Thursday, 29 September 2011

انسان اللہ کے وجود کا انکار کیوں کرتاہے؟

0 comments



امریکہ سے ڈرو؟

0 comments


Wednesday, 28 September 2011

اللہ کے نام

0 comments


اللہ کی صفات

0 comments


Sunday, 25 September 2011

وحی کا آغاز

0 comments










Saturday, 24 September 2011

وہ جو کعبہ کو گرانا چاہتے تھے؟

0 comments

Wednesday, 21 September 2011

اینی میشن میں کیئریر

0 comments
 


ٹکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہی آج اینی میشن کی دنیا میں بہت تیزی کے ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور کئی اوورسیج کمپنیاں اینی میشن کے لئے پاکستان کا رخ کر رہی ہیں، کیونکہ یہاں کم قیمت میں اچھی خاصیت کا کام انہیں مل رہا ہے۔ بڑے شہروں میں اینی میشن فلموں میں کرداروں کے مکالموں کے لئے آواز دینے کا کام جزوقتی پروفیشن بنتا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں اب یہ تفریح کے میدان تک ہی محدود نہیں رہ گیا ہے، بلکہ تعلیم اور ورچول ریئلٹی جیسے کئی میدانوں میں اپنی موجودگی درج کرا چکا ہے۔
فکی کی رپورٹ کے مطابق اینی میشن اور گرافکس انڈسٹری ہمارے ملک میں 35 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے۔ دوسری جانب نیس کام نے بھی امیدوں کے چراغ روشن کئے ہیں کہ پاکستان میں اینی میشن انڈسٹری کا گراس ریونیو سال 2011تک تقریباً32کروڑ یو ایس ڈالر کو عبور کر جائے گا۔ اینی میشن تیزی کے ساتھ اپنے پیر مارکیٹ میں پھیلا رہا ہے۔ اس نے روزگار کی نئی راہیں استوار کی ہیں۔ اینی میشن میں بہتر مستقبل، کورسیز اور اہلیات نیز تنخواہ وغیرہ سے قبل یہ جاننا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آخر اینی میشن کیا بلاہے؟
دراصل اینی میشن محض کارٹون بنانے کی تکنیک ہی نہیں بلکہ اس کی دراندازی گیمنگ ایجوکیشن ، موبائل،کھلونے، فلم، اشتہار، بروڈ کاسٹنگ، ویب انٹرٹینمنٹ ،اسپیشل افیکٹ اور آر کیٹیکچر وغیرہ میں بھی ہو گئی ہے۔ان حالات میں تخلیقی صلاحیت رکھنے والے نوجوانوں کے لئے اس میدان میں بے شمار مواقع ہیں۔ اینی میٹڈ فلموں کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔فلموں میں اسپیشل افیکٹس نے بھی اپنی ایک خاص جگہ بنا لی ہے۔ لہٰذا ان حالات کے مدنظر اس میدان میں مانگ میں اضافہ ہونا لازمی ہے۔
اینی میشن صنعت میں وسیع ہوتے مواقع کو دیکھتے ہوئے آج کئی سرکاری اور ذاتی اداروں نے اس کورس کو شامل کر لیا ہے۔ کچھ ادارے تو خاص طور پر اینی میشن کے کورس کے لئے ہی مشہور ہیں۔ طلباء کو اینی میشن کورس کا انتخاب مارکیٹ میں ڈیمانڈ کو دیکھتے ہوئے کرنا چاہئے۔ اچھے ادارے اپنے طلباء کو خاص طور سے تھری ڈی اسٹوڈیو،میکس،سافٹ امیج، آفٹر افیکٹس،اڈوب پریمئر جیسے پیکیج کی ٹریننگ دیتے ہیں۔ ساتھ ہی وہاں طلباوطالبات کو گرافکس ڈیزائننگ، اسٹوری بورڈ اور سنے میٹو گرافی کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے۔ بیشتر اداروں میں اینی میشن سے وابستہ کورس ہی کرائے جاتے ہیں،جن کی مدت 6ماہ سے دو سال تک ہوتی ہے۔ کچھ اداروں نے اب اس میں ڈگری سطح کے کورسیز بھی شروع کر دئے ہیں۔ان کورسیز کے لئے کم سے کم اہلیت 10+12ہے۔ اس معاملہ میں اداروں کی اپنی اپنی الگ بنیاد ہے۔ اس میدان میں کریئر بنانے کے لئے آپ کی تخلیقی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ڈرائنگ اور اسکیچنگ میں پکڑ ہونی چاہئے۔
اینی میشن کا کورس کرنے والے طلباء فلم اینی میٹر، وزول آرٹسٹ ،سینئر اینی میٹر اور ویب آرتھر جیسے عہدوں پر کام کر سکتے ہیں۔شروعاتی دور میں ایک اینی میٹر کو 10سے 15ہزار روپے ماہانہ تنخواہ آسانی سے مل جاتی ہے۔
اہم ادارے 


Monday, 19 September 2011

اگر آخرت میں الفاظ ہی رہ گئے تو۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

0 comments

Saturday, 17 September 2011

ایک کلک پر کمپیوٹر لاک

0 comments

پرائیوٹ فولڈر لاک کیجئے

0 comments

Friday, 16 September 2011

قرآن کا معجزہ

0 comments

Thursday, 15 September 2011

کابل کے سپوت

0 comments
ہلری کلنٹن چینخ اُٹھی ۔۔۔۔ ہم خوف زدہ نہیں ہونگے۔
اوباما پریشان ۔۔۔اور کرزی منظرنامے سے غائب ہوگئے۔


یہ خوف یہ پریشانی اور یہ حواس باختگی فطری ہے،کیونکہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے دو دن میں اتنے بڑے حملے کئے جس نے وائٹ ہاوس اور پینٹاگون کے مکینوں کی نیندیں حرام کردی۔پہلے صوبہ وردگ میں امریکی فوجی مرکز میں امارت اسلامیہ کے ایک شاہین نے امریکی طلسم کو خاک میں ملادیا،اور اسکے بعد امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے کے کابل کے قلب میں نیٹو ہیڈ کواٹر،امریکی سفارت خانے اور انٹیلی جنس کے دفاتر کو 20گھنٹوں تک اپنے حملوں کی زد میں رکھا۔پورا مغرب اور امریکا خوف زدہ ہوا امریکا میں یہ خوف بہت زیادہ محسوس کیا گیا ہے،کابل میں کٹھ پتلی انتظامیہ کے فوجیوں پولیس اور امریکی فوجیوں نے اپنا پورا زور لگایا مگر ان کی ایک نہ چلی، امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی کاروائی کو آگے بڑھایا اور پورے شہر کی سیکورٹی کو مصروف رکھا،کرزئی کی سیکورٹی کا پول پوری دنیا کے سامنے کھل گیا،کابل شہر سے انتہائی مصدقہ اطلاعات میں بتایا گیا کہ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے پوری رات قابض افواج اور ان کے حلیفوں پر حملے کئے۔یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس علاقے میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے کٹھ پتلی انتظامیہ اور قابض افواج کے مرکز پر حملہ کیا وہ پورے کابل میں سب اہم سیکورٹی زون میں ہے۔ اس علاقے کی حفاظت پر سب سے زیادہ اہلکار مامور تھے ،مگراُن کی تمام تدابیر خاک میں مل گئے،اور ٹی وی کی سکرین پر نمودار ہونے والے ان کے ا ہلکاروں کی آنکھوں چہروں سے خوف عیان تھا۔شہر میں امریکی سیکورٹی پلان دھرا کادھرا رہ گیا،اور نائن الیون کی تقاریب پر راست جواب سامنے آیا۔امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے جہاں نائن الیون پر امریکا کو یہ پیغام دیا کہ دس سال قبل رونما ہونے والے واقعے میں وہ کسی بھی طور پر ملوث نہیں تھے،ساتھ ساتھ انہوں نے پوری دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ افغانستان میں جہا ں چاہیں قابض افواج کی نیندیں حرام کرسکتے ہیں،دوسری جانب ساسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کابل پر ہونے والے حالیہ اس حملے نے مغربی حکام کو یہ بتا دیا کہ طالبان اب کابل میں بہت زیادہ مضبوط ہوگئے ہیں،کابل کے دروازے وردگ میں طالبان کے اثرونفوذ کسی سے مخفی نہیں اور اب دارالحکومت کابل میں حالیہ کاروائیوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ طالبان ہر جگہ موجود ہیں، اور اب اس بات کا اعتراف کٹھ پتلی انتظامیہ کے اہلکار بھی کرتے ہیں،مگر ہم کہتے ہیں کہ طالبان تو کبھی کابل سے گئے ہی نہیں تھے وہ کل جتنے مضبوط تھے آج اس سے کئی گناہ زیادہ مضبوط اور مستحکم ہیں اس طرح کے حملے تو صرف ایک جھلک ہوتی ہے،ورنہ طالبان کابل کے لوگوں کے دل میں رہتے ہیں،اور یہ طوفان جب اُٹھے گا توبہت ساروں کو بہہ کر لے جائے گا،



فی الحال کابل کے سپوتوں کو سلام

دوسرے کی بیوی

0 comments

Monday, 12 September 2011

ٹوٹ بٹوٹ

0 comments
لڑکا
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
باپ تھا اس کا میر سلوٹ
پیتا تھا وہ سوڈا واٹر
کھاتا تھا بادام اخروٹ
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
ہر اک اس کی چیز ادھوری
کبھی نہ کرتا بات وہ پوری
ہنڈیا کو کہتا تھا ہنڈی
لوٹے کو کہتا تھا لوٹ
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
امی بولی بیٹا آؤ
شہر سے جا کر لڈو لاؤ
سنتے ہی وہ لے کر نکلا
جیب میں ایک روپے کا نوٹ
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
اتنا اس کا جی للچایا
رستے میں ہی کھاتا آیا
کھاتے کھاتے آئی ہچکی
دانت میں اس کے لگ گئی چوٹ
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ
بھائی اسے اٹھانے آیا
ابا گلے لگانے آیا
امی اس کی روتی آئی
ہائے میرا ٹوٹ بٹوٹ
ہائے میرا ٹوٹ بٹوٹ
ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ

شاعر کا  نام : صوفی غلام مصطفی  تبسم

Thursday, 1 September 2011

میں نے سوچا۔۔۔۔

2 comments

پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے
چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے
اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح
خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں
اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہو
مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی آنکھیں کہاں چاند تارے کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑا سا نورِ سحر
میں سحر سے چُرا کر اُسے بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نور اُس کا کہاں نور صبح کا کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھٹاؤں کو ہی بھیج دوں
اُس کے آنگن میں اُتر کر رقص کرتی رہیں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی زلفیں کہاں یہ گھٹائیں کہاں
پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِک مئے سے بھرا جام ہی بھیج دوں
پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے عالم کے ہیں جتنے بھی میکدے
اُس کی آنکھوں کی مستی ہی بانٹی گئی
ساغر و مئے کہاں اُس کی آنکھیں کہاں
اُس کے قابل مجھے کچھ بھی نہ لگا
چاند تارے ہوا اور نہ ہی گھٹا
میں اسی سوچ میں تھا پریشان بہت
کہ کسی نے دی اِک نِدا اس طرح
یاد کرکے اُسے جتنے آنسو گریں
سب کو یکجا کرو اور اُسے بھیج دو۔