Saturday, 27 August 2011

لیلۃ القدر

0 comments

ماہ رمضان رحمتوں اور برکتوں کا سر چشمہ ہے، کثرت عبادت،پابندی صلاۃوصیام،اہتمام قعود وقیام،درود شریف اور اذکار میں انہماک،خیرات وصدقات کی ادائیگی ،اوامربجالانا،نواہی سے اجتناب کرنا،غرضکہ اس مبارک ماہ میں مسلمان صفات ملکوتی کی چادر اوڑھ لیتے ، مجسمۂ خیر بن جاتے ہیں اورطاعت وفرمابرداری انکا شعار ہو جاتا ہے۔

          یقینا یہ ماہ رمضان کا فیضان ہے کہ وہ گنہگار،معصیت شعار انسانوں کوتقوی و طہارت اورعبادت وریاضت کا جامہ پہنا کر انہیں ہم دوش ثریا کردیتا ہے۔    
      امت مسلمہ کو ماہ رمضان نے گناہوں کی بخشش کا سامان فراہم کیا،ساتھ ہی ساتھ نیکیوں کی قدر و قیمت بڑھادی گئی اور اسی کی برکت سے شرح ثواب میں اضافہ کردیا گیا ،  اس ماہ مبارک  میں ایک ایسی مقدس رات بندوںکوعطاکی جاتی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل و بہتر ہے، جسکا نام لیلۃ القدر ہے ۔  شب قدر، شرف و برکت والی رات ہے ،یہ نزول قرآن کریم کی وہ مقدس شب ہے جس میں فرشتوں کا ورود ہوتاہے اور اس شب میں عبادت و طاعت میں مصروف رہنے والے بندگان حق کو ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ثواب عطا ہوتا ہے ارشاد باری تعالی ہے:
لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہْرٍ –
ترجمہ:شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے-( سورۃ القدر:3)

شب قدر کی وجہ تسمیہ:
اس رات کو تین وجوہ کی بناء قدر والی رات کہا جاتاہے۔
 پہلی وجہ:قدر کا معنی ہے عظمت و وقار،یہ لفظ عظمت کے معنی میں اس آیت کریمہ میں مستعمل ہے:وماقدرواللہ حق قدرہ-
ترجمہ:انہوں نے اللہ کی قدر دانی اس کی عظمت کے مطابق نہ کی  (الانعام91) صاحب تفسیر خازن علامہ ابوالحسن علی بن محمد خازن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سمیت لیلۃ القدر لعظم قدرھا و شرفھا علی اللیالی۔
ترجمہ:اس شب کو دیگر راتوں پراس کے تقدس وبزرگی او ر عزوشرف کیوجہ لیلۃ القدرسے موسوم کیا گیا ۔ یہ رات عزوشان،اوروقاروعظمت والی رات ہے ،اسی لئے اسکا نام لیلۃ القدر رکھا گیا۔
 دوسری وجہ :لفظ قدر تقسیم کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو انکے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے نعمتیں تقسیم فرماتاہے، چنانچہ اسے لیلۃالقدر یعنی تقسیم رزق ونعمت والی رات سے موسوم کیا گیا۔
     شب قدر کی توقیر کرنا اور عظمت بجالانااہل ایمان پر لازم ہے،ایک تو اسطرح کہ اس رات کا تقدس و عظمت قلب میں بسائے رکھیں،دوسرے اس طور پر کہ عبادات،اذکاروغیرہ اداکرتے رہیں، اور ممنوعات و محظورات سے پر ہیز کریں،شب قدر کا تقدس برقرار رکھنے والے بندے یقینا رب قدیرکی ظاہری وباطنی نعمتوں کے حقدار بنینگے،وسمیت بذلک لان العمل الصالح یکون فیھا ذا قدر عند اللہ لکونہ مقبولا(تفسیر خازن،القدر1)
ترجمہ:اوراس شب بندہ کا نیک عمل بارگاہ الہیٰ میں مقبولیت کے سبب بڑی قدر والا ہوجاتاہے ۔ تیسری وجہ :قدر تنگی کو کہتے ہیں،اس رات فرشتے بڑی تعداد میں زمین پر آتے ہیں ،جسکی وجہ سے زمیں تنگ ہو جا تی ہے ،چنانچہ صاحب تفسیر خازن لکھتے ہیں: سمیت بذلک لان الارض تضیق بالملائکۃ فیھا-ترجمہ:لفظ قدر تنگی کے معنی میں کلام الہی میں مستعمل ہے :ومن قدر علیہ رزقہ فلینفق مما اتاہ اللہ (الطلاق 7)
ترجمہ:اورجس پر اس کا رزق تنگ کردیا گیا وہ اسی میں سے خرچ کرے جو اسے اللہ نے عطاکیاہے۔

 شب قدر کی خصوصیات
     اس رات کی متعدد خاصیتیں ہیں ،مگر قرآن شریف میں پانچ خاصیتیں مذکورہیں(1)اس رات میں نزول قرآن ہوا(2)یہ رات ہزار مہینوںسے افضل ہے(3)اس رات میں فرشتے زمین پر آتے ہیں(4)حضرت جبریل کی آمد ہوتی ہے(6)صبح صادق تک بندوں پر سلامتی کا نزول ہوتا ہے۔ شب قدر کی اہمیت اور فضیلت و برکت اس امر سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکمل ایک سورہ اسکی شان میں نازل فرمایا-

شب قدر کا تعین
اللہ تعالی نے اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اولین وآخرین کے تمام علوم عطا فرمائے ہیں، منجملہ ان کے آپ کو شب قدر کی تاریخ  کا بھی علم عطا فرمادیا ،چنانچہ زجاجۃ المصابیح میں امام مالک اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما کے حوالہ سے روایت درج ہے:
عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم انی رایت ہذہ اللیلۃ فی رمضان فتلاحی رجلان فرفعت، رواہ مالک والشافعی و ابو عوانۃ۔
  ترجمہ:ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اس رات کو (یعنی شب قدر کو) رمضان میں دیکھا لیکن جب دو آدمیوں نے آپس میں جھگڑا کیا  تو شب قدر کا تعین اٹھالیا گیا۔

اخیر عشرہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اہتما م
صحیح مسلم شریف میں حدیث مبارک ہے:عن عائشۃ رضی اللہ عنہا  قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَجْتَہِدُ فِی الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مَا لاَ یَجْتَہِدُ فِی غَیْرِہِ.
ترجمہ:ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ  حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم (رمضان کے) آخری عشرے میں عبادت کرنے میں جس قدر جدوجہد فرماتے اتنی جدوجہد دوسرے دنوں میں نہیں فرماتے-(صحیح مسلم شریف،کتاب الاعتکاف ، باب الاجتہاد فی العشر الأواخر من شہر رمضان. حدیث نمبر(2845)
صحیح بخاری و مسلم میں حدیث مبارک ہے:عَنْ عَائِشَۃَ - رضی اللہ عنہا - قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ - صلی اللہ علیہ وسلم - إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَہُ ، وَأَحْیَا لَیْلَہُ ، وَأَیْقَظَ أَہْلَہُ .
ترجمہ:ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ  رمضان المبارک کا جب آخری عشرہ شروع ہوجاتا ہے تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کمربستہ ہوکر ہمیشہ سے زائد عبادت میں مشغول ہوجاتے ہیں اور شب بیدار رہتے (اور نوافل ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن فرماتے رہتے) اور اپنے گھر والوں کو (بھی ان راتوں میں) جگا دیتے (تاکہ وہ بھی شب بیدار رہ کر آخری عشرہ کی برکتیں حاصل کریں)۔(صحیح بخاری،باب الْعَمَلِ فِی الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ . حدیث نمبر 2024-صحیح مسلم، باب الاجتہاد فی العشر الأواخر من شہر رمضان. حدیث نمبر 2844)

 شب قدر کی فضیلت:
سنن ابن ماجہ میں حدیث پاک ہے:
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ دَخَلَ رَمَضَانُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -صلی اللہ علیہ وسلم-  إِنَّ ہَذَا الشَّہْرَ قَدْ حَضَرَکُمْ وَفِیہِ لَیْلَۃٌ خَیْرٌ مِنْ أَلْفِ شَہْرٍ مَنْ حُرِمَہَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَیْرَ کُلَّہُ وَلاَ یُحْرَمُ خَیْرَہَا إِلاَّ مَحْرُومٌ-
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ نے  فرمایا  کہ رمضان کا مہینہ شروع ہواتو حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس سے محروم رہا وہ ہر چیز سے محروم رہا اور اس کی خیر سے وہی محروم ہوگا جومکمل محروم ہے۔(سنن ابن ماجہ،کتاب الصیام باب ماجاء فی فضل شھر رمضان ،حدیث نمبر(1634)
بیہقی شعب الایمان،مشکوۃ المصابیح اور زجاجۃ المصابیح میں حدیث مبارک ہے:
عن سلمان الفارسی ، قال : خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی آخر یوم من شعبان فقال :  یا أیہا الناس قد أظلکم شہر عظیم ، شہر مبارک ، شہر فیہ لیلۃ خیر من ألف شہر-
ترجمہ:حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخر دن وعظ میں ارشاد فرمایا: ائے لوگو! تم پر ایک عظمت والا بابرکت مہینہ سایہ فگن ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے-(بیہقی شعب الایمان،کتاب فضائل شھر رمضان ، حدیث نمب( 3455)

شب قدر میں ملائکہ کا نزول
 بیہقی شعب الایمان،مشکوۃ المصابیح اور زجاجۃ المصابیح میں حدیث مبارک ہے:
عن أنس بن مالک ، قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : إذا کان لیلۃ القدر نزل جبریل علیہ السلام فی کبکبۃ  من الملائکۃ یصلون علی کل عبد قائم أو قاعد یذکر اللہ عز وجل-
ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب شب قدر ہوتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کی ایک جماعت کو لے کر (زمین پر) اترتے ہیں اور ہر اس بندہ پر جو کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر اللہ کی یاد (اور عبادت) میں مشغول رہتا ہو دعائے مغفرت کرتے ہیں-(بیہقی شعب الایمان،کتاب فی لیلۃ العیدین ویومہما، حدیث نمبر : (3562)
     حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شب قدر آتی ہے تو اللہ تعالی جبریل امین کو حکم فرماتا ہے ،تو وہ  فرشتوں کی ایک عظیم  جماعت کے ہمراہ زمین پر اترتے ہیں،ان کے ساتھ سبز جھنڈا ہوتا ہے جسے خانہ کعبہ پر نصب کیا جاتا ہے-
اور جبریل امین (علیہ السلام ) کو سو( 100) پر ہیں ،جن میں دو پر  ایسے ہیں جنہیں وہ شب قدر علاوہ کبھی نہیں کھولتے،جب (حضرت )جبریل اس رات  اپنے پروں کوکھولتے ہیں تو مشرق و مغرب ڈھنک جاتے ہیں-پھر (حضرت) جبریل  ،ملائکہ کو  ہر طرف پھیل جانے کو کہتے ہیں، کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر عبادت کرنے والے، نماز پڑھنے والے اور ذکر الہی میں مشغول رہنے والوں کو وہ فرشتے  ،  سلام کرتے ہیں اور ان سے مصافحہ کرتے ہیںان کی دعاؤں پر آمین کہتے رہتے  ہیں یہاں تک کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے-جیسے ہی فجر طلوع ہوتی ہے (حضرت) جبریل  ، ندا دیتے ہیں:ائے فرشتو! واپس چلو! واپس چلو!ملائکہ کہتے ہیں:ائے جبریل !امت محمدیہ علی صاحبھا الصوۃ والسلام  کے مؤمنین کی  ضروریات وحوائج سے متعلق اللہ تعالی نے کیا ،کیا ہے؟(حضرت) جبریل  ، فرماتے ہیں:اس رات اللہ تعالی نے ان  کی جانب نظر رحمت اور توجہ خاص فرمائی، انہیں درگزر فرمادیا،اور ان کے گناہوں کو معاف فرمادیا،سوائے چار افراد کے!حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم !وہ چار افراد کون ہیں؟
حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا(1) کثرت سے شراب پینے والا(2)والدین کا نافرمان(3) رشتوں کو توڑنے والا(4) بد عقیدہ-(بیہقی شعب الایمان ،حدیث نمبر(3540)

 شب قدر کے معمولات
اس مقدس رات کی فضیلت وبرکت جاننے کے بعد غفلت میں پڑے رہنا مؤمنین کا شیوہ نہیں،چنانچہ نعمت الہی کاشکر ادا کرنے کی خاطر غسل کرکے عبادات واذکار کا اہتمام کرنا شکر گزار بندوں کا شعار رہا ہے:  قال زر ھی لیلۃ سبع وعشرین فمن ادرکھا فلیغتسل و لیفطر علی لبن و لیکن فطرہ، بالسحر(مصنف عبد الرزاق،باب لیلۃ القدر،حدیث:)ترجمہ:حضرت زربن حبیش رحمہ اللہ نے فرمایا : شب قدر ستائیسویں شب ہے تو جوکوئی اسے پائے چاہئے کہ وہ غسل کرے اور دودھ سے افطار کرے۔

شب قدر میں کی جانے والی دعاء
جامع ترمذی ، مسند امام احمد اور زجاجۃ المصابیح  میں حدیث شریف ہے:
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَیُّ لَیْلَۃٍ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ مَا أَقُولُ فِیہَا قَالَ  قُولِی اللَّہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی-
ترجمہ:ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ والہ وسلم : اگر مجھے شب قدر مل جائے تو اس میں، میں کیا دعا پڑھوں؟ توحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: یہ دعا پڑھو:"اللَّہُمَّ إِنَّکَ عَفُوٌّ کَرِیمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی"ائے اللہ! تو بہت معاف فرمانے والاہے، اور معافی سے محبت رکھتاہے پس آپ مجھے معاف فرمادے۔(جامع ترمذی،ابواب الدعوات،باب ای الدعاء افضل، حدیث نمبر( 3855)
از ضیاء ملت مولانا مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی قادری دامت برکاتہم العالیہ
 شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر

Tuesday, 23 August 2011

اصولی بات

0 comments


نوجوان کو یوں لگا جیسے اس قتالہ کی جلد ایک شیشہ ہے جس میں تیز گلابی رنگ کی شراب بھر دی گئی ہے۔اس کی غزالی آنکھیں شباب کے نشے میں چور تھیں۔نوجوان پر اس حسین ساحرہ نے ایسا جادو کیا کہ کسی معمول کی طرح اس کے پیچھے چل پڑا فٹ پاتھ پر آگے چلتے ہوئے دونوں باغ جناح کے مقابل پہنچ گئے۔درختوں کے سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے اور گرمی کی شدّت میں کمی آچکی تھی۔
پھولوں سے لدی سدا بہار جھاڑیوں کے ایک کنج کے پاس وہ رکی اور پلٹ کر بڑی بے باکی سے پوچھا :
مال ہے جیب میں یا مفت خورے ہو؟
ایک لمحہ کے لئے نوجوان کا سارا بدن پتھر ہوگیا پھر جیسے ہی سارمعاملہ سمجھ آیا اس کی باچھیں کھل گئیں:
لمبا مال ہے ،تم فکر نہ کرو۔ لیکن چلیں گے کہاں؟ وہ بے تابانہ پوچھنے لگا۔
جواب ملا :جگہ کا بندوبست تمہارا ہوگا۔
ایک جگہ ذہن میں آئی ہے ۔ وہ قدرے توقف کے بعد چٹکی بجاتےہوئے بولا اور سڑک سے گزرتے ہوئے ایک خالی رکشہ کو ہاتھ دے دیا۔
چلو چلیں۔۔۔
پہلے تمہیں ایک وعدہ کرنا ہوگا وہ ایک دم سنجیدہ ہو گئی۔
کیسا وعدہ ؟ نوجوان نے حیرت سے پوچھا۔
افطار تک مجھے ہاتھ نہ لگاؤ گے، میرا رووزہ ہے۔

Saturday, 20 August 2011

حسرت موہانی

0 comments
 
انگریزی نقادٹی ایس ایلیٹ کے مضمون ـ
”Tradition & Individual Talents”
کاایک اہم اقتباس:۔
“The most individual part of his work may be those in which the dead poets, his ancesters, assert their immortality most vigorously” (Published-1919)
اس اقتباس میں ایلیٹ نے شاعری کو غیرفانی ہونے کے لیے جس اہم خوبی کا ذکر کیا ہے، حسرت جو تقریباً13سال بڑے تھے، کافی پہلے اس مخصوص خوبی کی حاصل شاعری کا آغاز کرچکے تھے۔ اس لیے حسرتؔ کی شاعری لافانی تصور کی جاتی ہے، جو اردوشاعری کی تاریخ میں قدیم اورجدید کے درمیان ایک عبوری حیثیت رکھتے ہیں۔
غالبؔ و مصحفیؔ و میرؔ و نسیمؔ و مومنؔ
طبع حسرتؔ نے اٹھایا ہے ہراستاد سے فیض
حسرتؔ موہانی کا نام سید فضل الحسن اور حسرتؔ تخلص تھا۔ 1875میں قصبہ موہان ضلع کانپور، یوپی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم عربی وفارسی اپنے ہی قصبہ میں حاصل کی اور ہائی اسکول کاامتحان فتح پور سے پاس کیا اور 1903میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ شاعری کاشوق دوران طالب علمی سے ہی ہوگیا تھا۔ علی گڑھ پہنچنے پر ان کی شاعری کو مزید جلا ملی۔ تسنیم لکھنوی اور نسیم دہلوی سے اصلاح سخن حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں زبان لکھنؤ میں دہلی کا رنگ ہے۔
پیرو تسلیم ہوں، شہدائے انداز نسیمؔ
شوق ہے حسرتؔ مجھے اشعار حسرتؔ خیز کا
حسرتؔ کے زمانہ میں غزل کو ناقدری کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا اور کافی اعتراض ہوا کرتے تھے۔
ہوچکے حالیؔ غزل خوانی کے دن
راگنی بے دقت کی اب گائیں کیا
حسرتؔ نے ایسے زمانہ میں غزل کو گلے لگایا۔ چاہے معاملہ عشق کا ہو، تصوف کا ہو سیاست کا ہو، رنج کا ہو یاخوشی کا ہو، پابندسلاسل ہوں یا آزاد ہوں، غزل کا دامن نہیں چھوڑا اورغزل کی روایتوں کو ازسرنو زندگی بخشتے ہوئے اس کو اتنے بلند مقام پر پہنچایا کہ انہیں ’امام المتغزلین‘ کا لقب عطاہوا۔ عام طورسے غزل کی مقبولیت جہاں اس کا ایجاز و اختصار ہے، وہاں جذبات نگاری اور عشقیہ شاعری کی صداقت بھی ہر دل پراثر کرتی ہے۔ حسرتؔ کی عشقیہ شاعری میں ایک سیدھے سادے انسان کے دل کی واردات نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں ایک چلتے پھرتے محبوب کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں۔ ان کا محبوب خیالی نہیں حقیقی ہے۔جوشرم و حیا کا پیکر بھی ہے۔ دانتوں میں انگلی دبانا، ننگے پائوں آنا وغیرہ باتیں شرم وحیا کی تصویر پیش کرتی ہیں۔
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد  ہے
یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیں اکثر ہر گھر میں پڑھی اور سنی جاتی ہیں۔ ان کے کافی اشعار ضرب المثل ہیں۔ دواشعار پیش ہیں۔
خرد کانام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
توڑ کر عہد کرم ناآشنا ہوجائیے
بندہ پرور جائیے اچھا خفا ہوجائیے
حسن وعشق کے معاملات میں غزل کی صنف میں وہ منفرد حیثیت رکھتے ہیں جو ایک نئی تحریک تصور کی جاتی ہے۔ ان کے یہاں نازک رشتوں اوراحساسات کا کھلا ہوا اظہار ملتاہے جو ان سے پہلے کسی شاعر کی غزلوں میں نہیں ملتا۔انہوںنے اپنی شاعری میں عشق کا پاکیزہ تصور پیش کیا ہے اور اپنے جذبات کی صداقت کو عشق کی پاکبازی اور شیفتگی میں تلاش کرتے ہیں۔ وہ جمالیاتی تخیل کے زبردست محرک ہیں۔ حسرتؔ جہاں غزل کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں وہاں وہ ایک محب وطن کےلحاظ سے بھی تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوںنے 1921میں احمدآباد کانگریس کے اجلاس میں ہندوستان کی ’’کامل آزادی‘‘ کی قرارداد پیش کی تھی۔ انہیں کئی بار انگریزی حکومت کے ظلم و استبداد کا شکار ہونا پڑا۔ لیکن ان کی شاعرانہ طبیعت کبھی ماندنہ پڑی۔ وہ مصیبتوں اورآلام کو شعرکی رنگینیوں میں چھپادیتے تھے۔ ایک بار جب وہ موسم گرما میں رمضان کے مہینہ میں روزہ کی حالت میں قیدوبند کی مصائب جھیل رہے تھے۔
ہے مشق ستم جاری چکی کی مشقت بھی
ایک طرفہ تماشہ ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی
انگریز حکومت نے انتقاماً ان کے نایاب کتب خانہ کوردی میں فروخت کردیا تو اپنے دکھ اور صبر کو اس حسین شعر میں ڈھال دیا۔
سرگرم ناز آپ کی شان جفا ہے کیا
باقی ستم کا اور ابھی حوصلہ ہے کیا
حسرتؔ اشتراکیت سے کافی متاثر تھے اور ہندوستان کی مذہبی و لسانی ہم آہنگی کے لیے اشتراکی نظام کو ترجیح دی۔ ان کو بال گنگا دھرتلک سے خاصی عقیدت تھی۔ ان کے انتقال پرکانپور گزٹ میں ایک مرثیہ لکھا جو شخصی مرثیہ کی اچھی مثال ہے جس میں انہوںنے اپنے جذبات کو اشعار میں پیش کیا ہے۔
وہ ایک ادیب اورصحافی بھی تھے۔ انہوںنے علی گڑھ سے ایک رسالہ اردوئے معلیٰ جاری کیا تھا۔ تحریک آزادی میں شامل ہونے کی وجہ سے اس رسالہ کی ضمانت ضبط کرلی گئی اور کئی بارجیل جانا پڑا۔ ’انتخاب سخن، کے نام سے ایک سلسلہ بھی شروع کیا تھا۔ جس میں اساتذۂ غزل کے مختصر تعارف کے ساتھ ان کا بہترین انتخاب پیش کرتے تھے۔ حسرت نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی مگر بنیادی طورپر وہ غزل کے ہی شاعر ہیں بطور نمونہ غزل کے چنداشعار:
حسرت جفا ئے یار کو سمجھا جو تو وفا
آئین اشتیاق میں بھی یہ روا ہے کیا؟
حسرتؔ پھر اور جاکے کریں کس کی بندگی
اچھا جو سر اٹھائیں بھی اس آستاں سے ہم
بڑھ گئیں کچھ تم سے مل کر اور بھی بے تابیاں
ہم یہ سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیبا کردیا
بجا ہیں کوششیں ترک محبت کی مگر حسرتؔ
جو پھر بھی دل نوازی پر وہ چشم سحرکار آئی
غزل کے دامن کو اپنے متنوع خیالات سے مالامال کرکے امام المتغزلین حسرتؔ موہانی 13مئی1951کو رحلت فرماگئے۔
مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لوگ
مٹتے نہیں ہیں دہر سے جن کے نشاں کبھی

Sunday, 14 August 2011

اصلی حکمران

0 comments

اے تاریخ، لکھ لے یہ سب کچھ
عین اُس وقت جب کہ عرب و عجم کے حکمران لہو و لعب میں غرق،
خیانتوں کے مرتکب اور اپنے  فرائض سے بے خبر تھے،
اس دھرتی پر ایسے حکمران بھی تھے جو دورِ عمر کی تاریخ  کو دہرا رہے تھے۔
1.JPG
 ظہر کی نماز کے بعد وزیروں کے ساتھ ایک میٹنگ
************************

اللہ اللہ ، تمہاری یہ انکساری اور تواضع
  جن راستوں پر تم چلتے ہو، وہ راستے عرب و عجم کے حکمرانوں سے پوشیدہ ہیں کیا؟
اے فلسطین کی شرعی قیادت! تمہارے وزیر صیہونی جیلوں میں،
تمہیں قتل کرنے کی آئے دن کی کوششیں ، تمہارے کئی وزیر شہادت  کے مرتبہ پر فائز،
تم  خود شہادت کے متمنی، تم  چلتے پھرتے غازی،
تم سوتے جاگتے اُٹھتے بیٹھتے صیہونیت اور صیہونیوں کی کٹھ پتلیوں کے نشانوں پر،
اغیار اور اغیار کے آلہ کار تمہارے خون کے پیاسے، پھر بھی تم اتنے نڈر؟
میں  اللہ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ تمہاری قیادت نے کبھی بھی چٹائیوں پر بیٹھنے میں عارمحسوس  نہیں کی تھی!
اور تمہارے دل اُن سے جڑے ہوئے جن کے دل اللہ سے جڑے ہوئے تھے، قیامت تک کا ساتھ!
2.JPG
اے اللہ، اپنے ان عاجز اور منکسرمزاج بندوں کو  فتح اور نصرت سے نواز دے یا رب!
************************
3.JPG
تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ
عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (القصص83)
(یہ) وہ آخرت کا گھر ہے جسے ہم نے ایسے لوگوں کے لئے بنایا ہے جو نہ (تو) زمین میں سرکشی و تکبر چاہتے ہیں
اور نہ فساد انگیزی، اور نیک انجام پرہیزگاروں کے لئے ہے
یا اللہ، یہ کس قسم کے لیڈر ہیں، ٹھٹھرتی سردی میں فٹ پاٹھ پر بیٹھ کر اپنے ساتھیوں کا انتظار کرتے ہوئے۔
************************
4.JPG
ہم نے تو  نہ دیکھا  اور نہ ہی  کبھی  یہ سنا تھا   کہ کوئی وزیرِ اعظم جھاڑو  اُٹھائے سڑکوں پر صفائیاں کرتا تھا۔
جب بھی دیکھا یا  سنا  تو یہی کہ قیادتیں ہاتھوں میں قینچی اُٹھائے صرف لال ربن کاٹا کرتی تھیں۔
سارے اچھے رواج تم ہی ڈالو گے کیا؟
************************
5.JPG
شہیدوں اور صیہونی قید میں  پابندِ سلال خاندانوں کے بچوں کو اپنے ہاتھوں سے کھلاتے ہوئے۔
************************
6.JPG
مشائخ اور علماء کرام کی عزت تیرا وطیرہ رہا ہے۔
************************
7.JPG 
  اللہ اکبر، اے اللہ اسلام کو فتح و نصرت سے نواز دے۔
میں گواہ ہوں کہ تو نے غزہ میں لشکر کی بنادیں ڈالی تھیں۔
ایسے لشکر، جو تیرے پیچھے سمندر میں کود جائیں گے،
اگر تو پہاڑ پر چڑھے گا تو تیرے شانہ بہ شانہ ہونگے۔
وزیرِ اعظم صاحب، سوٹ تو تبدیل کر لیتے یہ جفا کشی کرتے ہوئے!!!
************************
8.JPG
9.JPG
 آپ بچوں سے پیار کرتے تھے تو بچے بھی آپ سے محبت کرتے تھے ۔
************************
10.JPG
 اے انوکھے وزیرِ اعظم صاحب، آپ نے تو سچ کر دکھایا کہ حکمران کی جگہ تو اپنی رعایا اور عوام میں ہوتی ہے۔
************************
11.JPG
کوئی بھی تو ایسا  عوامی کھانا  نہیں ہے جس پر فخر کیا جائے!
لوبیا، چنوں کا ملیدہ، ماش کے پکوڑے، یہی ہے ناں عوامی کھانا؟
تو نے وہی کھایا جو تیری رعایا اور عوام نے کھایا۔
تیرے جیسے اور وزیرِ اعظم تو پورے بکرے پر بھی راضی نہ ہوتے ہوں شاید؟
نہ تیرا منصب اس میں رکاوٹ بنا  ہے اور نہ ہی تیرا سوٹ بوٹ۔
اے تاریخ لکھ لے یہ سب کچھ۔
آنے والی نسلوں کو تو نے بتانا ہے کہ جب اسی کرہ ارض پر ہمارے حکمرانوں جیسے لوگ تھے،
عین اُسی وقت یہ فقیر منش  انسان بھی حاکم ہوا کرتا تھا۔
************************
12.JPG

جب وزیرِ اعظم جناب اسماعیل ھنیہ نے قطر کا دورہ کیا  
تو لوگوں کے دلوں میں ان کیلئے محبت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا۔
************************
13.JPG
وزیرِ اعظم جناب اسماعیل ھنیہ  صاحب حرم شریف میں حاضری دیتے ہوئے۔
************************
14.JPG
16.JPG
یہ مسلم حکمران مسلمانوں کی نماز کیلئے امامت کراتا ہے،
قرآن شریف کی احکامات کے مطابق تلاوت ہو یا کہ  خطبہ دینا ہو، وہ  ہر معاملے میں ممتاز ہے۔
************************
17.JPG
کیا آپ کسی ایسے حکمران  کو جانتے ہیں  جو اذان کی آواز سنے تو اپنی ملاقات
پر آئے ہوئے وفد کی نماز کیلئے امامت کرے؟
جی ہاں ! اس تصویر میں وزیرِ اعظم صاحب ترکی سے آئے وفد کی اپنے آفس میں امامت کرا رہے ہیں۔
یہی نہیں، ہر نماز کے اوقات میں انکے دفتر میں ہر قسم کا کام موقوف کر دیا جاتا ہے۔
************************
جب کبھی کسی ساتھی کی شہادت  کی خبر آتی ہے،
اندرونی و  بیرونی محاصرے  کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے
یا  حکومت چلانے میں دشواری پیدا کی جاتی ہےتو درد  بڑھ جاتے ہیں۔
18.JPG
بات اگر عوام کے دکھ درد کی ہو یا ذمہ داریوں کا احساس،
جذبات آنسوؤں کا روپ بھی دھار لیتے ہیں۔
************************
ہزار تصویروں کی ایک تصویر ، اسماعیل ہنیہ صاحب ایک معمر خاتون کے آنسو پونچھتے ہوئے،
صیہونی فوجیوں نے اس عورت کا مکان مسمار کر دیا تھا۔
19.JPG
یا اللہ، کیسا عظیم حکمران ہے یہ!!!
اور کتنی محبت ہے اس کے دل میں اپنی رعایا کیلئے!!!
************************
20.JPG
وزیرِ اعظم صاحب اپنے دفتر میں بھی وہی  دال ہی کھاتے ہیں
جو ان کی عوام کے کسی غریب شخص کے گھر میں پکتی ہے۔
************************
21.JPG
سنت پر پابندی تو ہر حال میں کی جائے گی۔
اسماعیل ہنیہ صاحب ایک نو مولود کے کان میں اذان دیتے ہوئے۔
************************
22.JPG
غزہ پر ظالموں کے محاصرے میں باہر نکل کر عوام سے یک جہتی کا اظہار ،
ایک ضعیف عورت سے اسکا حال احوال پوچھتے اور تسلی دیتے ہوئے۔
************************
23.JPG
غزہ پر محاصرے  کے دوران
بچوں سے ہنسی مذاق کر کے ان کے چہروں پر مسکراہٹ  لاتے ہوئے۔
************************
سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسالم کے ارشاد کے مطابق کہ
تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داریوں  کا جواب لیا جائے گا ۔
اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرتے ہوئے ، جو راتوں کو اُٹھ کر عوام کی خبر گیری کیا کرتے تھے۔
وزیرِ اعظم صاحب ایک غریب اور نادار خاندان  کے گھر پر افطاری کیلئے تشریف لے گئے۔
24.JPG
 
25.JPG
 
26.JPG
 
27.JPG
************************
   اور تو  اور، ایک ایسے شخص نے بھی وزیرِ اعظم صاحب کو دعوت دے ڈالی
جسکا گھر 20 مربع میٹر سے بھی چھوٹا تھا۔
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/39.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/40.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/41.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/44.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/45.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/46.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/47.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/38.jpg
************************
مدینہ رفحہ کی مسجد بلال بن رباح کے امام صاحب کی دعوت پر تشریف لے گئے،
نہ صرف یہ کہ نماز تراویح کی امامت کی، بلکہ بعد میں ایک خطبہ بھی دیا،
کیوں نہ جاتے، آخر یہ مسجد اس سال 40 حفاظ کا تحفہ جو پیش کرنے جا رہی ہےناں۔
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/08.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/03.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/00.jpg
 
 http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/01.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/06.jpg
 
************************
جی ہاں، کفایت شعاری کی مہمیں ہمارے ہاں بھی خوب چلتی ہیں،
درونِ خانہ کون جانتا ہے کیا  کفایت ہوتی ہے۔
مگر اس وزیرِ اعظم صاحب کی تو کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے نا!
ملاحظہ فرمائیے وزیرِ اعظم ہاؤس!
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/14.jpg
 
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/31.jpg
 
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/36.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/32.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/35.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/33.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/16.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/27.jpg
 
http://i1202.photobucket.com/albums/bb367/hajisahb1/ismaeel%20hania/29.jpg
 
اے اباالعبد، اللہ تیری حفاظت فرمائے،
تیری سیرت تو گلاب کے پھولوں سے بھی زیادہ مہک رکھتی ہے،
مگر میری آنکھوں سے یہ آنسو کیوں نکل آئے ہیں
یہ چھوٹا سا  نذرانہ عقیدت ہے  میری طرف سے، خراجِ تحسین ہے تیری عظمت کو۔
یا اللہ اپنے اس بندے کو عمرِ مدید عطا فرما،
اے اللہ،غزہ کو ظالموں کے محاصرے سے آزادی دے یا رب!
************************