دو ھزار عورتیں اور صرف چار سو مرد ھیں ۔ مردوں میںبھی آدھے دس سے سولہ سال کے لڑکے ھیں یعنی ھمارے دیھات میں ایک مرد کے حصے میں پانچ عورتیں پڑتی ھیں ۔ ان دلائل کے پیش نظر اگر میں چوتھی بیوی بنوں تو جائے تعجب نھیں ھے ۔ (۶)

جو قانون مرد کو اس کی خواھش پوری نہ کرنے دے یعنی اولاد کی خواھش کو پوری نہ ھونے دے ، کیا وہ مرد کے حق میں ظالم قانون نھیں ھے ۔؟

اسی طرح زائد عورتوں کی صورت میں جب مردو عورت دونوں کے مصالح پیش نظر رکھے جائیں تو تعدد ازواج کی صورت کے علاوہ کون سا ایسا طریقہ ھے کہ معاشرے میں خلل واقع نہ ھو اورنسل کے اندر تعاون و توازن موجود رھے ؟

یہ ایک روحی، حیاتی و اجتماعی ضرورت ھے اور ایک واقعی حقیقت ھے جس کا سامنا کرنا ھی ھے،یہ کوئی افسانہ یا تخیل نھیں ھے ۔ اسی طرح کبھی یہ بھی ھو سکتا ھے کہ عورت کسی زمانے میں کسی زمین گیر بیماری میں گرفتار ھو جائے جو ناقابل علاج ھو اور ھمبستری کے لائق بھی نہ ھو، دوسری طرف مرد کی شھوت میں کوئی کمی نہ ھو اور اسلام عفت و پاکدامنی کے مخالف کام کی اجازت تو دیتا نھیں اب دوسری شادی کو بھی روک دے تو یہ کتنا بڑا ظلم ھو گا ۔ اس موقع پر تعدد ازواج کے قانون سے بھتر کون سا طریقہ ھے جس سے مرد کی ضرورت پوری ھوجائے ؟

اسی طرح اگر شوھر کسی ایسی بیماری میں مبتلا ھو جائے جو ناقابل علاج ھو اور جنسی رابطہ عورت کے لئے نقصان دہ ھو تو اس کو بھی حق ھے کہ قاضی اسلام کی طرف رجوع کر کے طلاق کی خواھش کرے اور حاکم شرع شوھر سے اس کو طلاق دلوا دے گا ۔ اگر شوھر طلاق دینے پر تیار نہ ھو تو حاکم شرع اپنے اختیارات کو استعمال کر کے خود طلاق نافذ کر سکتا ھے ۔

اب ایسی صورت میں کہ جب عورت زمین گیر مرض میں مبتلا ھو کیا یہ بھتر ھے کہ مرد اس کو طلاق دیدے اور اس عضو معطل کے ذریعہ معاشرے کے بے سر و ساماں لوگوں میںایک اور فرد کا اضافہ کر دے ؟ یا پھر تعدد ازواج پر عمل کرتے ھوئے دوسری شادی کر لے اور اس عورت کو اپنی سر پرستی میں رکہ کر علاج و معالجہ کرائے ؟ ظاھر ھے دوسری صورت بھتر ھے کیونکہ جس عورت نے اپنی زندگی کے قیمتی حصے کو شوھر کے گھر میں گزارا ھو اس کے رنج و غم خوشی و مسرت میں برابر کی شریک رھی ھو کیا انصاف اور وجدان کا تقاضا یہ ھے کہ شوھر تندرستی کے زمانے میں تو شریک زندگی بنائے لیکن بیمار ھونے کے بعد اس کو علیحدہ کر دے ؟ کیا یھی انسانیت اور شرافت ھے؟

حفظ عفت عمومی اور جنسی بے راہ روی کی روک تھام کرنے ھی کے لئے اسلام نے ” تعدد ازواج “ جیسا موثر قانون ایجاد کیا ھے جس سے لاکھوں عورتوں کو انحرافات جنسی سے بچا کر ان کی فطری شوھر و اولادکی خواھش کو پورا کیا جا سکتا ھے ۔

دوسری جنگ عظیم میں جب کروڑوں افراد لقمہٴ اجل بن گئے اور بھت سی عورتیں بغیر شوھر کے رہ گئیں تو عورتوں کی انجمن نے جرمنی حکومت سے جرمن کے اندر ” تعدد ازواج “ کے قانون کے نفاذ کی مانگ کی لیکن کلیسا کی مخالفت کی وجہ سے ان کی مانگ پوری نھیں کی گئی اور خود کلیسا نے اس مسئلے کا کوئی عملی و منطقی حل نھیں پیش کیا اس لئے عورتیں مختلف اخلاقی مفاسد اور جنسی بے راہ روی کی شکار ھو گئیں اور ناجائز اولاد کی بھر مار ھو گئی ۔

اخباروں نے اس طرح تفصیل لکھی ھے :

” دوسری عالمگیر جنگ کے بعد جرمنی کی بے شوھر عورتوں نے حکومت سے تعدد ازواج کے قانون کے نفاذ کا مطالبہ کیا تاکہ عورتوں کی شرعی و فطری مانگ ( شوھر و اولاد ) پوری ھو سکے مگر کلیسا نے مخالفت کی جس کا نتیجہ یہ ھوا کہ پورا یورپ بد کاری کا اڈا بن گیا ۔ (۷)

زندگی کی وحشت تنھائی، بیس سالہ عورتوں تک میں عام ھو رھی ھے تیس چالیس سالہ عورتوں کا پوچھنا ھی کیا ۔ مردوں اور عورتوں کی آزادی بھی عورتوں کے دل سے ( شوھر ) کی خواھش نھیں نکال سکی ۔ آج بھی” بنت حوا“ کی نظریں ” ابن آدم “ کی متلاشی ھیں ۔ تمام امکانی صورتوں اور ترقیوں کے باوجود جو اتحادی جرمنی کے اندر عورتوں کے لئے مھیا کی گئی تھیں، آج بھی عورت اپنی حفاظت و پاسداری کے لئے شوھر کی تلاش میں ھے ۔

مغرب کا دعویٰ ھے کہ اس نے عورتوں کے ساتھ بڑی مھربانی برتی ھے اور ان کو کامل آزادی بخشی ھے۔ اگر ایسا ھے تو ان کی جائز خواھشوں اور گھر بسانے کی تمنا کے سامنے کیوں دیوار کھڑی کرتا ھے ؟ ان کو ان کے اصلی فریضے ۔ تولید فرزند و تربیت اولاد ۔ سے کیوں محروم کرتا ھے ؟

ایک مرد کے گھر میں ایک یا چند عورتوں کے ساتھ رہ کر زندگی بسر کرنے پر آمادگی خود بتاتی ھے کہ بے شوھری اور تنھائی کی زندگی سے ”تعدد ازواج “ بھتر ھے ۔ یہ بے چارہ مرد ھے جو کئی شادیاں کر کے اپنی ذمہ داریوں میںاضافہ کر لیتا ھے ۔

ایک پڑھی لکھی معزز خاتون جنھوں نے حقوق میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ھے اس مسئلے پر اظھار رائے کرتے ھوئے واضح الفاظ میں تحریر کرتی ھیں : کوئی بھی عورت چاھے وہ پھلی بیوی ھو یا دوسری یا کوئی اور ” تعدد ازواج “ سے اس کو کوئی نقصان نھیں ھوتا ! بلکہ طے شدہ بات یہ ھے کہ اس قانون سے مردوں کو ضرر پھونچتا ھے کیونکہ ان کا بوجہ بڑہ جاتا ھے ان کی تکلیف زیادہ ھو جاتی ھے اس لئے کہ جب کوئی مرد کسی عورت سے شادی کرے گا تو شرعاً، اخلاقاً، قانوناً اور عرفاً اس عورت کا ذمہ دار ھو گا اور آخر عمر تک اس عورت کے شایان شان وسائل زندگی مھیا کرنا مرد کا فریضہ ھو گا ۔ اسی طرح عورت کے صحت کی ذمہ داری بھی اس پر ھو گی یعنی بیماری کی صورت میں علاج معالجہ کرانااور اس کے مصارف برداشت کرنا ھوں گے اور خطرات سے بچانا بھی اس کا فریضہ ھو گا ۔ !

اگر مردان چیزوں میں کوتاھی کرتا ھے تو عرف اس کو فرائض کی انجام دھی پر مجبور کرے گا اس خاتون کے عقیدے کے لحاظ سے تعدد ازواج کے سلسلے میں نادانستہ جتنے اعتراض عورتوں کی زبان سے ھوتے ھیں یہ در حقیقت مردوں کے اعتراض ھیں جو عورتوں کی زبان سے ھوتے ھیں ۔ عورتیں طوطی کی طرح رٹ کر ھر جگہ اس راگ کو الاپتی رھتی ھیں ( گویا یہ عورتوں کی بے وقوفی اور مردوں کی عقل مندی ھے ) کیونکہ در حقیقت مرد مختلف شبھات پیدا کر کے شادی سے روکتے ھیں کیونکہ اس قانون سے انھیںکو نقصان ھے عورتوں کو کوئی نقصان نھیںھے اور مرد یہ چاھتا ھے کہ قانونی پابندی سے بچ کر اپنی جنسی خواھش پوری کرتا رھے مگر نادان عورت اس بات کو نھیں سمجہ پاتی ۔ اگر کسی مرد کی دو بیویاں ھیں تو جنسی تعلق سے عورت کو کوئی نقصان نھیں ھے بس روحانی طور پر عورت کو یہ احساس ھوتا ھے کہ میرے شوھر کی دوسری بیوی بھی ھے لیکن یہ روحانی تکلیف بھی حقیقی چیز نھیں ھے بلکہ مردوں کی سمجھائی ھوئی بات ھے اور اس کی دلیل یہ ھے زمانھٴ سابق میںلوگوں کی کئی بیویاں ھوتی تھی اب بھی ایسی مثالیں مل جائیں گی کہ ایک گھر میں دو تین بیویاں مل کر زندگی بسر کرتی ھیں اور کسی کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نھیں ھے لیکن مردوں کے بھکائے میں آکر اب ان کو بھی تکلیف کا احساس ھونے لگا ھے اگر واقعاً دوسری بیوی باعث تکلیف ھوتی تو پھلے زمانے میں یہ احساس کیوں نھیں تھا ؟

اب آپ سمجھئے کہ مغرب نے جنسی بے راہ روی توجائزقرار دے دی لیکن فطری خواھش ( شوھر و اولاد ) پر پابندی لگا دی لیکن اسلام لوگوں کو معقول آزادی دیتا ھے اور ایسی آزادی جو مصالح فرد یا اجتماع کے لئے نقصان دہ ھو، اس کی کسی قیمت پر اجازت نھیں دیتا ۔

چونکہ اسلام کی نظر میں عدل و انصاف، فرد و اجتماع کی سعادت کا اھم جزو ھے اسی لئے ” تعدد ازواج “ میں بھی اسلام نے عدالت کی شرط رکھی ھے اور مختلف امور میں عورتوں کے ساتھ کیسی عدالت برتی جائے اس سلسلے میں فقہ اسلامی کے اندر بھت زیادہ دستور بتائے گئے ھیں اور عورتوں کی آزادی و برابر ی کے حقوق وغیرہ کی بھت عمدہ طریقے سے ضمانت دی گئی ھے ۔

بھت سی ایسی عورتیں بھی ھیں جو رضا و رغبت کے ساتھ اپنے شوھروں کو دوسری شادی کی اجازت دے دیتی ھیں ، عورتوں کی یہ رضا مندی اس بات کی دلیل ھے کہ ” تعدد ازواج “ کا مسئلہ انسانی فطرت سے ھم آھنگ ھے ۔ اگر یہ خلاف فطرت قانون ھوتا تو عورت کسی بھی قیمت پر مرد کو دوسری شادی کی اجازت نہ دیتی۔

اگر کسی گھر میں ناراضگی ، اختلافات دکھائی دیتے ھیں تو اس کی وجہ صرف یہ ھے کہ وھاں امتیاز برتا جاتا ھے عورتوں کے ساتھ انصاف نھیں ھوتا ھے اسلام کا اعلان ھے”اور اگر یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کر سکنے کا خطرہ ھے تو جو عورتیں تمھیں پسند ھیں دو تین ۔چار ان سے نکاح کر لو اور اگر ان میں بھی انصاف نہ کر سکنے کا خطرہ ھے تو صرف ایک یا جو کنیزیں تمھارے ھاتہ کی ملکیت ھیں یہ بات انصاف سے تجاوز نہ کرنے سے قریب تر ھے “ ۔( ۸)

مختصر یہ بعض اوقات کچہ مردوں کے غیر معقول اور سخت گیر رویہ سے گھروں میں شدید اختلاف پیدا ھو جاتا ھے اور شرعی و اخلاقی فریضہ میںبیویوں سے انصاف نہ کرنے کی وجہ سے گھر یلو ماحول مھر و محبت کے بجائے دھکتا ھوا جھنم بن جاتا ھے ۔ اس لئے مسلمانوں کے اعمال کی طرف توجہ دئے بغیر اسلام کے احکام کی گھرائی کو سوچنا چاھئے تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے ۔ اسلام کے اندر ایسے بھی دستور و قانون موجود ھیں جن کی بناء پر مردوں کو عورتوں سے منصفانہ سلوک کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ھے مثلاً اگر کوئی مرد بیوی کا نان و نفقہ نھیںدیتا یا بیویوں میں عدالت سے کام نھیں لیتا اور اپنی ذمہ داری کا احساس نھیں کرتا تو اس سے شرعی باز پرس ھو گی اور اس کو سز ابھی دی جائے گی ۔

البتہ دلی لگاؤ اور قلبی جھکاؤ انسان کی قدرت سے باھر کی چیز ھے اور بھت ممکن ھے کہ کسی عورت کے اندر زیادہ خصوصیات ھوں جس کی بناء پر مرد اس سے زیادہ محبت کرتا ھو ، اسی لئے اسلام نے مرد کونان و نفقہ ، مکان ،ھمبستری اور تمام روحانی ، جسمانی اور مالی خواھشات کی مساوات پر مجبور کیاھے یعنی جو چیزیں انسان کے بس کی ھیں ان میں عدالت شرط ھے اس میں کسی قسم کی زیادتی اور ظلم و ستم جائز نھیں ھے لیکن جو باتیں انسان کے بس سے باھر ھیں ان میں عدالت شرط نھیں ھے ۔

عورتوں کے لئے جن حقوق کی خانگی زندگی میں زیادہ اھمیت ھے اسلام نے ان کی حفاظت کی ھے اور یہ طے شدہ بات ھے کہ دلی لگاؤ کی وجہ سے اگر برتاؤ میں فرق پڑ جائے تب تو عورت کے حقوق ضائع ھوتے ھیں لیکن اگر کسی عورت سے قلبی لگاؤ ھونے کے باوجود لباس ، خوراک ، مکان ، اور دیگر ضروریات زندگی میں مثلا ھمبستری وغیرہ میں کوئی فرق نھیں پڑتا بلکہ عدالت کے موافق کام ھوتا ھے تو پھر اس قلبی لگاؤ کی کوئی اھمیت نھیں ھے ۔ اسی لئے خانگی زندگی میں بے مھری ، کے آثار نھیں پیدا ھونے دنیا چاھئے۔ قرآن کھتا ھے : عورت کو معلق ( نہ شوھر دار نہ بے شوھر ) نہ کرو اس کو موت و زندگی کے بیچ میں مت پھنساؤ ۔ اسی لئے کسی مرد کو یہ حق نھیں ھے کہ اپنی کچہ بیویوں کے ساتھ بے رخی سے پیش آئے اور ان کو بیچ منجدھار میں چھوڑ دے ۔

حضور سرور کائنات کے زمانے میں جب یہ حکم نافذ ھوا تو جن اصحاب کے پاس چار بیویاں تھیں ان کو پابند بنایا گیا کہ اگر سب کے ساتھ انصاف نہ کر سکو تو صرف ایک بیوی پر اکتفا کرو اور اگر انصاف بھی کر سکتے ھو تو چار بیویوں سے زیادہ نھیں رکہ سکتے ۔ اس حکم کے ذریعے اسلام نے ” تعدد ازواج “ کے غیر عادلانہ برتاؤ، عورتوں کے حقوق سے لا پرواھی اورمطلق العنان جنسی بے راہ روی پر پابندی عائد کر دی اور ھر ظلم و ستم کا خاتمہ کر دیا ۔

مسلمانوں میں جو مذھبی قانون کے پابند تھے ان میں ایسے لوگ بھی ملتے ھیں جنھوں نے عورتوں کے مرنے کے بعد بھی عدالت و انصاف کے دامن کو ھاتہ سے نھیں چھوڑا مثلاً ” معاذ بن جبل “ صحابی پیغمبر کی دو بیویاں تھیں اور طاعون میں دونوں ایک ساتھ مر گئیں ۔ معاذ اس وقت بھی عدل انصاف سے کام لینا چاھتے تھے کہ کس کو پھلے دفن کیا جائے ۔ چنانچہ انھوں نے اس کام کے لئے قرعہ اندازی سے کام لیا “ ( ۹)

مغرب میںبھی بعض ایسے منصف مزاج دانش مند پیدا ھوئے ھیں جنھوں نے اس مسئلے پر کافی غور و خوض کے بعد فیصلہ دیا ھے کہ ” تعدد ازواج “ معاشرے کی ایک اھم ضرورت ھے ۔ مشھور جرمنی فلسفی شوپنھاور (SCHOPENHAUER) اپنی کتاب عورتوں کے بارے میں چند باتیں میں تحریر کرتا ھے : جس مذھب میں ” تعدد ازواج “ کا قانون موجود ھے اس میں اس کا امکان ھے کہ عورتوں کی ایسی اکثریت جوکُل کے قریب ھو شوھر ،فرزند اور سرپرست سے ھمکنار ھو ۔ لیکن یورپ کے اندر کلیسا ھم کو اس بات کی ا جازت نھیں دیتا اس لئے شوھر دار عورتیں بغیر شوھر والی عورتوں سے کئی گنا کم تعداد میں ھیں۔ بھت سی کنواریاں شوھر کی آرزو لے کر اور بھت سی عورتیں اولاد کی خواھش لے کر اس دنیا سے چلی گئیں اور بھت سی عورتیں اور لڑکیاں جنسی خواھش کے ھاتھوں مجبور ھو کر اپنی عفت کھو بیٹھیں اور بد نام ھو گئیں اور ساری زندگی آتش عصیاں و تنھائی میں جلتی رھیں اور انجام کار اپنی فطری خواھش تک نہ پھنچ سکیں اگر تعدد ازواج کا قانون ھوتا تو یہ بات نہ ھوتی ۔

کافی غور وخوض کے بعد بھی کوئی دلیل نھیں ملی کہ اگر کسی مرد کی بیوی زمین گیر مرض میں گرفتار ھو یا بانجہ ھو ، یا عمل حمل و وضع سے عاجز ھو تو وہ بے چارہ دوسری عورت سے شادی کیوں نہ کرے ؟ اس کا جواب کلیسا کو دینا چاھئے مگر کلیسا کے پاس کوئی جواب نھیں ھے ۔ بھترین قانون وہ ھوتا ھے جس کے سھارے زندگی کی سعادت محفوظ رھے نہ کہ وہ جس کی بدولت زندگی جھنم کا نمونہ بن جائے ۔

آنی بسنٹ ( ANIE BESANT) تحریر کرتی ھے : مغرب کا دعویٰ ھے کہ اس نے ” تعدد ازواج “ کے قانون کو نھیں قبول کیا لیکن واقعیت یہ ھے کہ بغیرقبول کئے یہ قانون مغرب میں موجود ھے بایں معنی کہ مرد جب اپنی معشوقہ سے سیر ھو جاتا ھے تو اس کو بھگا دیتا ھے اور یہ بے چاری گلی کوچوں میں ماری ماری پھرتی ھے کیونکہ پھلا عاشق اپنی کوئی ذمہ دار ی محسوس ھی نھیں کرتا اور عورت کی یہ حالت ھزار درجہ اس عورت کی حالت سے بدتر ھے جو قانونی شوھر رکھتی ھے بال بچے والی ھے ،خاندان میں شوھر کے زیر حمایت زندگی بسر کر رھی ھے ۔ میں جب ھزاروں عورتوں کو رات کے وقت سڑکوں پر حیران و سر گرداں دیکھتی ھوں تو مجبورا ًسوچتی ھوں کہ اھل مغرب کو اسلام کے ”تعدد ازواج “ کے قانون پر ھرگز اعتراض نھیں کرنا چاھئے ۔جو عورت ”تعدد ازواج“ قانون کے ماتحت شوھر رکھتی ھے ، گود میں چھوٹے چھوٹے بچے رکھتی ھے اور نھایت احترام کے ساتھ شوھر کے خاندان میں زندگی بسر کرتی ھے وہ ھزاروں ھزار درجے اس عورت سے بھتر ھے جو گلی کوچے میں حیران و پریشاں گھومتی ھے، گود میں نا جائز بچہ رکھتی ھے جس بچے کو کوئی قانونی حمایت حاصل نھیں ھے ، جو دوسروں کی شھوتوں کے قربان گاہ پر بھینٹ چڑہ چکی ھے ۔


ڈاکٹر گوسٹاو لبون ( Dr. GUSTAVELEBON)لکھتا ھے : مشرقی رسم و رواج میںسے ” تعدد ازواج “ کے مسئلے کو مغرب میں جس قدر غلط طریقے سے پیش کیا گیا ھے کسی بھی رسم کے بارے میںایسا نھیں ھوا ھے ، اور کسی بھی مسئلے پر مغرب نے اتنی غلطی نھیں کی ھے جتنی ” تعدد ازواج “ کے مسئلے پر کی ھے ، میں واقعاً متحیر ھوں اور مجھے نھیں معلوم کہ مشرق میں” تعدد ازواج “ کا مسئلہ مغرب کے ” فریبی ازدواج “ سے کس طرح کم ھے اور اس میں کیا کمی ھے ۔ میرا تو یہ عقیدہ ھے کہ ” تعدد ازواج “ کا شرعی مسئلہ ھر لحاظ سے بھتر و شائستہ ھے ۔ ( ۱۰)

حوالے:

۱۔حقوق زن در اسلام و اروپا ص ۲۱۵

۲۔ ایرانی اخبار” اطلاعات“ ۱۱/ ۹/ ۳۵

۳۔خواندینھا شمارہ ۷۱ سال ۱۴

۴۔ ایرانی اخبار” کیھان“ ۳/۱۲/۳۸

۵۔سروس مخصوص خبر گزاری فرانسہ اطلاعات ۱۲۲۳۹

۶۔ ایرانی اخبار” اطلاعات“ ۲۰ بھمن ۴۸ شمارہ ۱۳۱۶

۷۔ایرانی اخبار” اطلاعات“ ۲۹/۸/۴۰

۸۔سورہ ٴ نسا/۳

۹۔مجمع البیان ج۳ ص ۱۲۱

۱۰۔تمدن اسلام و عرب ص ۵۲۶۔ ۵۲۷

http://www.islamhouse.com/p/162025

Iblees

0 comments











ایک عیسوی سال میں تین ہجری سال جمع

0 comments


اسی سال 2008 دسمبر میں 1430 ہجری سال کی ابتدا ہوگی۔

یہ اس وجہ سے کہ قمری سال کا دورانیہ تقریبا 354 دن کا ہے جبکہ عیسوی سال 365 دنوں بر مشتمل ہے۔ ان دونوں کے درمیان 11 دن کا فرق آتا ہے۔ اسی فرق کی وجہ سے سن 2008 میں یہ کونی عجوبہ ظاہر ہوگا۔ جو کہ ہر 32 شمسی سالوں جوکہ 33 قمری سال بنتے ہیں کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ اس حساب سے ہر 100 سال میں تین دفعہ واقع ہوتا ہے۔

قرآن میں اس بات کا اشارہ سورہء کہف میں اصحاب کہف کے واقعہ آیت نمبر 25 اور 26 میں ملتا ہے:

اللہ تعالی اصحاب کہف کی خبر دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
«ولبثوا في كھفھم ثلاث مائۃ سنين وازدادوا تسعاً
قل اللہ اعلم بما لبثوا لہ غيب السموات والارض»
ترجمہ:
اصحاب کہف اپنی غار میں تین سو سال اور مزید 9 سال ٹھہرے رہے۔ کہہ دو اللہ ہی جانتا ہے کہ کتنی مدت رہے۔ اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کے امور غیبیہ کا علم ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اصحاب کہف غار میں 300 شمسی سال رہے جو کہ قمری سال کے حساب سے 309 قمری سال بنتے ہیں۔

سبحان تیری قدرت


اگلا سال سن 2008 میں تین ہجری سال اکٹھے ہوں گے۔ 1428 1429 اور 1430 ہجری۔ 1428 ہجری کے آخری دن سن 2008 کے ابتدا میں ہوں گے۔ اگلا ہجری سال 1429 جنوری 2008 میں شروع اور ختم ہوگا۔

لیپ ایئر: یہ چھلانگ کس لیے

0 comments
ہم سب کو معلوم ہے کہ جس سال 29 فروری ہو تو یہ لیپ کا سال ہوتا ہے۔ یعنی ایسا سال جس میں فروری کا مہینہ 28 کی بجائے 29 دن کا ہوتا ہے۔ گویا اس برس 365 کے بجائے 366 دن ہوں گے۔ عموماً یہ دن ہر چار سال کے بعد آتا ہے۔
بھئی یہ معمہ کیا ہے۔آخر فروری کا مہینہ ایک دن لمبا کیوں ہوجاتا ہے؟


حقیقت یہ ہے کہ صدیوں سے انسان اس معمے کو حل کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ قدیم مصریوں نے یہ معلوم کر لیا تھا کہ زمین سورج کے گرد
365 دن میں چکر مکمل نہیں کرتی بلکہ اس سے کچھ زیادہ وقت لگاتی ہے۔ اسی لیے گزشتہ ہزار سال انسان اس کوشش میں رہا کہ کس طرح موسموں کے اوقات میں ایک مطابقت رہے اور کھیتی باڑی اور دیگر کام ایک نظام کے تحت ہو سکیں۔

زمین کا سورج کے گرد گردش کا دورانیہ
365 دنوں کا نہیں ہے بلکہ چوتھائی دن زیادہ ہے۔ یعنی کہ 365 دن، پانچ گھنٹے، 49 منٹ اور 12 سیکنڈ۔ اور چونکہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے اس لیے موسموں کی تبدیلی کا انحصار بھی زمین اور سورج کے اس گردش کے رشتے پر ہوتا ہے۔ اس لیے اگر ہر سال 365 دن رکھیں تو ہر سال چوتھائی دن کا فرق پڑنے لگتا ہے اور کیلنڈر موسموں سے دور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

جولیس سیزر کی موت کے بعد ہر چار سال کے بعد ایک دن کا اضافہ کرنے کی بجائے یہ اضافہ ہر تین سال کے بعد کیا جانے لگا۔ اس طرح ایک مرتبہ پھر رومن کیلنڈر موسموں سے آگے بھاگنے لگا۔

یہ مسئلہ جولیس سیزر کے بعد آنے والے اصلاح پسند بادشاہ آگسٹس سیزر نے
8 قبلِ مسیح میں حل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے لیپ کے تین سالوں کو سکپ کیا یا یوں کہیے کہ ان پر سے چھلانگ لگا کر ان کو پیچھے چھوڑا اور اس طرح یہ سلسلہ 16 ویں صدی تک چلتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ کلینڈر کے مہینوں میں آج تک جولیس سیزر اور آگسٹس کو یاد رکھا جاتا ہے۔ جولیس کو جولائی کی شکل میں اور آگسٹس کو اگست کی صورت۔

جامعہ کراچی میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف سپیس اینڈ پلینٹری ایسٹروفزکس کے اسسٹنٹ پروفیسر شاہد قریشی کہتے ہیں کیونکہ ہر سال زمین کے سورج کے گرد چکر لگانے کے دورانیے میں فرق ہوتا تھا اس لیے
16 ویں صدی میں پاپ گریگری نے کلینڈر میں تبدیلی کر کے یہ مسئلہ بھی حل کرنے کی کوشش کی۔

ان کے مطابق سورج کے گرد زمین کا اصل دورانیہ
365.25 نہیں ہے بلکہ 365.24 ہے۔ چناچہ اگر ہر سال ایک دن کا اضافہ کیا جائے گا تو کچھ سالوں میں موسم اپنے وقت سے دور ہو جائیں گے۔ مثلاً مون سون روایتی مہینوں میں نہیں بلکہ ہوتے ہوتے نومبر دسمبر میں آنے لگے گا۔ تو اس بات کو مدِ نطر رکھتے ہوئے 16 ویں صدی میں پاپ گریگری نے ایک کمیشن قائم کیا جس میں یہ طے پایا کہ ہر 400 سال میں 100 لیپ ائیر ہونے کی بجائے 97 لیپ ائیر ہوں گے۔ اس سے قبل 45 قبلِ مسیح سے لے کر 16 ویں صدی تک ہر چار سال کے بعد ایک لیپ کا سال ہوتا تھا۔

شاہد قریشی کہتے ہیں اس لیے یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ ہر چوتھا سال لیپ ایئر ہوتا ہے۔

لیپ کا سال بنانے کے اور بھی فوائد ہیں۔ مثلاً اب ہمیں پتا ہے کہ سال کا لمبا دن ہمیشہ
21 جون کو ہو گا، سب سے چھوٹا دن 21 دسمبر کو ہو گا، اور برابر کے دو دن 21 مارچ اور 21 ستمبر کو ہی ہوں گے۔ تو اس لیے لیپ کے سال کی وجہ سے سورج اور زمین کی ہیرا پھیری کو کوئی ترتیب مل جاتی ہے اور انتشار نہیں پھیلتا۔ اگر لیپ کے سال میں تبدیلی نہ کی جاتی تو ہر 400 سال میں واضح فرق سامنے آتا چلا جاتا۔ اب انسانوں میں ہو نہ ہو کھتی باڑی اور فصلیں اگانے کے لیے موسموں کے اوقات میں ضرور مطابقت پیدا ہو گئی ہے اور ہزاروں سال تک اس میں تبدیلی آنے کا امکان نہیں ہے۔

اگر پٹرول کی قیمتیں اسی طرح چڑھتی رہیں تو ؟

0 comments
فائل فوٹو

پاکستان میں ڈیزل کی قیمت کا تعین سرکار کے بجائے تیل فراہم کرنے والے نجی کمپنیاں کرتی ہیں

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک ماہ میں سات ڈالر فی بیرل اضافے کے بعد پاکستان میں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اوسطاً آٹھ فیصد اضافہ کیا ہے۔

وزارت پٹرولیم کے ایک افسر کے مطابق خلیجی تیل مارکیٹ میں جولائی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت تریسٹھ ڈالر تھی جبکہ اگست کے دوران یہ نرخ ستر ڈالر فی بیرل رہے۔

اسی تناسب سے پاکستان میں اسی خام تیل سے بننے والی مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں چار روپے اسی پیسے، مٹی کے تیل میں دو روپے انہتر پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں چار روپے انسٹھ پیسے اضافہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ ڈیزل کی قیمت کا تعین سرکار کے بجائے تیل فراہم کرنے والے نجی کمپنیاں کرتی ہیں۔ہوائی جہاز میں استعمال ہونے والے پیٹرول کی قیمت میں تین روپے چوہتر پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔

تبدیلی کے بعدپیٹرول 65.26 روپے، ہائی اوکٹین 80.39 روپے، گاڑیوں میں استعال ہونے والا ڈیزل 66.00 روپے، ٹیوب ویلز میں استعمل ہونے والا ڈیزل 56.96 روپے اور ہوائی جہازوں میں استعمال ہونے والا پیٹرول 48.12 روپے ہے۔














سالگرہ کی تقریبات

0 comments

بارہ پنجے ساٹھ ۔۔۔ مستقبل کی ایک تصویر

0 comments
بھلا وہ کیا چیز ہے جو کمپیوٹر سے زیادہ ذہین ہو،اس سے زیادہ تیز رفتارہو، اس سے زیادہ تخیلاتی ہواور سب سے بڑھ کر کمپیوٹر سے زیادہ انسانی وجود سے قریب تر ہو؟

اس سوال کا جواب بہت ہی آسان ہے، دماغ۔ جی ہاں ہمارا دماغ ان تمام افعال میں کمپیوٹرسے برتر ہے، لیکن ہم انفارمیشن ہائی وے پر چوہا دوڑ میں اس قدر مگن ہوگئے ہیں کہ اپنے دماغ سے کام لینا ہی چھوڑتے جا رہے ہیں۔ اسکول کے بچے سے پوچھ لیں یا کسی دفتر کے بابوسےکہ نواٹھے کتنے ہوتے ہیں؟ وہ سوچ میں پڑ جائے گا جیسے نہ جانے کون سا مشکل سوال کرلیا گیا ہے۔ کیلکولیٹر مانگے گا یا کمپیوٹر کا سہارا تلاش کرے گا ۔

مجھے ایجاد کی بنا پر ہونے والی ہر مثبت تبدیلی قبول ہے لیکن مجھے جدید ایجاد کی قیمت پر انسانی ذہن کا ، پرکھنے کا ہنر ، چننے کی صلاحیت اور فیصلہ کرنے کی قدرت کو قربان کردینا منظور نہیں:

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

کوئی جدید سے جدید کمپیوٹر بھی شعر بھلا کہاں کہہ سکتا ہے،دو لفظ ہمدردی کے کہاں بو ل سکتا ہے،زخموں پر مرہم کہاں رکھ سکتا ہے ،خوشی کے لمحات میں کہاں شریک ہو سکتا ہے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ دور جدید کی تمام ترقی مشینوں کی مرہونِ منت ضرور ہے لیکن اس میں سے انسانی عنصر کو نہیں نکالا جا سکتا۔آخر انسان نے ٹیکنالوجی کے یہ کمالات زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ہی بنائے ہیں نا۔

2

میرے تخیئل کے پردے پر سال 2408ء کا ایک منظر ابھر رہاہے ۔دنیا ترقی کی انتہاؤں کو چھوتی ہوئی اپنی کہکشاں آکاش گنگا سے پرے نکل چکی ہے۔انسان کی بنائی ہوئی مشینوں کی مار ساڑھے چار نوری سال دور الفا سنتوری سے آگے پہنچ چکی ہے۔

الفا سنتوری کے ایک ستارے پراکسیما کے نظامِ شمسی کے باسی اہلِ زمین سے پرخاش رکھتے ہیں۔اہلِ زمین اور پراکسیما واسیوں کے درمیان ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو گئی ہے ۔دونوں ایک دوسرے پر حملے کرنے اور ایک دوسرے کے حملوں سے بچنے کے نت نئے طریقے کھوجنے میں جٹے ہوئے ہیں۔

زمین کے صدر کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کس طرح پراکسیما واسیوں پر حملے کے لیے سستے اور موثر طریقے تلاش کیے جائیں۔

اِدھرزمین پر ایک فوجی یونٹ میں سپر وائزر اپنے افسر کوایک بہت اہم بات بتا رہا ہے:

’سر میں نے خود اس کلرک سے بات کی ہے۔وہ واقعی کسی کمپیوٹر کے بغیر حساب کتاب کر سکتا ہے۔میں نے اس کو آزمایا ہے، بلا شبہ وہ جو کہتا ہے سچ ہے۔‘

بات یہ ہے کہ معمولی کلرک اچانک اپنے محکمے میں مشہور ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہٴ شہرت یہ ہے کہ وہ بغیر کمپیوٹر کے حساب کتاب کر سکتا ہے۔اس کے ساتھی اس کا امتحان لیتے ہیں، سات اٹھے؟ وہ کہتا ہے چھپن۔ ساتھی پوچھتے ہیں بارہ پنجے؟ وہ کہتا ہےساٹھ۔ اور یہ سب جواب وہ کمپیوٹر کی مدد کے بغیر دیتا ہے،اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کمپیوٹر بھی یہی جواب دیتا ہے۔کیسا باکمال آدمی ہے کمپیوٹر کا کام کر رہاہے؟

افسر اپنے بڑے افسر کو رپورٹ کرتا ہے اوربات اوپر بڑھتے ہوئے وزیرِ اعظم تک چلی جاتی ہے۔وزیرِ اعظم کو یقین نہیں آتا کہ کس طرح ایک انسان خود سے حساب کتاب کر سکتا ہے۔وزیر اعظم اس کلرک سے ملاقات کرتے ہیں:

’تم ہی وہ شخص ہو جس نے خود سے حساب کتا ب شروع کردیا ہے؟‘

’جناب اس میں میرا کوئی قصور نہیں، میں نے کچھ نہیں کیا۔‘

’ڈرو نہیں تم نے تو ایک عظیم کام کیا ہے، لیکن تم نے یہ سب کچھ کیا کیسے؟‘

’جناب مجھے سینکڑوں سال پہلے تباہ ہوئی عمارت کے تہہ خانے سے ایک کتاب ملی تھی جو کاغذ پر لکھی گئی تھی۔ سنا ہے کبھی انسان جاہل تھا وہ کاغذ پر لکھنے کی کوشش کرتا تھا۔جناب اس کتاب سے میں نے جمع تفریق تقسیم ضرب کے قاعدے سیکھے۔‘

وزیر اعظم نے اپنے کمپیوٹر پر کچھ جمع تفریق کی اور کلرک کووہ سوال حل کرنے کے لیے دے دیے گئے۔ کلرک نے کاغذ پر کچھ دیر سر کھپانے کے بعد اپنے جوابات وزیر اعظم کو دکھائے ۔

’شاندار! کمپیوٹر نے بھی یہی جوابات دیے ہیں۔تم اپنا یہ ہنر دوسروں کو بھی سکھا سکتے ہو؟‘

’جی جناب لیکن اس میں ٹائم لگے گا ۔خود مجھے اس کام کو ٹھیک طرح سے کرنے میں کئی سال لگ گئے تاہم امید ہے دوسروں کو سکھانے میں کم وقت لگے گا۔‘

’تم اس نئے پراجیکٹ کے سربراہ ہو ۔میں صدر سے بات کرتا ہوں، وہ فوراً اس کی منظوری دے دیں گے۔‘

3

صدراپنے دفتر میں نئے سپرکمپیوٹروں کے ساتھ اہم میٹنگ میں ہے۔وزیر اعظم کا پیغام آتا ہے:

’پراکسیما والوں نے زمین کو نشانے پر لینے کے لیے مریخ پر واقع ہماری رسد گاہ پر حملے تیز کر دیے ہیں۔‘

’ہمارا جدید کمپیوٹر ز کی تیاری کا سسٹم سست روی کا شکار ہے۔ہم نے پراکسیما تک مار کرنے والے میزائل تو بنا لیے ہیں لیکن پارٹس کی کمی کی وجہ سے ہر میزائل میں کمپیوٹر نہیں لگایا جا سکتا۔اس صورت حال میںٕ جلد کوئی انتظام نہ کیا گیا تو زمین کو بچانا مشکل ہو جائےگا۔تو کیا کریں ہم مجبور ہیں۔ ہمارے کمپیوٹر قیمتی ہیں اوران کی تعداد بھی کم ہے۔‘

’سر ایک کلرک نے اپنے ذہن کا استعمال سیکھ لیا ہے۔ وہ کمپیوٹر پر کرنےوالے حساب کتاب خود کرلیتا ہے۔میں نے خود ٹیسٹ کیا ہے۔اس سے پوچھا گیا، بارہ پنجے؟ اس نے کہا ساٹھ اور یہ ٹھیک ہے۔‘

’ارے زبردست! یہ تو کمال ہوگیا فوری طور پر اس پراجیکٹ پر کام شروع کردو۔انسانی ذہن کے استعمال سے ہم پراکسیما والوں کو شکست دے دیں گے۔‘

’جی ہاں جناب صدر،میں بھی یہی سوچ رہا ہوں ہمارے پاس بہت سارے بیکار انسان ہیں جن کی تربیت کے بعد انہیں ہم پراکسیما تک مار کرنے والے میزائلوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔‘

’واہ ہم نےکتنا سستا اور مؤثرہتھیار تلاش کرلیا ہے،اور ہاں اس پراجیکٹ کا نام رکھو، بارہ پنجے ساٹھ ۔۔۔‘


شاہد احمد خان کے قلم سے

رد قادیانیت ،فری خط و کتابت کورس ،بمعہ"سند"

0 comments


"دوستو "

آپ کے لیے ایک خوش خبری ہے............عالمی مجلس تخفظ ختم نبوت .......والے ........رد قادیانیت ....پر ایک کورس کروا رہے ہیں جو آپ گھر بیٹھے کر سکتے ہیں.....کیونکہ یہ خط و کتابت کے ذریعے ہے..........اور کسی قسم کی کوئی فیس نہیں .........بالکل فری کورس ہے...............اور تو اور .......کورس مکمل ہونے پر اچھے نمبروں میں پاس ہونے والے کو گفٹ بھی دیتے ہیں اور ساتھ "سند" بھی............ہے نا مزے کی بات.................(میں گفٹ تو نہین لے سکا پر "سند " حاصل کر لی ہے......میری نالائقی کے بارے میں کسی کو بتائیے گا نہیں)

تو ابھی شروع کر دیں.....دیر کس چیز کی ........

چار یونٹ پر مشتمل کورس ہے:‘::: ہر یونٹ کا دورانیہ 2 ماہ ہے؛؛؛؛؛؛؛یعنی آٹھ ماہ میں کورس مکلمل.........
.

:::::ایڈریس مندرجہ ذیل ہے:::::

ختم نبوت خط وکتابت کورس
پوسٹ بکس نمبر1347
اسلام آباد





TariqRaheel



آڈیو کیسٹس / ریڈیو سے کمپیوٹر میں کاپی کیجیئے

0 comments

ڈرون (امریکی جاسوسی طیارہ) کی تاریخ

0 comments

کلاشنکوف، سٹنگر میزائل اور گن شپ ہیلی کاپٹر جیسے تباہ کن ہتھیاروں کے ناموں سے پاکستانی انیس سو اسی کی دہائی میں امریکہ کے ایماء پر افغانستان پر سویت یونین کے قبضے کے خلاف لڑے جانے والے جہاد کے دوران روشناس ہوئے۔

عام پاکستانی دو عالمی طاقتوں کے اس ٹکراؤ سے پہلے ان لفظوں سے بالکل ناآشنا تھے۔

سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے نے پاکستانیوں کو ان سے کہیں زیادہ خطرناک جدید ہتھیاروں اور بموں ’ڈیزی کٹر، بنکر بسٹر، کروز میزائل، شنوک ہیلی کاپٹروں، ڈرون اور ان پر نصب ہیل فائر میزائلوں سےآشنا کر دیا۔

پاکستان میں بسنے والا آج شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو ڈرون کے نام سے واقف نہ ہو۔

ڈرون یا بغیر پائلٹ کے جہاز کے لیے امریکی فوج میں انگریزی زبان کا لفظ ’میِل‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لفظ کا اگر اردو میں ترجمہ کیا جائے تو اس کا مطلب نر ہو گا۔

ایک ڈرون سسٹم میں چار جہاز شامل ہوتے ہیں

اصل میں میل مخفف ہے ’میڈیم ایلٹیٹوڈ لانگ اینڈورینس‘ کا۔ ابتداء میں بغیر پائلٹ کے جہاز یا ’پریڈیٹر‘ کو دشمن کے علاقے میں فضائی جاسوسی یا نگرانی کرنے کے مقصد سے بنایا گیا تھا لیکن بعد میں اس پر اے جی ایم ہیل فائر میزائل بھی نصب کر دیئے گئے۔

سن انیس سو پچانوے سے امریکی فوج کے زیر استعمال یہ ڈرون افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے پہلے بوسنیا، سربیا، عراق اور یمن میں بھی استعمال کیئے جا چکے ہیں۔

ڈرون صرف ایک جہاز ہی نہیں بلکہ یہ ایک پورا نظام ہے۔ اس پورے نظام میں چار جہاز، ایک زمینی کنٹرول سٹشین اور اس کو سیٹلائٹ سے منسلک کرنے والا حصہ ہوتا ہے۔ اس نظام کو چلانے کے لیے پچپن افراد کا عملہ درکار ہوتا ہے۔

پینٹاگن اور سی آئی اے انیس سو اسی کی دہائی کے اوائل سے جاسوسی کے لیے ڈرون طیاروں کے تجربات کر رہے تھے۔

انیس سو نوے میں سی آئی کو ابراہم کیرم کے بنائے ہوئے ڈرون میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ ابراہم کیرم اسرائیلی فضائیہ کا چیف ڈیزائنر تھا جو بعد میں امریکہ منتقل ہو گیا۔

ڈرون انیس سو نوے کی دہائی میں مختلف تجرباتی مراحل سے گزرتا رہا اور انیس سو پچانے میں پہلی مرتبہ اسے بالکان میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ڈرون کے بارے میں حقائق

بنیادی کام: جاسوسی اور اہداف کو نشانہ بنانا
بنانے والے: جنرل اٹامکس ایئروناٹیکل سسٹم انکارپویٹڈ
انجن: روٹیکس 914 ایف چار سلنڈر
قوت: ایک سو پندرہ ہارس پاؤر
پروں کا پھیلاؤ: اڑتالیس اعشاریہ سات فٹ
لمبائی: ستائس فٹ
اونچائی: چھ اعشاریہ نو فٹ
وزن: ایک ہزار ایک سو تین پاؤنڈ
اڑان کا وزن: دو ہزار دو سو پچاس پاؤنڈ
ایندھن کی گنجائش: چھ سو پینسٹھ پاؤنڈ
رفتار: چوراسی میل فی گھنٹہ سے ایک سو پینتیس میل فی گھنٹہ
مار: چار سو پینتالیس میل
پرواز کی بلندی: پچیس ہزار فٹ
ہتھیار: دو لیزر گائڈڈ میزائل

افغانستان پر فوجی چڑھائی سے قبل امریکی فضائیہ ساٹھ کے قریب پریڈیٹر طیارے حاصل کر چکی تھی اور ان میں بیس مختلف کارروائیوں میں ضائع ہو گئے تھے۔ ضائع ہونے والے زیادہ تر موسمی خرابیوں کی وجہ سے تباہ ہوئے۔

انتہائی کم درجہ حرارت کی وجہ سے پیدا ہونے والی فنی خرابیوں کے باعت بعد میں ان طیاروں کو برف پگھلانے والے آلات اور ٹربو چارج انجنوں سے لیس کر دیا گیا۔


ڈرون کی کم از کم دو پروازوں میں قندہار کے قریب ترناک کے فارمز پر سفید لباس میں ملبوس ایک طویل قامت شخص جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن تھے دیکھا گیا۔



سن دو ہزار ایک میں افغانستان میں پریڈیٹر جہاز کے جاسوسی مشن کے نتائج دیکھنے کے بعد سی آئی کے انسداد دہشت گردی کے مرکز کے سربراہ کوفر بلیک نے اسامہ بن لادن کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون جہازوں پر میزائل نصب کرنے کی ضرورت پر زور دینا شروع کیا۔

بائیس مئی اور سات جون سن دو ہزار ایک میں ڈرون سے میزائل داغنے کے مزید تجربات کیئے گئے اور جون کے پہلے ہفتے میں امریکہ کے نیواڈا صحرا میں افغانستان کے صوبے قندہار کے علاقے ترناک میں اسامہ بن لادن کے گھر کی طرح کا ایک گھر بنایا گیا اور اس پر ڈرون سے میزائل داغا گیا۔ یہ میزائل اس گھر کے کمرے میں پھٹا اور یہ فرض کیا گیا کہ اس کمرے میں موجود بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے۔

تاہم ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ پر ہونے والے حملوں سے پہلے ڈرون کو میزائل داغنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔

سی آئی اے اور پینٹاگن نے سن دو ہزار میں مشترکہ طور پر افغانستان میں اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کا پلان بنایا۔ اس پلان کو
’افغان آئیز‘ کا نام دیا گیا اور ڈرون طیاروں کا ساٹھ دن کی تجرباتی پروازیں شروع کی گئیں۔

اس سلسلے کی پہلی تجرباتی پرواز سات ستمبر دو ہزار کو کی گئی۔ وائٹ ہاؤس کے سیکیورٹی چیف رچرڈ اے کلارک ان تجرباتی پروازوں کے نتائج سے بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں اسامہ بن لادن کو ڈرون سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

رچرڈ کلارک، سی آئی اے کے کاونٹر ٹریورزم کے سینٹر کے چیف کوفر بلیک اور سئی آئی اے کے خفیہ معلومات اکھٹی کرنے والے آپریشن کے انچارج چارلس ایلن امریکی انتظامیہ کے وہ تین اعلی اہلکار تھے جنہوں نے فوری طور پر ڈرون کی تجرباتی پروازوں کی حمایت کی۔

ڈرون کی افغانستان کے اوپر پندرہ میں سے دس پروازوں کو کامیاب قرار دیا گیا۔ ڈرون کی کم از کم دو پروازوں میں قندہار کے قریب ترناک کے فارمز پر سفید لباس میں ملبوس ایک طویل قامت شخص جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن تھے دیکھا گیا۔

اُس سال اکتوبر کے مہینے میں موسم سرد ہو جانے کے ساتھ ازبکستان سے ڈرون کی پروازیں کرنا ممکن نہیں رہا۔

چار ستمبر دو ہزار ایک کو بش انتظامیہ کی طرف سے القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی کی منظوری دینے کے بعد سی آئی اے کے چیف جان ٹینٹ نے ڈرون کی پروازوں کی اجازت دی۔ اسوقت تک ڈرون سے میزائل داغنے کی صلاحیت حاصل کر لی گئی تھی لیکن ازبکستان کی حکومت کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے ڈرون پر میزائل نصب نہیں کیئے گئے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ نے فوری طور پر ڈرون کے لیے ہیل فائر میزائل روانہ کر دیے اور سولہ ستمبر تک یہ ازبکستان میں امریکی اڈوں پر پہنچ گئے تھے۔اٹھارہ ستمبر دو ہزار ایک کو کابل اور قندہار کے اوپر پہلی مرتبہ ڈرون جہازوں نے پروازیں کیں لیکن اس وقت ان پر میزائل نصب نہیں تھے۔

فروری دو ہزار چار کو ڈرون نے ایک قافلے کو نشانہ بنایا جس میں القاعدہ کے ایک رہنما ہلاک ہو گئے۔ خفیہ اہلکاروں کا ابتدائی طور پر خیال تھا کہ یہ اسامہ بن لادن تھے۔
بی بی سی/ اردو

Tuesday, 1 September 2009

ہلکا آپریٹنگ سسٹم ۔ Windows XP

0 comments
حاضر خدمت ہے ۔۔۔۔ ہلکا آپریٹنگ سسٹم ۔ Windows XP - 75MB Edition
بغیرکسی سیریل نمبر
بہت ہی کم وقت میں انسٹال ہونے والا ۔
انسٹالیشن کے دوران صرف 24 ایم بی ریم استعمال کرتا ہے ۔
بعد انسٹالیشن حجم صرف 610 ایم بی ۔
تیزترین بوٹ اپ۔
۔

ڈاؤنلوڈ فائل نمبر1
ڈاؤنلوڈ فائل نمبر 2
ڈاؤنلوڈ فائل نمبر3

پرائیویٹ سراغ رساں ۔۔۔۔ مجرم کو پہچانئے !

0 comments



کیا آپ کے ذہن میں تجسس ہے ؟
کیا آپ باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں ؟
کیا آپ کا مشاہدہ تیز ہے ؟
کیا آپ بکھرے ہوئے اشاروں کو سمیٹ کر منطقی طور پر نتیجہ نکال سکتے ہیں ؟
کیا آپ میں "پرائیویٹ سراغ رَساں" بننے کی صلاحیت ہے ؟


اپنی صلاحیتوں کا امتحان لینے کے لیے درج ذیل کہانی کا بغور مطالعہ کریں ۔
اِس کہانی میں وہ تمام اشارے اور ثبوت موجود ہیں ۔۔۔ جن کی موجودگی میں ایک ماہر سراغ رَساں اصل مجرم کو پہچان سکتا ہے ، اور مجرم کے جرم کے بارے میں بھی دلائل دے سکتا ہے ۔

آپ بھی یہ کہانی پڑھ کر اس میں دئے ہوئے اشاروں اور واقعات کی مدد سے اصل مجرم کا نام سوچئے اور اس کے ساتھ ساتھ مجرم کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے دلائل بھی سوچ کر مختصر reply کیجئے۔
اصل نتیجہ چند دن بعد آپ کے سامنے پیش کر دیا جائے گا ۔

تو ۔۔۔۔ عزیزانِ گرامی ! کہانی کچھ یوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




ڈاکٹر مظفر علی کو زہر دے کر ہلاک کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر مظفر کیمسٹ اور ایک سائنسداں تھا۔اس کی کوٹھی میں اس کی اپنی لیباریٹری تھی، جہاں وہ اپنے نوجوان پارٹنر ڈاکٹر فراز کے ساتھ تجربے کرتا رہتا تھا۔ دونوں مل کر نئی نئی قسم کی دوائیں ایجاد کرتے تھے ، اور پھر یہ دوائیں بڑی مقدار میں تیار کر کے مارکیٹ میں سپلائی کی جاتی تھیں۔
ڈاکٹر مظفر کی جدید طرز کی لیباریٹری کوٹھی کے پچھلے حصے کے تہہ خانے میں بنی ہوئی تھی ، جس کا راستہ کچن کے برابر میں تھا۔ صدر دروازے سے کوٹھی میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے بڑا سا ڈرائنگ روم تھا۔ ڈرائنگ روم کے اندر ہی سے ایک زینہ دوسری منزل پر جاتا تھا۔ دوسری منزل پر ڈاکٹر مظفر کی خواب گاہ تھی، اور خواب گاہ کے سامنے ادویات کا اسٹور روم تھا۔
ڈاکٹر مظفر کی موت کی اطلاع اس کے نوجوان پارٹنر ڈاکٹر فراز نے پولیس کو دی تھی۔ڈاکٹر فراز ہی نے پولیس انسپکٹر حمیدی کو یہ بتایا تھا کہ ڈاکٹر مظفر کو کافی میں سائینائڈ زہر دیا گیا ہے ، کیونکہ کافی کے کپ کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر مظفر کے مونہہ سے اب تک کڑوے باداموں کی سی بو آرہی تھی جو سائینائڈ کی خاص پہچان ہے۔
انسپکٹر حمیدی کے پوچھنے پر ڈاکٹر فراز نے بتایا کہ اس مکان میں کئی قسم کے زہر اسٹور روم اور لیباریٹری میں موجود رہتے ہیں ، جن میں سائینائڈ بھی شامل ہے۔اس لئے قاتل کے لئے زہر حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں تھا۔
انسپکٹر حمیدی نے ڈاکٹر فراز کا بیان لیا ، تہہ خانے میں جا کر لیباریٹری دیکھی ، اسٹور روم دیکھا ، لیکن کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکا۔ اندازہ یہ ہوتا تھا کہ یا تو ڈاکٹر مظفر نے خودکشی کی ہے یا پھر اس کی بیوی نے ڈاکٹر کو زہر دیا ہے۔ ڈاکٹر مظفر کی بیوی رخشندہ اسی دن ڈاکٹر سے ملنے آئی تھی۔

جب انسپکٹر حمیدی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا تو اس نے موبائل پر کال کر کے اپنے دوست کرنل آفریدی کو بلایا اور اس کو سارے حالات بتا کر مدد چاہی۔ کرنل آفریدی پرائیویٹ سراغ رَساں تھا اور حمیدی کی کئی مواقع پر مدد کر چکا تھا۔
کرنل آفریدی نے کوٹھی میں آتے ہی ایک بار سب کمروں میں گھوم کر دیکھا۔
آخر میں اس نے ڈاکٹر فراز سے کہا :
" ڈاکٹر فراز ، ایک بار مجھے اپنے طور پر آج دن بھر کے واقعات بتائیے۔ "
" مجھے کوئی اعتراض نہیں۔" ڈاکٹر فراز نے غم زدہ لہجے میں کہا۔
" ڈاکٹر مظفر میرے دوست ، میرے پارٹنر اور میرے محسن تھے۔اُن کی موت کا مجھے بہت صدمہ ہے۔ اگر یہ قتل ہے تو اُن کے قاتل کو گرفتار کرانا میرا اولین فرض ہے۔
اصل واقعات اس طرح ہیں کہ ۔۔۔۔
دوپہر کو لنچ کے بعد مجھے ایک فرم سے بزنس کے سلسلے میں کچھ معاملات طے کرنے جانا تھااور چار بجے تک واپس آنا تھا۔ ڈاکٹر مظفر نے مجھے بتایا کہ تین بجے اُن کی بیوی رخشندہ ان سے ملنے آ رہی ہے۔ ڈاکٹر مظفر ، رخشندہ سے طلاق لینا چاہتے تھے، کیونکہ تین سال سے ان دونوں میں بنتی نہیں تھی اور وہ الگ الگ رہتے تھے۔وہ مادام رخشندہ کو کچھ رقم دے کر طلاق پر راضی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ اپنی خواب گاہ میں رخشندہ سے گفتگو کریں گے ، کیونکہ اُن کی طبیعت کچھ ناساز تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب میں واپس آؤں تو اوپر نہ آؤں بلکہ لیباریٹری میں بیٹھ کر گھنٹی بجا دوں۔ اگر وہ گھنٹی کا جواب گھنٹی سے دیں تو اس کا مطلب میں یہ سمجھوں کہ مادام رخشندہ جا چکی ہیں اور وہ تنہا ہیں۔ اس صورت میں ، مَیں اوپر آ سکتا ہوں۔ اگر وہ کوئی جواب نہ دیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ ابھی مادام ان کے ساتھ ہیں۔"
کرنل آفریدی نے ڈاکٹر فراز کی بات کاٹ کر پوچھا :
" کیا لیباریٹری میں گھنٹی ہے ؟ "
" جی ہاں ۔ درحقیقت وہ "بزر" ہے۔ ایسا ہی ایک بزر ڈاکٹر مظفر کی خواب گاہ میں ہے۔ جب کبھی ان کو اوپر میری ضرورت ہوتی ہے ، وہ بزر بجا دیتے ہیں۔ اور جب کبھی مجھے لیباریٹری میں ان کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، میں بزر بجا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔ خیر ، تو میں دو بجے چلا گیا۔ چار بجے میں عقبی دروازے سے لیباریٹری میں آ گیااور بزر بجایا۔ لیکن اوپر سے کوئی جواب نہ ملا۔ میں سمجھ گیا کہ ابھی مادام نہیں گئی ہیں، اس لئے میں اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد میں مادام کے جاتے ہی اوپر پہنچا تو ڈاکٹر مظفر بستر پر مردہ پڑے تھے اور اور اُن کے مونہہ سے سائینائڈ کی بو آ رہی تھی۔
چنانچہ میں نے فوراً پولیس کو فون کر دیا۔ میرا خیال ہے کہ مادام رخشندہ نے ان کو کافی کے کپ میں سائینائڈ دیا ہے ، کیونکہ مادام طلاق لینے کو اپنی بے عزتی سمجھتی تھیں۔ دوسرے ڈاکٹر مظفر نے دس کروڑ کا بیمہ کرا رکھا تھا جو مادام ہی کے نام تھا۔ ڈاکٹر مظفر کے مرنے کے بعد بیمہ کی وہ رقم مادام رخشندہ کو ملنی تھی ۔۔۔
بس جناب ۔۔۔ یہ ہیں وہ کل واقعات ۔ آگے آپ فیصلہ کر سکتے ہیں۔ "
ڈاکٹر فراز نے اپنا بیان ختم کیا۔

کرنل آفریدی نے جیب سے اپنا مخصوص سگار نکال کر سلگایا اور اپنی بڑی بڑی نیم غنودہ آنکھیں خلاء میں گاڑ دیں، چند لمحے وہ اسی طرح اپنی سوچ میں مشغول رہا پھر وہ انسپکٹر حمیدی کو ایک طرف لے گیا۔
ایک گھنٹہ بعد ہی وہ پولیس اسٹیشن واپس پہنچ چکے تھے، کیونکہ قاتل کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

دوستو ۔۔۔ ! یہاں آپ کو درج ذیل دو سوالات کے مختصر جواب دینا ہیں ۔
1) ڈاکٹر مظفر کے قتل کے جرم میں کس کو گرفتار کیا گیا ؟
2) مختصر دلائل سے قاتل کے جرم کو ثابت کریں۔

ایک رات ۔ مزاحیہ تحریر

0 comments

ابن صفی


دیکھو دیکھو ۔۔۔۔ وہ رہا ۔۔۔۔ جانے نہ پائے ۔۔۔۔ ابے مار “ ۔
رائفل سے شعلہ نکلا ۔۔۔۔ فائر کی آواز آئی اور وہ چار دیواری پھلانگ کر نکل بھاگا۔
“لاحول ولاقوہ ۔۔۔۔ پھر نکل گیا ۔۔۔۔ اب تو اندھا ہے اندھا“ خان بہادر گرجے۔
نصیرا بھنا کر رہ گیا ۔۔۔۔ تیس خاں بنتے ہیں تو خود ہی کیوں نہیں ماردیتے مجھے کیوں رائفل تھما دیتے ہیں۔
“ مگر سرکار وہ سامنے کب تھا“۔
“ ہاں ہاں سامنے بھی آئے گا جیسے رائفل نہیں پٹاخہ ہے۔ الو کے پٹھے مت بکو؟ سرکار نے جھنجلا کر کہا اور الو کے پٹھے نے سر جھکا لیا۔
“ میں کہےدیتا ہوں آج اس سالے کو ختم ہوجانا چاہیے ورنہ تمہاری خیر نہیں“۔خان بہادر نے پورٹیکو کی طرف مڑتے ہوئے کہا۔
نصرا کا دل چاہا کہ برآمدے میں بیٹھی ہوئی رنگ کی اسپنئیل کتیا ہی کو ختم کردے جس کی وجہ سے وہ ایک ہفتہ سے گالیاں ہی سنتا چلا آرہا تھا۔۔۔۔اس کی کئی راتیں اس کی وجہ سے خراب ہوچکی تھیں۔
۔۔۔۔ اور آج رات بھی چین سے سونا اسے دشوار ہی نظر آریا تھا۔ نصیرا پام کے بڑے گملے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ خان بہادر صاحب برآمدے میں کتیا کی پیٹھ سہلارہے تھے ۔۔۔۔ نومبر کی رات تھی۔ دو دن پہلے بارش ہوچکی تھی۔ نصیرا کو ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے اس کے کان بے جان ہوگئے ہوں ۔۔۔۔ خان بہادر کے حکم سے اس نے آج پھٹا ہوا مفلر بھی اپنے کانوں پر نہ لپیٹا تھا۔ تاکہ آہٹ صاف سنائی دے ۔۔۔۔سردی سے بچنے کے لئے اس نے ایک بیڑی سلگائی اور لمبے لمبے کش لینے لگا۔
“ ابے او گدھے کے بچے “ خان بہادرصاحب نے برآمدے سے للکار کر کہا “ اب تو ضرور آئے گا۔۔۔۔ بیڑی بجھادے ۔۔۔۔ اور ہاں ہٹ کر مالتی کی جھاڑیوں کے پیچھے دبک جا۔
نصیرا نے دل ہی دل میں گالیاں دیتے ہوئے جلتی ہوئی بیڑی بجھا زمین میں رگڑ دی اور مالتی کی جھاڑیوں کے پیچھے چلا گیا ۔۔۔ یہاں ٹیک لگانے کی جگہ بھی نہیں تھی ۔۔۔۔ اور پھر سردی۔ سر سبز جھاڑیوں کی خنک سیلی ہوئی زمین کی ٹھنڈک ۔۔۔۔ سر پر کھلا آسمان ۔۔۔۔ وہ رائفل کو گود میں رکھ کر اکڑوں بیٹھ گیا ۔۔۔۔ رائفل کی ٹھنڈی ٹھنڈی نال اس کی رانوں سے چپک گئی۔ اس نے اپنے برسوں پرانے گرم کوٹ کا کالر کانوں کے برابر اٹھا کر دونوں ہاتھوں سے دبالیا۔
خان بہادر صاحبا نے کسی سے کہا “ ذرا میرا کمبل تو دے جانا ۔۔۔۔ اور وہ تکئے کے نیچے کتاب ہوبھی اسے بھی لیتے آنا“۔
ہاں سالےتم تو قبر ہی میں چین سے سوؤگے ۔۔۔۔ نصیرا سوچنے لگا ۔۔۔۔ اسے نیند نہ جانے کیوں نہیں آتی ۔۔۔۔ ڈاکٹر پر ڈاکٹر آتے ہیں، کوئی اللہ کا بندہ زہر نہیں پلاتا ۔۔۔۔ سو جائے چین سے ۔۔۔۔ بڑے آدمیوں کی بڑی باتیں ہوئی ہیں۔۔۔۔ بیمار ہیں ۔۔۔۔ کیا بیمار ہیں؟ ۔۔۔۔ نیند نہیں آتی ۔۔۔۔ یہاں کھانستے کھانستے مرجاؤ ۔۔۔۔ بخار میں جلتے جلتے کباب ہوجاؤ مگر کوئی نہیں کہے گا کہ بیمار ہو۔۔۔۔ کچھ نہیں زکامی حرارت ہے۔۔۔۔ کھٹائی مٹھائی ہوگئی اسی لئے کھانسی آرہی ہے۔۔۔۔ کوئی خاص بات نہیں ۔ ہات تمہاری کھٹائی مٹھائی کی ۔۔۔۔ سالا سر پر سوار ہے۔۔۔۔ بیڑی بھی بجوادی ۔۔۔۔ افوہ کتنی سردی ہے ۔۔۔۔ اور سکڑ گیا ۔۔۔۔

سڑک پر کتوں کے دوڑنے کی آواز آئی۔اور اس نے را ئفل سنبھالی ۔ برآدمے میں بیٹھی ہوئی کتیا “ چوں چوں“ کرنے لگی۔خان بہادر صاحب کی آواز آئی “ لوسی لوسی“
کتیا اور زور سے “چوں چوں کرنے لگی ۔
نصیرا کے ہونٹوں پر گالی آتے آتے رہ گئی ۔ وہ سوچنے لگا، ہاں دلاسہ دیتے جاؤ اپنی نانی کو۔ اگر آج بھی اس سالے پر ہاتھ نہ لگا تو کل ہی زہر پلاادوں گا تمہاری چہیتی کو چاہے پھر جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ وہ تو بابا کی وصیت یاد آجاتی ہے ورنہ کبھی کا اس نوکری پر لات مار کر چل دیتا۔ کام بن جائے تو انعام نہیں ، بگڑجائےتوگالیاں کھاؤ ۔
“ ابے سورہا ہے کیا؟“۔ خان صاحب کی گرجدار آواز سنائی دی۔
“ نہیں تو“ نصیرا سنبھل کر بولا۔
“ نہیں تو کے بچے۔ذرا ہوشیاری سے“۔
اس کا دل چاہا کہ کھڑے ہو کر خان بہادر کو رائفل کھینچ مارے۔ اسے اپنے آباؤاجداد پر غصہ آگیا جو خان بہادر کے آباؤاجداد کے ٹکڑوں پر پل کر دائمی غلامی کی بنیاد ڈال گئے تھے۔ اسے اپنے باپ کے الفاظ یاد آگئے جو اس نے مرتے وقت کہے تھے۔ “ بیٹا اس گھر کے ہمیشہ وفادار رہنا یہیں ہمارے باپ دادا کی ہڈیاں پلی ہیں۔ کبھی خود کو تخواہ دار نوکر نہ سمجھنا۔ تم اس گھرکے پالک ہو۔ ہم اس گھر کے پالک ہیں۔ کلوا بھی تو ڈپٹی صاحب کے گھر کا پالک ہے۔ چھایا ہوا ہے سارے گھر پر کیا مجال کوئی چوں تو کرے۔ نوابوں کی طرح گھر سے نکلتا ہے ایک ہم ہیں ۔ نہ پیٹ بھر کھانا نہ بدن پر کپڑا۔ سردی میں بیٹھے سکڑ رہے ہیں۔ اس پر گالیوں کی بوچھار ۔ مرنے والے اور یہاں وبال چھوڑ گئے۔ پات تیری وصیت کی۔ کہیں اور جا کر کمائیں گئے۔ تھوڑا بہت لکھ پڑھ لیتے ہیں کسی چکی گھر میں منشی گیری ہی کرلیں گے۔۔۔لوگ منشی جی تو کہیں گے۔ یہاں توبس او نصیرا۔ ابے او نصیر!
ابے بیڑی پینے لگا کیا؟ خان بہادر صاحب چلائے۔
“نہیں تو“ اس نے کھنکار کر کہا۔
“ پھر وہی نہیں تو“ خان بہادر صاحب جھلا کر بولے۔“ ابے تجھے بات کرنا کب آئے گا“۔
“جب تم جہنم رسید ہوجاؤگے۔ نصیرا نے دل میں کہا اور دانت پیسنے لگا۔ ناک میں دم کررکھا ہے۔ سردی کے مارے جان نکلی جاری ہے۔ اور ا س پر پھٹکار۔ نہ جانے کب تک یوں ہی بیٹھا رہنا پڑے ۔ بیڑی بھی نہیں پینے دیتا۔۔۔ کیا کیا جائے۔ دفعتاً ایک خیال اس کے ذہین میں چمکا اٹھا۔
“ سرکار برآمدے میں جو بتی جل رہی ہےکہیں اس نے بھڑک نہ جائے اور ایک فائر ہوچکا ہے“۔ نصیرا نے جھاڑیوں سے سر ابھار کر کہا۔
“ اچھا! اب مجھے منطق پڑھانےچلے ہیں“۔ خان بہادر نے گرج کر کہا۔“ لو بتی بجھائےدیتا ہوں مگر میں یہاں سے ہٹ نہیں سکتا۔ کام چور کہیں کا۔
“ارے تم یہیں دفن ہوجاؤ۔ شیطان کے بچے“۔ اس نے دل میں کہا اور جھنجلاہٹ سے اپنے بال نوچنے لگا۔ برآمدے میں اندھیرا ہوگیا اور کتیا پھر “ چوں چوں پیاؤں پیاؤں “ کرنے لگی۔
“ لوسی لوسی “ خان بہادر صاحب نے چمکارا۔

بوڑھا ہوگیا مگر عقل نہیں آئی۔۔۔وہ سوچنے لگا ۔۔۔ارے چلائے گی نہیں تو وہ سالا آئے گا کیسے ۔۔۔ ابھی کہہ دوں تو الف ہوجائے گا۔۔۔
واقعی یہ کتیا اس کے لئے مستقل عذاب ہوکر رہ گئی تھی۔۔۔ اس کا بس چلتا تو پہلے اسی کو گولی ماردیتا۔۔۔ خان بہادر صاحب نے اسپنئیل کا پورا جوڑا خریدا تھا۔ کچھ د نوں بعد کتا ایک حادثے کا شکار ہو کر چل بسا اور کتیا اکیلی رہ گئی ۔۔۔۔خان بہادر چاہتے تھے کہ کہیں سے کوئی نجیب الطرفین قسم کا اسپنئیل مل جائے تو خرید لیں ورنہ قرب و جوار کے دیسی آوارہ کتوں کی بن آئے گئی۔۔۔ لیکن انہیں کوئی نجیب الطرفین نہ مل سکا اور کاتک شروع ہوگیا۔۔۔ ہوا وہی جس کا ڈر تھا ۔۔۔ کئی کتے ان کے پائیں باغ کی چہار دیواری کے گرد منڈلانے لگے۔۔۔ ان میں سے ایک جو مشاق عاشق معلوم ہوتا تھا اسپنئیل کا دل جیتنے میں کامیاب ہوگا۔۔۔شروع شروع میں اس نے سڑک پر کھڑے ہو کر فلمی گانے گائے۔۔۔اس کے بعد آنکھوں آنکھوں میں پیام و سلام ہوئے اور پھر کتیا برامدے سے اٹھ کر پھاٹک تک آنے لگی ۔۔۔ یہ دیکھ کر خان بہادر کو بہت تشویش ہوئی اور انہوں نے حکم دیا کہ کسی بھی پھاٹک کو کھلا نہ رکھا جائے۔۔۔مگر وہ تھا لوہے کی سلاخوں کا پھاٹک۔۔۔اور سلاخیں اتنے فاصلے پر جڑی تھیں کہ دونوں اس میں سے منہ نکال کر ایک دوسرے کو بہ آسانی سونگھ سکتے تھے۔۔۔ خان صاحب اچھی طرح جانتے تھے کہ سونگھے سے محبت بڑھ جاتی ہے۔۔۔ انہوں نے کتیا کو باندھ کر رکھنا شروع کیا مگر کتیا نے چیخ چیخ کر پوری کوٹھی اٹھا لی۔ مجبوراً پھر کھول دینا پڑی اور پھر دونوں کا معاشقہ شروع ہوگیا۔۔۔ خان بہادرصاحب اس کو دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھتے ۔۔۔۔ انہیں اپنی کتیا سے ایسی امید نہیں تھی۔۔۔مگر کتیا کا اس میں کیا قصور ۔۔۔ وہ تو کمبخت کتے کو حفظ و معراتب کا خیال رکھنا چاہیے تھے۔۔۔ کہاں اسپنئیل اور کہاں دیسی دم کٹا کتا۔۔۔نہ دم ہلانے کی تمیز اور نہ بھونکنے کا سیلقہ۔۔۔ بے ہنگم
۔۔۔ جغاوری ۔۔۔ بدتمیز۔۔۔بدسلیقہ ۔ بھونکتا تو ایسی جھنکار پیدا ہوتی جیسے پھیپڑوں میں منوں بلغم اکٹھا ہو۔ جب کٹی ہوئی دم ہلاتا تو ایسا معلوم جیسے کوئی کسی کو ٹھینگا دکھا رہا ہو۔
کچھ دنوں تک دور ہی دور سے رومان بازی ہوتے رہی ۔ آخر ایک دن کتے کو جوش آ ہی گیا۔۔۔۔ ممکن ہے کہ اسپنئیل کتیا نے غیرت دلائی ہو۔۔۔ رات کا وقت تھا خان بہادر صاحب برآمدے میں کھڑے کسی مہمان کو رخصت کررہے تھے۔۔۔انہوں نے کتے کو چھ فٹ اونچی دیوار ہھلانگ کر اندر آتے دیکھا۔۔۔ گھبراہٹ میں دوڑ پڑے ۔۔۔ ٹھوکر کھائی اور سیٹرھیوں سے لڑھک کر پورٹیکو میں آرہے ۔۔۔ کتے نے چھلانگ لگائی اور نکل بھاگا۔
لوگوں نے لپک کر خان بہادرصاحب کو اٹھایا ۔۔۔ذیادہ چوٹ نہیں آئی تھی۔ صرف معمولی خراشیں تھیں۔ اگر چوٹ بھی آئی تو انہیں پرواہ نہ ہوتی۔۔۔ کیونکہ معاملہ براہ راست اسپنئیل کتیا کا تھا۔۔۔ اگر خدا نخواستہ کتیا “ خراب“ ہوجاتی تو کیا ہوتا۔۔۔۔وہ تو خدا کو کچھ اچھا ہی منظور تھا جبھی تو ان کی نظر پڑگئی ورنہ انہیں کیا معلوم ہوتا کہ پائیں باغ میں کا ہوتا ہے۔ انہوں نے فوراً طے کرلیا کہ احتیاطی تدابیر شروع کردی جائیں۔۔۔ نصیرا کو رائفل دی گئ اور سمجھادیا گیا کہ جیسے ہی کتا کمپاونڈ میں داخل ہو گولی مار دی جائے۔ کتا بھی کائیاں تھا کمپاونڈ میں تو آتا تھا مگر رائفل کی زد پر نہ آتا تھا ۔ دو ایک فائر ہوجانے پر وہ چوکنا رہنے لگا تھا۔ مگر تھا بڑا بے جگر ۔۔۔۔کوئی اور کتا ہوتا تو ایک ہی بار رائفل کی آواز سن کر ادھر کا رخ نہ کرتا۔ مگر وارے کتے عاشق ہو تو ایسا ہو۔۔۔ کیا مجال کہ کسی رات کو ناغہ ہوجائے ۔۔۔۔ اور پھرایک بار نہیں چار چار چھ چھ بار ۔ ابھی فائر ہوا نکل بھاگا۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد پھر موجود۔۔۔نہ ہوا خان بہادرصاحب کے گھر میں کوئی اہل دل۔۔۔ ورنہ اس کتے سی سبق لیتا ۔۔۔۔ ایک ہم انسان ہیں کہ جوتوں کے ڈر سے “طواف کوچہ جاناں“ سے توبہ کرلیتے ہیں۔۔۔۔ ایک وہ کتا تھا کہ گولیوں سے بھی خوف نہیں کھاتا تھا۔ اسی لئے تو گورے لوگ کتوں کو اس قدر عزیز رکھتے ہیں اور کالے آدمیوں سے نفرت کرتے ہیں۔۔۔۔ کالے آدمی جو ایک اسپنئیل کتیا کے لئے ایک دیسی کتے کا خون نہیں کرسکتے ۔۔۔۔ کالے آدمی جنہیں سردی لگتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔کالے آدمی جنہیں ایک مہذب کتیا کے لئے اپنی راتوں کا خراب ہوجانا کھل جاتا ہے۔۔۔۔ خان بہادرصاحب کالے نہ تھے ۔۔۔۔ کالا آدمی قطعی بہادر نہیں ہوتا ۔۔۔۔ چاہے خان ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔خان بہادرصاحب کالے نہیں تھے انہیں اسپنئیل کتیا عزیز تھی اور دیسی کتے سے نفرت کرتے تھے۔ دیسی کتے ! جنہیں نہ بھونکنے کا سلیقہ نہ دم ہلانے کی تمیز ۔۔۔ اور یہ دیسی کتا تو ان کی اچھی نسل کی کتیا کو “خراب“ کردینے پر تلا ہوا تھا۔


بالکل ناقابل برداشت۔۔۔۔ خان بہادر صاحب اپنے غم وغصہ کے اظہار کے سلسلے میں قطعی حق بجانب تھے۔۔۔۔۔۔یہ اور بات ہے کہ خود کتیا کے دل میں باغیانہ خیالات جنم لے رہے ہوں ۔۔۔۔ وہ اس “ سماجی“ بندش پردل ہی دل میں جھلارہی ہو۔۔۔۔خان بہادر صاحب کی جاگیردارانہ ذہنیت پر تاؤ کھارہی ہو۔ حالانکہ اسے تاؤ کے بجائے پلاؤ کھانا چاہیے۔۔۔۔ کیونکہ پلاؤ زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔۔۔۔ اگر آدمی کو پلاؤ نہ میسر ہو تو کتیا پالنے کا خیال ہی نہ پیدا ہوسکے۔
نصیرا اونگھتا رہا۔۔۔۔ اور اونگھنے کے علاوہ چارہ ہی کیا تھا۔ ۔۔۔۔وہ اتنی “اونچی“ باتیں بھی تو نہیں سوچ سکتا تھا کہ سوچ سوچ کر بدن میں کچھ گرمی آتی۔“اونچی“ باتیں سوچ سکتا تو سردی میں کتا مارنے کی بجائے میری طرح لحاف میں گھس کر افسانہ لکھتا اور فرائیڈ کو مغربی افسانہ نگار سمجھ کر گالیاں دیتا۔ محض اس لئے کہ بہت سے لکھنے والے اسے یہی سمجھ کر گالیاں دیتے ہیں۔
تو نصیرا اونگھتا رہا۔
دفعتاً خان بہادر صاحب کو کھانسی آئی۔ غالباً وہ بھی اونگھ رہے تھے۔ کیونکی کھانسی کے بعد ہی انہوں نے نصیرا کو للکارا“ ابے سورہا ہے کیا؟“
“ نہیں تو“ نصیرا چونک کر رندھی آواز میں بولا۔
“آج مار ہی لے اسے ۔۔۔۔ ورنہ تیری شامت آجائےگی“۔
‘نصیرا خاموش رہا ۔۔۔۔ جواب ہی کیا دیتا۔۔۔۔دراصل اس کی یہی ادا خان صاحب کو بے حد ناگوار تھی۔۔۔۔ وہ جواب چاہتے تھے اپنی باتوں کا۔۔۔۔ انہیں نصیرا کا یہ رویہ بالکل ایسا معلوم ہوتا جیسے خاموشی کی زبان میں کہہ رہا ہو “جواب جاہلاں باشد خاموشی“۔۔۔۔ حالانکہ خان بہادر صاحب جاہل نہیں تھے۔ انہوں نے آکسفورڈ سے بی اے کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اور کچھ عرصہ تک جرمنی میں بھی رہ چکےتھے۔۔۔۔ انہوں نے مغربی ممالک کے بھی نوکر دیکھے تھے۔۔۔۔ نہایت چاق و چوبند۔۔۔۔ زندہ دل اور حاضر جواب ۔۔۔۔تیز جواب۔۔۔۔ ایک وافعہ پیرس کے ایک ہوٹل میں ناشتہ کررہے تھے۔۔۔۔ ویٹر سے کسی مشہور ہوٹل کے متعلق پوچھ بیٹھے۔۔۔۔ مسکرا کر بولا “ معاف کیجئےگا! آپ کا سوال انتہائی احمقانہ ہے“ ۔۔۔۔ خان بہادر صاحب کو فوراً خیال آگیا کہ انہیں یہ چیز پسند تھی۔ جہاں تک ان کا اور ان کے گھرانے کا تعلق تھا وہ سب قریب قریب مغربی تھے۔۔۔۔ مگر افسوس انہیں مغربی طرز کے نوکر نہ مل سکے۔ ہندوستان میں مغربی نوکر کا خیال احمقانہ نہیں بلکہ قطعی غیر مغربی تھا کیونکہ یہاں مغربی قسم کی چیز صرف کلکٹر یا کمشنری ہوسکتی ہے۔ لہذا وہ مغربی نہیں مغربی طرز کا نوکر چاہتے تھے۔ لیکن یہ چیز ناممکن تھی کیونکہ مغربی طرز کے لوگ “ نوکری“ کی بجائے کلرکی کے قائل ہیں۔ بہرحال ان کی یہ تمنا کبھی پوری ہوسکی۔۔۔۔غالباً وہ نصیرا سے بھی مغربی طرز کی بے تکلفی چاہتے تھے۔۔۔۔ اور نصیرا کو ڈر تھا کہ کہیں واقعی وہ کسی دن بے تکلفی پر آمادہ نہ ہوجائے ۔۔۔۔ اس وقت کی سردی اور خان بہادر صاحب کی نکتہ چینیوں نے اسے بہت برہم کردیا تھا ۔۔۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ اس رائفل سے اپنا ہی قصہ پاک کرڈالے۔
خان بہادر صاحب کھانستے کھانستے اچانک رک گئے غالباً انہوں نے سفید کتے کو چہار دیواری پھلانگ کر آتے دیکھ لیا تھا۔۔۔۔نصیرا نے آہستہ سے رائفل سیدھی کی ۔۔۔۔نشانہ لیا ۔۔۔۔ اور فائر کی آواز کے ساتھ ہی کتے کی ہیبت ناک چیخ سنائی دی۔
“کیا ہوا؟“ خان بہادر چیخے۔۔۔
“ مار لیا“ نصیرا کی آواز میں بے شمار مسرتوں کی کپکپاہٹ تھی۔۔۔۔
خان بہادر صاحب نے برآمدے کی بجلی جلائی اور کمپاؤنڈ کی طرف لپکے۔۔۔۔ تڑپتے ہوئے کتے نے آخری جست لگائی اور منہ پھیلا کر دم توڑ دیا۔
“سالے نہیں تو“ خان بہادر صاحب نے کہا اور ٹارچ کی روشنی میں جھک کر گولی کا نشان دیکھنے لگا۔۔۔۔

کسی نے پھاٹک ہلایا۔۔۔۔
“ بی بی جی ہوں گی۔۔۔۔شاید سینما دیکھنے گئی تھیں“ نصیرا نے رائفل کی نالی سے کارتوس نکالتے ہوئے جواب دیا۔
“ ابے تو جاکر کھولا کیوں نہیں“۔ خان صاحب گرجے۔
پھاٹک کھلا۔۔۔۔خان بہادر صاحب کی صاحب زادی کسی مرد کے ساتھ کمپاؤنڈ میں داخل ہوئیں۔
“ دیکھا شمی ۔۔۔۔ آج مار ہی لیا اسے“۔ خان بہادر یہ کہتے ہوئے ادھر لپکے۔
“ اوہ ڈیڈی ! یہ ہیں مسٹر رشید ، مس فریدہ کے بھائی میرے کلاس فیلو“ شمی نے اجنبی کی طرف دیکھ کر کہا۔
نصیرا نے رائفل سیدھی کرلی۔۔۔۔اسے ایسا معلوم ہوا جیسے خان بہادر صاحب کہیں گے۔
“ابے مار“ ۔۔۔۔ مگر خان بہادر صاحب نے قدرے جھک کر ہاتھ ملاتے وقت صرف دانت نکال دیئے